جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کی جانب سے ’’سوجل گرام سمواد‘‘ کے 9ویں ایڈیشن کا انعقاد


آٹھ گرام پنچایتوں کے ساتھ کثیر لسانی مکالمہ میں گرام پنچایتوں کی قیادت میں  سماجی شمولیت کے ذریعے طویل مدتی پانی کے تحفظ اور پائیدار آبی سلامتی پر زور

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 6:47PM by PIB Delhi

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے )ڈی ڈی ڈبلیو ایس)، وزارتِ جل شکتی نے آج کثیر لسانی "سوجل گرام سمواد" کے نویں ایڈیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا، جس کے ذریعے جل جیون مشن 2.0 کے تحت کمیونٹی کی قیادت میں پانی کے انتظام کے لیے حکومت کے عزم  کا اعادہ کیا گیا۔

آن لائن  سمواد میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں گرام پنچایت(جی پی) کے نمائندے، گاؤں کی پانی اور صفائی کمیٹیوں(وی ڈبلیو ایس سی) کے اراکین، سماج کےمختلف طبقوں کے افراد، جل سہائیاں، جل بہنیاں، جل سکھیاں، آنگن واڑی کارکنان، طلبہ، اساتذہ، اور گرام پنچایتوں کے فرنٹ لائن کارکنان شامل تھے۔ اس کے علاوہ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلع کلکٹر/ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر، ضلعی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن ( ڈی ڈبلیو ایس ایم)کے افسران، اور ریاستوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

اس سمواد کی صدارت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ(ڈی ڈی ڈبلیو ایس)  کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینانے کی۔ اس موقع پر جناب کمل کشور سوان، ایڈیشنل سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر(اے ایس اینڈ ایم ڈی) ، قومی جل جیون مشن(این جے جے ایم) ، جناب ڈی سینتھل پانڈین، جوائنٹ سیکریٹری، این جے جے ایم ، اور پینے کے پانی و صفائی ستھرائی کے محکمے کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے  (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)کے سیکریٹری جناب اشوک کےکےمینا نے "سوجل گرام سمواد" کو گرام پنچایتوں کے تجربات اور چیلنجز سے سیکھنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تبادلۂ خیال کے دوران شیئر کیے گئے بہترین طریقۂ کار دیگر گرام پنچایتوں کو اپنے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

جناب اشوک کےکے مینا نے اس بات پر زور دیا کہ پینے کا پانی اور صفائی ستھرائی کے شعبے 73ویں آئینی ترمیم کے تحت پنچایتی راج اداروں کو سونپے گئے موضوعات ہیں۔ انہوں نے دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے پائیدار انتظام کے لیے گرام پنچایتوں کو فنڈز، اختیارات اور عملے کی مؤثر منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کی پانی اور صفائی کمیٹیوں(وی ڈبلیو ایس سی) کے ذریعے کمیونٹی کی فعال شمولیت اور ذمہ داری، خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور سابق فوجیوں کی شرکت، دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

گرام پنچایتوں کی آواز

گرام پنچایت — سبے گاؤنڈین پُدور، ضلع — کوئمبٹور، تمل ناڈو:تمل زبان میں گرام پنچایت سبے گاؤنڈن پُدور کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران انہوں نے بتایا کہ گرام پنچایت نے تمام گاؤں اور آبادیوں میں 100 فیصد ’’ہر گھر جل‘‘ کا ہدف مکمل کر لیا ہے۔ یہاں بھوانی اور  الیار دریاؤں سے حاصل کیے گئے سطحی پانی کے ذریعے 55 لیٹر فی کس فی دن (ایل پی سی ڈی )پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

 

کمیونٹی کے افراد نے پانی کے معیار کی جانچ کے لیے فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے سیلف ہیلپ گروپس کی فعال شمولیت اور محفوظ پانی کے استعمال سے متعلق باقاعدہ  بیداری مہمات کو نمایاں کیا۔ گرام پنچایت صارفین سے ماہانہ 50 روپے یعنی سالانہ 600 روپے بطور صارف فیس وصول کرتی ہے۔

 اس کے علاوہ، ضلع اور ریاستی حکام نے بتایا کہ ضلع کو 29 جون 2024 کو "ہر گھر جل" قرار دیا گیا تھا۔ وہ جل سیوا آکنلن، پانی کے ذرائع کی پائیداری کے اقدامات، اور نئے گھریلو نل کنکشنز کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ پائیدار خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پینے کے پانی کے ذرائع کے تحفظ اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ضلعی ذریعۂ پائیداری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ مشن کے تحت تقریباً 80,000 خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) کے گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے۔

گرام پنچایت — بریارپور، ضلع — لکھیسریا، بہار:گاؤں کے نمائندوں نے انگیکا زبان میں اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے جل جیون مشن (جے جے ایم )سے پہلے پانی کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ بہت سی آبادیوں میں پینے کے پانی کے لیے ہینڈ پمپ اور مقامی طور پر موجود  مختلف ذرائع پر انحصار کیا جاتا تھا۔گھریلو نل کنکشن نے خواتین کی مشکلات کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔ اس تبادلۂ خیال میں ضلع کی جانب سے دور دراز قبائلی آبادیوں تک پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کو وسعت دینے اور پانی کی اسکیموں کے آپریشن اور دیکھ بھال  (او اینڈ ایم) میں سماجی شمولیت کو مضبوط بنانے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ضلع کے حکام نے بتایا کہ جن قبائلی بستیوں تک پانی کی سہولت نہیں پہنچی تھی، وہاں سروے مکمل کر لیے گئے ہیں، اور پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیمیں مرحلہ وار نافذ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ضلعی پانی اور صفائی مشن  (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے باقاعدہ اجلاسوں اور مکمل شدہ اسکیموں کو پائیدار انتظام کے لیے بتدریج گرام پنچایتوں کے حوالے کرنے کے عمل کو بھی نمایاں کیا۔

گرام پنچایت — سونمرگ بی، ضلع — گاندربل، جموں و کشمیر:گرام پنچایت سونمرگ کے گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ہندی زبان میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران بتایا گیا کہ گرام پنچایت کو کششِ ثقل پر مبنی چشموں کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے ذریعے پینے کا پانی حاصل ہوتا ہے، جس سے پہاڑی علاقے میں پینے کے پانی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی قدرتی چشموں کے تحفظ اور ان کی بحالی میں فعال طور پر حصہ لیتی ہے، جبکہ نوجوانوں کے گروپس سیاحتی علاقوں کے اطراف ماحول کے تحفظ اور صفائی ستھرائی میں تعاون کرتے ہیں۔ گاؤں والوں نے یہ بھی بتایا کہ کمیونٹی کی ملکیت اور شمولیت نے پانی کی اسکیموں کے آپریشن اور دیکھ بھال  ( او اینڈ ایم )کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ہمالیائی خطہ ہونے کی وجہ سے پہلے لوگ ندی نالوں کے پانی پر انحصار کرتے تھے، لیکن جل جیون مشن ( جے جے ایم) کے تحت موصل پائپ پانی کی فراہمی کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے شدید سردیوں میں بھی انہیں بلاتعطل پانی فراہم ہو رہا ہے۔

ضلع کے حکام نے بتایا کہ ضلع میں تقریباً 30 چشموں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا ہے، پائیدار آبی تحفظ کے لیے ضلعی بہتری کے منصوبے تیار کیے گئے ہیں، اور پانی کے ذرائع کی پائیداری، کششِ ثقل سے چلنے والے نظام  اور دیگر پروگراموں و مقامی اداروں کے ساتھ اشتراک کو مسلسل ترجیح دی جا رہی ہے۔

گرام پنچایت — للین، ضلع — مامِت، میزورم:مامِت کے گاؤں کے افراد کے ساتھ تبادلۂ خیال میزوری زبان میں کیا گیا۔ مستفید ہونے والے افراد نے بتایا کہ گاؤں کی پانی اور صفائی کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی )نے کمیونٹی کی قیادت میں آپریشن اور دیکھ بھال  (اور اینڈ ایم) کا ایک مؤثر نظام قائم کیا ہے۔

پانی کی پائپ لائن میں رساؤ  کی اطلاع فوری طور پر واٹس ایپ گروپس کے ذریعے دی جاتی ہے، جبکہ مقامی طور پر مقرر کیے گئے پلمبرز اور پمپ آپریٹرز شکایات کا بروقت ازالہ کرتے ہیں۔ کمیونٹی کے افراد نے پانی کے تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں باقاعدہ  بیداری مہمات کو بھی نمایاں کیا۔

ضلع کلکٹر نے بتایا کہ ضلعی پانی اور صفائی مشن ( ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں اور ان کی کارروائی کی تفصیلات آن لائن اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

پانی کے ذرائع کی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جنگلات، دیہی ترقی اور واٹرشیڈ پروگراموں کے ساتھ اشتراک کو مضبوط کیا جا رہا ہے، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں جہاں قدرتی پانی کے ذرائع بتدریج خشک ہو رہے ہیں۔

گرام پنچایت — ایٹوری، ضلع — شاہجہاں پور، اتر پردیش:گاؤں کے نمائندوں نے اپنے تجربات ہندی زبان میں بیان کیے۔ جل جیون مشن( جے جے ایم کے تحت فراہم کیے گئے گھریلو نل کے پانی کے کنکشنز نے محفوظ پینے کے پانی تک رسائی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے، جس سے پانی لانے کی مشقت کم ہوئی ہے اور سماجی صحت اور فلاح و بہبود میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرام پنچایت، گرام سبھا کے اجلاس میں پانی کی فراہمی کے نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال  (اور اینڈ ایم) پر باقاعدگی سے تبادلۂ خیال کرتی ہے، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور پانی کے تحفظ کو فروغ دیتی ہے، اور اسکیم کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے سماجی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

 

گاؤں کے نمائندوں نے یہ بھی بتایا کہ بیداری  مہمات باقاعدگی سے منعقد کی جا رہی ہیں، اور گرام پنچایت پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل کی بروقت اطلاع دینے اور ان کے حل کو فروغ دے رہی ہے۔

 اس کے علاوہ ، ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ کوڈا اور کورا قبائلی آبادیوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاکہ دور دراز اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز کو بھی گھریلو نل کنکشنز کے ذریعے محفوظ پانی دستیاب ہو سکے۔

انہوں نے ضلعی پانی اور صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے باقاعدہ اجلاس،سماج میں بیداری  کے لیے "جن چوپال" پروگراموں، اور گرام پنچایتوں کو "جل سارَتھی ایپ" کے بارے میں خصوصی تربیت فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔

گرام پنچایت — فریدپور، ضلع — پانی پت، ہریانہ:گاؤں کے نمائندوں نے ہریانوی زبان میں اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ گرام پنچایت نے کمیونٹی کی قیادت میں آپریشن اور دیکھ بھال ( او اینڈ ایم)کا ایک مضبوط نظام تیار کیا ہے۔ گھرانوں سے ماہانہ صارف فیس وصول کی جاتی ہے اور اسے معمول کی مرمت کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی طور پر مقرر کیے گئے پمپ آپریٹرز اور پلمبرز پانی کے رساؤ اور دیگر خرابیوں کو فوری طور پر درست کرنے کو یقینی بناتے ہیں۔ صارف فیس کے طور پر ماہانہ مجموعی طور پر 13,000 روپے آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔

 اپنی مدد آپ گروپوں سے وابستہ خواتین فیلڈ ٹیسٹ کٹس کے ذریعے باقاعدگی سے پانی کے معیار کی جانچ کرتی ہیں، جبکہ اسکول کے بچے، آشا کارکنان اور آنگن واڑی کارکنان پانی کے تحفظ اور محفوظ پانی کے استعمال کے طریقوں سے متعلق  بیداری مہمات چلاتے ہیں۔ گرام پنچایت شکایات کے ازالے اور بروقت دیکھ بھال کے لیے واٹس ایپ گروپس اور ماہانہ کمیونٹی اجلاس کا بھی استعمال کرتی ہے۔

 

ضلع اور ریاستی حکام نے بتایا کہ ہریانہ ریاستی آبی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے  اپنی مدد آپ  گروپ کی خواتین کو صارف فیس کی وصولی، پانی کے معیار کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے کاموں میں شامل کر رہا ہے، جس سے دیہی پانی کی فراہمی کی اسکیموں میں  سماجی   حصہ داری  اور شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔فریدپور گرام پنچایت آپریشن اور دیکھ بھال ( او اینڈ ایم) پالیسی کے نفاذ میں پیش پیش ہے۔

گرام پنچایت — ہُسیر، ضلع — کھونٹی، جھارکھنڈ:گاؤں کے نمائندوں نے سدری زبان میں اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ جل جیون مشن( جے جے ایم) نے زیادہ تر قبائلی آبادی والی گرام پنچایت میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ گھریلو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جانے سے دور دراز ندی نالوں سے پانی لانے کی ضرورت ختم ہوئی ہے اور صحت کے حالات میں بہتری آئی ہے۔گرام سبھا اسکیم کے آپریشن اور دیکھ بھال( او اینڈ ایم) کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔ باقاعدہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مقامی پمپ آپریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ گرام پنچایت نے کمیونٹی کی قیادت میں صارف فیس کا نظام اپنایا ہے، جس کے تحت ہر گھر سے ماہانہ 30 روپے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو اس فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔پنچایت ہر ماہ تقریباً 9,400 روپے جمع کرتی ہے، جسے پمپ آپریٹر اور پلمبر کی ادائیگی، معمول کی مرمت، اور پائپ لائن میں ہونے والے رساؤ کے ازالے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح پانی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اسکیم میں کمیونٹی کی ملکیت اور شمولیت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

ضلع کے حکام نے بتایا کہ ایک منظم نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت ضلعی اور بلاک سطح کے افسران کو باقاعدہ فیلڈ دوروں کے لیے گاؤں تفویض کیے گئے ہیں۔ ہر چوتھے ہفتے کے ہفتہ کو جل جیون مشن ( جے جے ایم) کے نفاذ کا جائزہ لینے اور فیلڈ سطح کے مسائل حل کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع، گاؤں کی پانی اور صفائی کمیٹی ( وی ڈبلیو ایس سی )سے آگے بڑھ کر کمیونٹی کی ملکیت کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑے رقبے کی کثیر المقاصد کوآپریٹو سوسائٹیز (ایل اے ایم پی ایس ) ، بنیادی زرعی قرض سوسائٹیز  (پی اے سی ایس )اور  اپنی مدد آپ گروپوں کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے، تاکہ آپریشن اور دیکھ بھال، صارف فیس کی وصولی، اور دیہی پینے کے پانی کے نظام کوطویل مدت تک کے لیے مستحکم کیا جا سکے ۔

گرام پنچایت — کوٹ دھی، ضلع — بلرام پور، چھتیس گڑھ:گاؤں کے نمائندوں نے ہندی زبان میں اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ جل جیون مشن ( جے جے ایم) نے محفوظ پینے کے پانی تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، جبکہ دور دراز ذرائع سے پانی لانے کی مشکلات کو کم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تربیت یافتہ کمیونٹی افراد فیلڈ ٹیسٹ کٹس کے ذریعے ہر پندرہ دن بعد پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی کرتے ہیں۔ جانچ کے نتائج فوری طور پر ایک مخصوص واٹس ایپ گروپ کے ذریعے گاؤں والوں کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں، جس سے شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور پانی کے معیار کے بارے میں  سماجی بیداری میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گندے پانی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے سوک پٹس تعمیر کیے گئے ہیں، جو صفائی ستھرائی میں بہتری اور ماحولیاتی پائیداری میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کو  فروغ دینے اور گاؤں میں پانی کی فراہمی کے اثاثوں کی دیکھ بھال میں  سماجی شمولیت کو بڑھانے کے لیے باقاعدگی سے  بیداری مہمات بھی چلائی جاتی ہیں۔ گرام پنچایتیں دیہی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے آپریشن اور دیکھ بھال ( او اینڈ ایم)میں مدد کے لیے 15ویں مالیاتی کمیشن (کی گرانٹس کا استعمال کر رہی ہیں۔

ضلع اور ریاستی حکام نے بتایا کہ وی بی-گرام جی اور دیگر پروگراموں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پانی کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی ترقیاتی اقدامات کے بارے میں بھی بتایا، جن کا مقصد پانی کے ذرائع کی پائیداری کو مضبوط بنانا اور دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔

 اے ایس اور ایم ڈی – این جے جے ایم ، جناب کمل کشور سون نے جل جیون مشن ( جے جےایم) کے لیے اپنے عزم اور پر ضلعی کلکٹرز اور گرام پنچایتوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے 16ویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس کے مؤثر استعمال پر زور دیا، جن کے لیے رہنما اصول  جلد ہی جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسکیموں کی فعالیت کا جائزہ لینے، عمل درآمد سے متعلق چیلنجز کو حل کرنے، اور خدمات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے ضلعی پانی اور صفائی مشن  ( ڈی ڈبلیو ایس ایم)کے باقاعدہ اجلاس کی ضرورت پر زور دیا۔

پانی کے ذرائع کی پائیداری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ پینے کے پانی کے ذرائع کے تحفظ اور بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی بلاتعطل پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی حاصل ہوتی رہے۔

انہوں نے ضلعی کلکٹرز اور ضلع مجسٹریٹس سے مزید اپیل کی کہ وہ جل ارپن پروگراموں میں فعال طور پر حصہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام مقررہ ضابطوں پر عمل کیا جائے، تاکہ کمیونٹی کی ملکیت اور جواب دہی کو فروغ دیا جا سکے۔

گرام پردھانوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب سون نے انہیں ترغیب دی کہ وہ باقاعدگی سے ای-گرام سوراج پورٹل پر اپنے گاؤں کی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی صورتحال کا جائزہ لیں، باخبر فیصلے کرنے کے لیے دستیاب معلومات کا استعمال کریں، اور گرام سبھا کے اجلاس کے ذریعے  سماج کے ساتھ اس صورتحال کو فعال طور پر شیئر کریں۔ اس سے شفافیت،  سماجی شمولیت، اور پائیدار دیہی پینے کے پانی کی خدمات کے لیے اجتماعی ذمہ داری کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

سمواد کا آغاز جناب وائی کے سنگھ، ڈائریکٹر، قومی جل جیون مشن ( این جے جے ایم) کے ذریعے پس منظر اور مقاصد کی وضاحت کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس سمواد کا مقصد گاؤں کے مختلف طبقات  کی بات سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا، اور آپریشن و دیکھ بھال  (اور اینڈ ایم) اور پانی کے ذرائع کی پائیداری سے متعلق مقامی طریقۂ کار کو  فروغ دیناہے۔

********

ش ح۔  ع و۔ ش ب ن

U-NO-638


(रिलीज़ आईडी: 2289822) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi