قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اہل ووٹروں کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات کے ساتھ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی مرحلہ وار جاری

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 9:05PM by PIB Delhi

قانون و انصاف کے مرکزی وزیرجناب  ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی پریس نوٹ کے مطابق انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن - ایس آئی آر) ملک بھر میں مختلف مراحل میں کی جا رہی ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست، تازہ ترین اور نااہل یا نقل شدہ اندراجات سے پاک بنانا ہے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے محروم نہ رہ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا مرحلہ ریاست بہار میں 2025 کے اسمبلی انتخابات سے قبل انجام دیا گیا۔ اس مرحلے کے دوران بوتھ سطح کے افسران (بی ایل اوز) نے گھر گھر جا کر مردم شماری نما اندراجی عمل مکمل کیا، اندراجی فارم تقسیم اور جمع کیے، انتخابی فہرست کا مسودہ شائع کیا، دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے مقررہ مدت فراہم کی، اور مناسب جانچ کے بعد حتمی انتخابی فہرست جاری کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے دوران چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، کیرالہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تمل ناڈو، اتر پردیش، مغربی بنگال اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں انڈمان و نکوبار جزائر، لکشدیپ اور پڈوچیری میں یہی عمل اختیار کیا گیا۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ تیسرے مرحلے میں وہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں جو پہلے دو مراحل میں شامل نہیں تھے، جن میں قومی راجدھانی علاقہ دہلی بھی شامل ہے۔ یہ عمل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق جاری ہے یا تجویز کیا گیا ہے، اور انتظامی ضروریات کے مطابق اس شیڈول میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کے دوران مردم شماری، نئے اندراجات، حذف شدہ ناموں اور تصحیحات سے متعلق مجموعی اعداد و شمار الیکشن کمیشن اور متعلقہ ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران کی سرکاری ویب سائٹس پر مرحلہ وار شائع کیے جاتے ہیں۔

جناب ارجن رام میگھوال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام صرف بوتھ سطح کے افسران کی گھر گھر جا کر کی گئی تصدیق کے بعد ہی حذف کیا جاتا ہے، اور حذف کیے جانے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • ووٹر کا انتقال ہو جانا۔
  • مستقل طور پر کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا۔
  • ایک ہی ووٹر کا ایک سے زیادہ مقامات پر اندراج ہونا۔
  • متعدد مرتبہ گھر جانے کے باوجود ووٹر کا سراغ نہ ملنا۔

انہوں نے بتایا کہ اہل ووٹروں کے نام غلطی سے حذف ہونے سے روکنے کے لیے الیکشن کمیشن نے متعدد حفاظتی اقدامات کیے ہیں، جن میں:

  • بی ایل اوز کی جانب سے پیشگی اطلاع اور گھر گھر جا کر کم از کم دو سے تین مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش، اس کے بعد ہی کسی ووٹر کو ناقابلِ سراغ قرار دینا۔
  • نام حذف کرنے سے قبل مقررہ اندراجی فارم میں وجوہات درج کرنا اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کے مطابق کارروائی کرنا۔
  • حتمی انتخابی فہرست جاری کرنے سے پہلے مسودہ فہرست شائع کرنا اور دعوے و اعتراضات (فارم 6، 7 اور 8) داخل کرنے کے لیے قانونی مدت فراہم کرنا۔
  • ضلع مجسٹریٹ یا نامزد اپیلیٹ اتھارٹی کے سامنے اپیل اور اس کے بعد چیف الیکٹورل افسر سے رجوع کرنے کی سہولت۔
  • سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل ایز) کی تعیناتی تاکہ وہ اندراجات کی جانچ کریں اور مردم شماری یا دعوے و اعتراضات کے مرحلے میں کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے 27 مئی 2026 کو ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز و دیگر بمقابلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا و دیگر [رٹ پٹیشن (سی) نمبر 640/2025] میں اپنے فیصلے میں ایس آئی آر عمل کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ کارروائی عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کے تحت الیکشن کمیشن کے قانونی اختیارات کے دائرے میں ہے اور آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری سے مطابقت رکھتی ہے۔

جناب ارجن رام میگھوال نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے ہر مرحلے پر داخلی معیار کی جانچ بھی کرتا ہے، جس میں نگران افسران کے ذریعے بی ایل اوز کی مردم شماری کی کراس ویریفکیشن، حذف شدہ اندراجات کے بے ترتیب نمونوں کا آڈٹ، اور مسودہ و حتمی انتخابی فہرستوں کو عوام، سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کی جانچ کے لیے شائع کرنا شامل ہے۔ دعوے اور اعتراضات کی مدت کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی جانچ کی جاتی ہے اور اگر وہ درست پائی جائیں تو حتمی فہرست جاری کرنے سے قبل متعلقہ ووٹر کا نام دوبارہ شامل کر دیا جاتا ہے۔

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U : 606


(रिलीज़ आईडी: 2289503) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English