راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

راجیہ سبھا  کے چیئرمین نے نو منتخب اور راجیہ سبھا  کے نامزد اراکین کے لیے دو روزہ تعارفی پروگرام ’’ پرارمبھ ‘‘  کا افتتاح کیا


جناب سی پی رادھا کرشنن  نے کہا کہ ایک دستاویز  یعنی  ’’ہمارا آئین، ایک ویژن ‘‘  یعنی  ’’ ملک مقدم  ‘‘ (راشٹر پرتھم)  اور ایک ہدف  یعنی  وکست بھارت @ 2047 ، ہمیں متحد کرتا ہے

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ آپ کی تشکیل کردہ ہر پالیسی، آپ کا اٹھایا گیا ہر سوال، آپ کے ذریعے منظور کیا گیا ہر قانون اور ہر وہ بحث  ، جس میں آپ حصہ لیتے ہیں، بے شمار افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتی ہے

جناب سی پی رادھا کرشنن نے اراکین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے بروقت اور مؤثر  اقدامات  نہ صرف کسی پالیسی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں پر بھی دور رس اور مثبت اثرات مرتب کر سکتے

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 3:17PM by PIB Delhi

راجیہ سبھا  کے چیئر مین جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج  2026 کے دو سالہ انتخابات میں نو منتخب اور نامزد اراکینِ راجیہ سبھا کے لیے دو روزہ تعارفی پروگرام  ’’ پرارمبھ ‘‘  کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں راجیہ سبھا  کے   ڈپٹی چیئرمین  جناب ہری ونش، پارلیمنٹ کے معزز اراکین ، راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل جناب پی سی مودی اور راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

دو روزہ تعارفی پروگرام کا آغاز ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا جناب ہری ونش کے خیر مقدمی خطاب سے ہوا۔ جناب ہری ونش نے اس بات پر زور دیا کہ نئے اراکین ایسے وقت میں  ملک  کی پارلیمنٹ کا حصہ بن رہے ہیں  ، جب ملک  ’’  امرت کال ‘‘ سے گزر رہا ہے اور وہ ’’ وکست بھارت @2047‘‘ (2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت) کی تعمیر میں اہم  رول ادا کر سکتے ہیں۔

جناب ہری ونش نے نئے اراکین کو آگاہ کیا کہ انہیں حکومت کو جوابدہ بنانے، تعمیری تنقید پیش کرنے، حکومت کی درست سمت میں رہنمائی کرنے اور مفید مشورے دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اراکین حکومت سے جواب طلب کر سکتے ہیں، عوامی مفاد کے معاملات اٹھا سکتے ہیں اور بلوں کے بارے میں اپنی قیمتی آراء  اور مشورے پیش کر سکتے ہیں۔

اپنے افتتاحی خطاب میں نو منتخب اراکین کو دِلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے چیئرمین راجیہ سبھا جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ 67 اراکین پہلی بار اس ایوان کا حصہ بنے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ اپنی اپنی ریاستوں میں عوامی مصروفیات کے باوجود اراکین نے ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی اس پروگرام میں شرکت کی، جو پارلیمانی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے ان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

راجیہ سبھا کی منفرد خصوصیت کو اجاگر کرتے ہوئے  ، جناب سی پی رادھا کرشنن نے راجیہ سبھا کو بھارت کے وفاقی جمہوری نظام کا بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایوان مختلف ریاستوں اور خطوں کی متنوع آوازوں کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم اس کے اراکین ایوان میں قومی یکجہتی اور قومی  یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ’’ ہم ایک  دستاویز، یعنی آئین؛ ایک  ویژن یعنی ’’ ملک مقدم ‘‘   (راشٹر پرتھم)؛ اور ایک ہدف، یعنی 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت  کے ذریعے متحد ہیں۔ ‘‘

پارلیمانی نظامِ کار کے بنیادی فلسفے پر زور دیتے ہوئے  ، جناب سی  پی  رادھا کرشنن نے کہا کہ اگرچہ قانون سازوں کے درمیان اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، لیکن عوام اور آئین کے تئیں غیر متزلزل وابستگی ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے، کیونکہ آئین ہی سب کے لیے مشترکہ اخلاقی رہنما ہے۔ اپنے بنیادی اصول کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ’’ بحث ہو، تبادلۂ خیال ہو یا حتیٰ کہ احتجاج، ہر صورت میں اس کا انجام کسی فیصلے پر ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسا احتجاج  ، جو بحث اور فیصلہ سازی کی جانب نہ لے جائے، اپنے حقیقی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے اس بات پر زور دیا کہ  وقفۂ سوالات  اور وقفۂ صفر انفرادی اراکین کو عوامی مسائل اٹھانے کے لیے نہایت اہم مواقع فراہم کرتے ہیں ۔  لہٰذا ،   ان کی عظمت   کو کسی بھی قسم کی رخنہ اندازی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایوان کے قواعد و ضوابط سے مکمل واقفیت حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ  ضابطہ  267 کے تحت نوٹس پیش کرنے سے قبل   ، اس  ضابطے  کو پوری طرح سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ  ضابطہ  267 کا استعمال صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں اور وہ بھی ایوان کے اتفاقِ رائے سے ہی کیا جانا چاہیے۔

عوامی نمائندوں کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے  ، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اگرچہ انتخابات ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں، لیکن عوام کا احترام صرف عوامی خدمت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ان کا پوچھا گیا ہر سوال، منظور کیا گیا ہر قانون، مرتب کی گئی ہر پالیسی اور ہر وہ بحث  ، جس میں وہ حصہ لیتے ہیں، عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل کے قانون سازوں کو    ،  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے  ’’   وکست بھارت @2047 ‘‘  کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے کا ایک تاریخی موقع ملا ہے، جس کے ذریعے ترقی  کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے نوجوانوں اور دیہی  کنبوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اپنے  ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے  ، جناب سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی کے عمل میں مؤثر  اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ لوک سبھا کے رکن اور پارلیمانی ذیلی کمیٹی برائے ٹیکسٹائل کے کنوینر کی حیثیت سے ان کی مدت کار میں کمیٹی کی انتھک محنت کے نتیجے میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ اسکیم ( ٹی یو ایف ایس )  کی سفارش کی گئی، جسے بعد ازاں مرکزی حکومت نے نافذ کیا اور جس کے ذریعے ٹیکسٹائل صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں نمایاں مدد ملی۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں کو مکمل لگن اور خلوص کے ساتھ انجام دیں، کیونکہ وقفۂ صفر  ،  وقفۂ سوالات  یا پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں پیش کی جانے والی معمولی سی تجویز بھی بڑے پیمانے پر پالیسی میں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔

پارلیمانی تیاری کے حوالے سے جناب سی پی رادھا کرشنن نے اراکین کو مسلسل سیکھنے کی عادت اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ایوان کے ہر اجلاس سے قبل  ، اس دن کے  کام کاج اور متعلقہ قواعد و ضوابط کا بغور مطالعہ کرتے  ہیں۔ انہوں نے اراکین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ قانون سازی اور بجٹ سازی کے طریقۂ کار، پارلیمانی کمیٹیوں کے نظام، پارلیمانی روایات اور پارلیمانی اخلاقیات پر مکمل عبور حاصل کریں۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے جامع نصاب کی تیاری پر راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل اور سکریٹریٹ کے افسران کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس تعارفی پروگرام میں جدید ڈیجیٹل تقاضوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں پہلی مرتبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے آلات پر عملی تربیتی ورکشاپ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اب مصنوعی ذہانت ( اے آئی )  اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وانی سیتو جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام  ، اب راجیہ سبھا کے ایوان میں متعدد زبانوں میں فوری ترجمانی کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مصنوعی ذہانت ( اے آئی )  اور قدرتی زبان کی پراسیسنگ ( این ایل پی )  جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو فعال طور پر اپنائیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب سی پی رادھا کرشنن نے تمام نو منتخب اراکین کے لیے تعارفی پروگرام کی کامیابی اور  ملک  کی خدمت کے لیے  ، ان کے پارلیمانی سفر کے بامقصد اور نتیجہ خیز ہونے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

…………………

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر  ا  )

U. No. 580


(रिलीज़ आईडी: 2289373) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Tamil