قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے تربیت، تکنالوجی اور عدالتی اصلاحات کے ذریعہ ملک بھر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کو مضبوط کیا

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 9:07PM by PIB Delhi

وزارتِ داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023 (بی این ایس ایس)، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، 2023 (بی این ایس ایس) اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم، 2023 (بی ایس اے) یکم جولائی 2024 سے ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں، جن میں متعلقہ اطلاعات (نوٹیفیکیشنز) اور قواعد و ضوابط جاری کرنا، ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کو اپنانا اور متعلقہ فریقوں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا شامل ہے۔

پولیس اہلکاروں اور دیگر ریاستی سطح کے فریقوں کی تربیت کا کام بنیادی طور پر متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتیں انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ نے تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ماسٹر ٹرینرز اور دیگر فریقین کے لیے استعداد کار بڑھانے کے پروگرام اور ویبنارز منعقد کیے ہیں۔

سال 2024 سے لے کر اب تک، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ نے کرمنل جسٹس سسٹم کے پانچ ستونوں سے وابستہ 83,740 افسران اور فریقین کو تربیت فراہم کی ہے، جن میں ماسٹر ٹرینرز (اہم تربیت کار) بھی شامل ہیں۔ عہدے/کیڈر کے لحاظ سے، ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لحاظ سے اور سال بہ سال کی تفصیلات انیکسچر-I (ضمیمہ-1) میں دی گئی ہیں۔ ماسٹر ٹرینرز کی خدمات متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے تربیتی اداروں کے ذریعے مزید تربیتی پروگرام منعقد کرنے کے لیے بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ایسی تربیت کی تفصیلات انیکسچر-II (ضمیمہ-2) میں دی گئی ہیں۔

سال 2024 میں جاری ہونے والی تازہ ترین 'کرائم ان انڈیا' رپورٹ کے مطابق، منظم جرائم اور دہشت گردی کے تحت درج کیے گئے مقدمات کی ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات (ضمیمہ- III) میں دی گئی ہیں۔
ایسے درج شدہ مقدمات کی تعداد کا ڈیٹا، جن میں الیکٹرانک شواہد اور کمیونٹی سروس کی دفعات کا فائدہ اٹھایا گیا تھا، وزارتِ داخلہ کی طرف سے برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش سمیت ملک بھر میں یکم جولائی 2024 سے نیائے سنہتا نافذ العمل ہیں۔ مزید یہ کہ آئینِ ہند کے ساتویں شیڈول کے مطابق 'پولیس' اور 'عوامی امن و امان' (پبلک آرڈر) ریاستوں کے دائرہ اختیار کے موضوعات ہیں۔ قانون و انصاف برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ بشمول جرائم اور مجرموں کی تفتیش اور استغاثہ کی ذمہ داریاں متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہیں، اور وہ قانون کی موجودہ دفعات کے تحت ایسے جرائم سے نمٹنے کی اہل ہیں، جس میں نیائے سنہتا کا نفاذ بھی شامل ہے۔ تاہم، مرکزی حکومت مختلف اسکیموں کے تحت نظامِ عدلِ مروجہ کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے مالی امداد فراہم کر کے ان کی کوششوں میں تعاون کرتی ہے، جن میں انٹر-آپریبل کرمنل جسٹس سسٹم 2.0، فارنسک صلاحیتوں کی جدید کاری کی اسکیمیں اور نربھیا فنڈ کے تعاون سے چلنے والے پروجیکٹس شامل ہیں۔

ہائی کورٹ آف مدھیہ پردیش کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ستنا ضلع سمیت پوری ریاست میں بھارتیہ نیائے سنہتا، 2023، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، 2023 اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم، 2023 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی کے ذریعے عدالتی افسران کو واقفیت اور تربیت فراہم کی گئی ہے۔ نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کو آسان بنانے کے لیے کیس انفارمیشن سسٹم اور ای-کورٹس سافٹ ویئر میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں۔ ضلعی عدلیہ کی ہائی کورٹ کے انتظامی شعبے کی جانب سے باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ نظام کی ہموار تبدیلی اور مقدمات کے جلد تصفیے کو یقینی بنایا جا سکے۔ مستقبل کے لائحہ عمل میں عدالتی افسران اور عدالتی عملے کی مستقل استعداد کار میں اضافہ، ڈیجیٹل عدالتی انفراسٹرکچر کی مضبوطی، ای-کورٹس مرحلہ- III پر مؤثر عمل درآمد، کیس مینجمنٹ کے لیے ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال، اور شہریوں کی سہولت کے مطابق فوجداری انصاف کی فراہمی کے لیے رسائی، شفافیت اور کارکردگی میں بہتری لانا شامل ہے۔

یہ جانکاری قانون و انصاف کے مرکزی وزیر جناب ارجن رام میگھوال جی کے ذریعہ لوک سبھا میں ایک تحریری جواب دی گئی۔

ضمیمہ


**********

 (ش ح –ن ا)

U.No:600


(रिलीज़ आईडी: 2289556) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी