بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای-رکشاؤں کے بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) میں سائبر سکیورٹی کی خامیاں اور تصدیقی اداروں کا کردار

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 5:03PM by PIB Delhi

انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی-اِن) کو برقی تین پہیہ گاڑیوں (ای-رکشاؤں) سے متعلق حفاظتی خدشات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، عوامی طور پر دستیاب بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) کی ایک موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے غیر مجاز افراد چلتی ہوئی ای-رکشاؤں کو اچانک بند کر سکتے ہیں۔ یہ خامی بیٹری ماڈیول میں نصب بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) کے بلوٹوتھ ماڈیول میں پائی گئی ہے۔ کم قیمت ای-رکشاؤں میں استعمال ہونے والے بی ایم ایس میں عموماً پہلے سے طے شدہ حفاظتی اسناد (ڈیفالٹ کریڈینشلز) موجود ہوتی ہیں یا سرے سے کوئی حفاظتی اسناد نہیں ہوتیں، جس کے باعث غیر مجاز افراد آسانی سے اس سے منسلک ہو کر اس کی ترتیبات میں رد و بدل کر سکتے ہیں یا بیٹری سے برقی توانائی کی فراہمی منقطع کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی اچانک بند ہو سکتی ہے۔ سی ای آر ٹی-اِن نے ان موبائل ایپس کی بھی نشاندہی کر لی ہے جن کے ذریعے ای-رکشاؤں کی بیٹریوں کو اچانک بند کیا جا سکتا ہے اور انہیں ایپلی کیشن پلے اسٹورز سے ہٹانے کے لیے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (میٹی) کو آگاہ کر دیا ہے۔

بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے ای-رکشاؤں میں بلوٹوتھ پر مبنی بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) کی سائبر سکیورٹی سے متعلق خامیوں کے ازالے کے لیے سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (سیام)، آٹو موٹیو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے سی ایم اے)، متعلقہ صنعتی اداروں اور جانچ کرنے والی ایجنسیوں کو ایک مشاورتی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت (ایم او آر ٹی ایچ) سے موصولہ معلومات کے مطابق، ای-رکشاؤں اور ای-کارٹس کے لیے ابھی تک سائبر سکیورٹی سے متعلق ضابطے وضع نہیں کیے گئے ہیں۔ تاہم، ایل زمرے کی برقی گاڑیوں کے لیے بیٹری کی حفاظتی ضروریات اے آئی ایس-156 میں مقررہ معیارات کے مطابق ہونا لازمی ہیں، جبکہ برقی پاور ٹرین کی حفاظت اے آئی ایس-038 (نظرثانی 2) کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ مزید برآں، سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے 17 جون 2026 کے جی ایس آر 503(ای) کے ذریعے ایل، ایم اور این زمرے کی گاڑیوں کے لیے اے آئی ایس-189 اور اے آئی ایس-190 کے مطابق سائبر سکیورٹی سے متعلق منظوری کے قواعد کا مسودہ جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ، سنٹرل موٹر وہیکل رولز، 1989 کے قاعدہ 126 کے تحت ہر موٹر گاڑی، بشمول برقی گاڑی، کے تیار کنندہ یا درآمد کنندہ کے لیے لازم ہے کہ وہ گاڑی کے نمونے (پروٹوٹائپ) کو قاعدہ 126 کے تحت نامزد جانچ ایجنسی کے پاس منظوری کے لیے پیش کرے۔ جانچ ایجنسی موٹر وہیکلز ایکٹ، 1988 اور سنٹرل موٹر وہیکل رولز، 1989 کی دفعات کی تعمیل کی تصدیق کے بعد ٹائپ اپروول سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔

یہ معلومات آج بھاری صنعتوں کے وزیرمملکت جناب بھوپتی راجو سری نواس ورما نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

********

ش ح ۔ م م ۔ م ا

Urdu No-652


(रिलीज़ आईडी: 2289905) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati