نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام 2026‘‘ کے شرکاء سے خطاب کیا
نوجوانوں میں ملک کی تعمیر کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے میں اس اقدام کا مؤثر کردار دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے: وزیر اعظم
وکست گاؤں ہی وکست بھارت کی مضبوط بنیاد ہیں: وزیر اعظم
ہماری حکومت نے سرحدی گاؤں کو ملک کے ’’پہلے گاؤں‘‘ کا درجہ دیا ہے: وزیر اعظم
’وکست وائبریَنٹ ولیج‘ کا یہ سفر سب کو جوڑنے اور سب سے جڑنے کا مؤثر ذریعہ ہے: وزیر اعظم
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2026 8:51PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام 2026‘‘ کے شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے ملک بھر سے بھرپور شرکت کا ذکر کرتے ہوئے تقریباً 250 اضلاع کی نمائندگی کرنے والے پُرجوش نوجوانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
وزیر اعظم نے چند برس قبل قائم کیے گئے ’’میرا یوا بھارت ‘‘ پلیٹ فارم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم سے اب کروڑوں نوجوانوں کو وابستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پلیٹ فارم سے وابستہ نوجوانوں کی ملک گیر سرگرمیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’وکست بھارت ڈائیلاگ‘‘ سے لے کر ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام‘‘ تک نوجوانوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا بخوبی مظاہرہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا، ’’آج ’مائی بھارت‘ کے نوجوان پورے ملک میں نہایت قابلِ ستائش خدمات انجام دے رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے ’’وکست بھارت ینگ لیڈرس ڈائیلاگ‘‘ کے دوران اس زمینی سطح کے اقدام کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد نوجوانوں کو صرف ورچوئل دنیا تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کی زمینی حقیقتوں سے روشناس کرانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت نوجوانوں کو ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور لداخ کے سرحدی گاؤں کا دورہ کرایا گیا تاکہ وہ وہاں کی ثقافت، طرزِ زندگی اور حب الوطنی کے مضبوط جذبے کو قریب سے دیکھ سکیں۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے تقریباً تین لاکھ درخواست دہندگان میں سے 400 سے زائد نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا، جنہوں نے ان سرحدی علاقوں میں جا کر مقامی تہذیب و ثقافت کو قریب سے جانا اور وہاں کے باشندوں کے ساتھ وقت گزارا۔وزیر اعظم نے کہا، ’’اپنی ثقافت کو وہاں کی ثقافت سے جوڑنا درحقیقت ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے تصور کی بہترین مثال ہے۔‘‘
حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل سرحدی علاقوں کے اپنے پرانے دوروں کے دوران وہاں کے لوگوں سے قائم ہونے والے گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے دیوالی کا تہوار سرحد پر تعینات فوجیوں کے ساتھ مناتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے تازہ تجربات کو اپنے ذاتی مشاہدات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے سرحدی علاقوں کے عوام کی بے مثال محبت، خلوص اور مسلح افواج کے غیر معمولی حوصلے کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ کارگل وجئے دیوس کے موقع پر انہوں نے ملک کے بہادر فوجیوں کی عظیم قربانیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔وزیر اعظم نے کہا، ’’ہمارے بہادر سپاہیوں نے نہایت دشوار حالات میں فتح کا پرچم بلند کیا، اور ’وکست وائبریَنٹ ولیج‘ پروگرام کا یہ پورا تجربہ واقعی بے حد شاندار رہا ہے۔‘‘
ترقی یافتہ گاؤں کو ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر کی بنیادی اساس قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے اور اس میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب نوجوان زمینی سطح پر عوام سے جڑتے ہیں تو نہ صرف ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو مزید وسعت ملتی ہے بلکہ ان کے دلوں میں ملک کی خدمت اور اس کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا عزم بھی مزید مضبوط ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا، ’’جب ملک کا نوجوان زمینی حقیقتوں سے جڑتا ہے تو وہ ’وکست بھارت‘ کے وژن کو مزید وسیع اور مضبوط بناتا ہے۔‘‘
سرحدی علاقوں کی مشکل زندگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہاں کے لوگ سخت ترین حالات کے باوجود ہر لمحہ حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان علاقوں کو ’’ملک کا آخری گاؤں‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تھا اور انہیں بنیادی سہولتوں، جیسے سڑک، بجلی، پانی، اسکول اور اسپتال سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ اتنی شدید محرومیوں اور مشکلات کے باوجود سرحدی گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں وطن سے محبت اور قومی جذبہ کبھی کمزور نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں اس بات پر بے حد فخر ہونا چاہیے کہ ایسے انتہائی دشوار حالات میں بھی سرحدی گاؤں کے لوگوں کی حب الوطنی کبھی ذرہ برابر بھی کمزور نہیں ہوئی۔‘‘
حکومت کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سرحدی بستیوں کو اب ملک کے ’’آخری گاؤں‘‘ کے بجائے ’’پہلے گاؤں‘‘ کا درجہ دیا گیا ہے، جہاں صبح کی پہلی کرن اور سب سے پہلے ترنگا وطن کا استقبال کرتے ہیں۔ انہوں نے آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بجلی، سڑک، نل کے ذریعے پانی، گیس کنکشن اور معیاری انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہری سہولتیں سرحدی علاقوں کے عوام کی روزمرہ زندگی اور زرعی معیشت میں بنیادی تبدیلی لا رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’یہ صرف اور صرف سوچ میں اس تاریخی تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے سرحدی علاقے تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ نئی بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں سیاحت کو نئی زندگی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو گاؤں کبھی ویران تھے، آج وہاں دوبارہ رونقیں لوٹ آئی ہیں، بیٹیوں کے لیے تعلیم کے بہتر مواقع پیدا ہوئے ہیں اور مقامی لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وائبریَنٹ ولیج پروگرام‘‘ سرحدی گاؤں کی ہمہ جہت ترقی کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے سرحدی گاؤں کے اس دورے کو ’’شمولیت کے ذریعے قومی یکجہتی‘‘ کا ایک مؤثر سفر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے وہاں صرف مہمان نوازی ہی حاصل نہیں کی بلکہ مقامی ثقافت، عزت و احترام اور زندگی کے ایسے عملی اسباق بھی سیکھے جو کسی کلاس روم میں حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے ان تجربات کو دوسرے نوجوانوں تک پہنچائیں اور انہیں بھی ان علاقوں کا دورہ کرنے کی ترغیب دیں، کیونکہ اس سے وہاں مزید جدید سہولتوں کی فراہمی کی رفتار بھی بڑھے گی۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’بھارت کا نوجوان جتنا زیادہ سرحدی گاؤں کو سمجھے گا، ہمارا ملک اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوگا۔‘‘
سرحدی سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت کی کوششوں کو مزید وسعت دینے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس دورے میں شامل ہر نوجوان سے اپیل کی کہ وہ اپنے تجربات کم از کم ایک سو دیگر نوجوانوں کے ساتھ ضرور شیئر کرے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مقامی کانٹینٹ کریئیٹرز کے ساتھ مل کر علاقائی ثقافت اور مقامی مصنوعات کو فروغ دینے، انٹرنیٹ پر مستند معلومات شیئر کرنے، اہلِ خانہ کے ساتھ ان علاقوں کی سیر کا منصوبہ بنانے اور اپنے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی دوروں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی تلقین کی۔ انہوں نے کہا، ’’میں پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ آپ میں سے ہر نوجوان اپنے حقیقی تجربات کم از کم ایک سو دیگر نوجوانوں تک ضرور پہنچائے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے نوجوان نسل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی کی دنیا کی سمت متعین کرنے کی حقیقی صلاحیت بھارت کے نوجوانوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی ’’وکست بھارت‘‘ کی اصل توانائی ہیں اور ترقی یافتہ ہندوستان کے سب سے بڑے استفادہ کنندہ بھی۔ وزیر اعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جب نوجوان ملک کے مسائل اور ان کے حل سے براہِ راست جڑیں گے تو بھارت کا مستقبل یقیناً روشن ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہماری نوجوان طاقت ملک کے چیلنجوں اور ان کے حل سے براہِ راست وابستہ ہوگی تو مستقبل یقیناً روشن ہوگا۔‘‘
******
(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)
UR. No-624
(रिलीज़ आईडी: 2289723)
आगंतुक पटल : 16