بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اندرون ملک آبی گزرگاہوں اور متعلقہ پروجیکٹوں کی پیش رفت

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 7:46PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے میری ٹائم انڈیا وژن 2030 اور میری ٹائم امرت کال وژن 2047 کے تحت اندرون ملک آبی نقل و حمل کو ملک کے کثیر جہتی نقل و حمل کے نظام کا ایک اہم ستون بنانے کے لیے ایک جامع اور انقلابی مہم شروع کی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد فیئر وے کی ترقی، کثیر ماڈل ٹرمنلز، کمیونٹی جیٹیز، ریور کروز ٹرمینلز، علاقائی مراکزِ امتیاز، ڈیجیٹل نیویگیشن ٹولز اور ماحول دوست جہازوں کی ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی معیار کا آبی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پروجیکٹوں کو پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت باہم مربوط کیا جا رہا ہے۔

قومی آبی گزرگاہوں کی ترقی اور ضابطہ کاری کی ذمہ داری اندرون ملک آبی گزرگاہوں کی بھارتی اتھارٹی  (آئی ڈبلیو اے آئی) کے سپرد ہے، جو بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے۔ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور منظوری کے عمل کو سادہ بنانے کے لیے آئی ڈبلیو اے آئی نے متعدد ڈیجیٹل اصلاحات نافذ کی ہیں، جن میں شامل ہیں:

پانی: اثاثوں اور نیویگیشن سے متعلق معلومات فراہم کرنے والا پورٹل، جو آبی سفر کی منصوبہ بندی کو آسان بناتا ہے۔

جلیان اور ناوک پورٹل: ’واہن‘ اور ’سارتھی‘ کی طرز پر تیار کیا گیا ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل، جس کے ذریعے ملک بھر میں جہازوں اور عملے کی آن لائن رجسٹریشن، درست نگرانی اور مؤثر منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔

کار-ڈی: کارگو ڈیٹا پورٹل، جو سامان کی نقل و حمل کی بروقت نگرانی اور لاجسٹکس ڈیٹا کے انضمام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

جل سمردھی پورٹل: قومی آبی گزرگاہوں پر تجارتی اور آپریشنل سرگرمیوں کی معاونت کے لیے ایک خصوصی پورٹل۔

ڈیجیٹل چارٹس اور ہائیڈروگرافک سروے: محفوظ آبی سفر کو یقینی بنانے کے لیے جدید ہائیڈروگرافک نقشے ڈیجیٹل شکل میں جہاز رانوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ان بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل اصلاحات اور پالیسی اقدامات کے نتیجے میں ملک بھر میں 32 قومی آبی گزرگاہیں فعال ہو چکی ہیں، جس سے ٹیکنالوجی پر مبنی، پائیدار اور عالمی معیار کا اندرون ملک آبی نقل و حمل کا نظام فروغ پا رہا ہے۔ اس سے لاجسٹکس کی لاگت میں کمی، ماحول دوست نقل و حمل کو فروغ اور جامع معاشی ترقی کو رفتار مل رہی ہے۔

لاجسٹکس کی کارکردگی اور ماحولیاتی اثرات کا تقابلی جائزہ

اندرون ملک آبی نقل و حمل، ریل اور سڑک کے مقابلے میں نقل و حمل کا ایک کفایتی اور ماحول دوست متبادل ذریعہ ہے، جو موجودہ نقل و حمل کے نظام پر دباؤ اور ٹریفک کے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔

مال برداری کی لاگت کا تقابلی جائزہ

(2014 کی قیمتوں کی بنیاد پر)

اندرون ملک آبی نقل و حمل: 1.06 روپے فی ٹن-کلومیٹر

ریلوے: 1.36 روپے فی ٹن-کلومیٹر

سڑک (ہائی ویز): 2.50 روپے فی ٹن-کلومیٹر

(ماخذ: وزارتِ ریلوے، TTSS اور IWAI)

ماحولیاتی اثرات اور اخراج کا تقابلی جائزہ

گرین ہاؤس گیسوں (GHG) کا اخراج:اندرون ملک آبی نقل و حمل میں اخراج کی لاگت 0.0006 روپے فی ٹن-کلومیٹر ہے، جو ریلوے کے برابر ہے، جبکہ سڑک کے ذریعے نقل و حمل میں یہ 0.0031 روپے فی ٹن-کلومیٹر ہے، جو اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

فضائی آلودگی کی لاگت:اندرون ملک آبی نقل و حمل میں فضائی آلودگی کی لاگت 0.03 روپے فی ٹن-کلومیٹر ہے، جبکہ ریلوے میں 0.0366 روپے فی ٹن-کلومیٹر اور سڑک کے ذریعے 0.202 روپے فی ٹن-کلومیٹر ہے۔

شور، مٹی اور پانی کی آلودگی:اندرون ملک آبی نقل و حمل سے شور، مٹی اور پانی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سڑک کے ذریعے نقل و حمل میں شور کی آلودگی 0.0032 روپے فی ٹن-کلومیٹر اور مٹی و پانی کی آلودگی 0.005 روپے فی ٹن-کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

(ماخذ: بارہویں پانچ سالہ منصوبہ، پلاننگ کمیشن  ٹی ٹی ایس  اسٹڈی، پی آئی اے این سی )

پالیسی اقدامات اور شعبہ جاتی اصلاحات:

جل واہک اسکیم:اس اسکیم کے تحت کارگو مالکان اور مقررہ آپریٹرز کو قومی آبی گزرگاہ نمبر 1، 2 اور 16 پر ان لینڈ اینڈ کوسٹل شپنگ لمیٹڈ (ICSL) کے ذریعے ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول (IBP) روٹ پر مال برداری کے لیے 35 فیصد مالی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے لیے تین سال کی مدت کے لیے 95.42 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

ٹنیج ٹیکس کی توسیع:یکم فروری 2025 کو پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں انڈین ویسلز ایکٹ، 2021 کے تحت خصوصی ٹیکس نظام کو قومی آبی گزرگاہوں، دریاؤں اور نہروں پر چلنے والے اندرون ملک آبی جہازوں تک توسیع دی گئی۔ اس نظام میں ٹیکس کا تعین جہاز کے خالص منافع کے بجائے اس کی ٹنیج (حجم) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس سے ٹیکس کا بوجھ کم، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی رہتا ہے۔

قومی آبی گزرگاہ ضوابط 2025:نجی شعبے کو آبی گزرگاہوں کے ٹرمنلز اور جیٹیوں کی تعمیر اور آپریشن میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے ایک شفاف ضابطہ جاتی فریم ورک نافذ کیا گیا ہے۔

کارگو ایگریگیشن اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارکس (ایم ایم ایل پی):دریاؤں کے کنارے صنعتی سرگرمیوں کی کمی کے باعث کثیر ماڈل نقل و حمل کے مسائل کے حل کے لیے وارانسی میں ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک (ایم ایم ایل پی) اور صاحب گنج میں انٹیگریٹڈ کلسٹر کم لاجسٹکس پارک، نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (NHLML) کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ تین ملٹی ماڈل ٹرمینلز کو ریل رابطے سے جوڑنے کی ذمہ داری انڈین پورٹ اینڈ ریل کمپنی لمیٹڈ کو سونپی گئی ہے۔

سرکاری اداروں کے کارگو کی آبی گزرگاہوں کی طرف منتقلی:پیٹرولیم و قدرتی گیس، تعاون، کھاد، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم، بھاری صنعت، فولاد اور کوئلہ سمیت اہم وزارتوں کے تحت 140 سے زائد سرکاری اداروں (PSUs) کو اپنی مال برداری کا ایک حصہ آبی گزرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ساحلی جہاز رانی ایکٹ 2025:یہ قانون 15 مارچ 2026 سے نافذ کیا گیا، جس کا مقصد بین الاقوامی معیار کے مطابق ضابطوں کو جدید بنانا، جہاز چارٹرنگ کرنے والی کمپنیوں کی تعداد بڑھانا، قواعد و ضوابط کی پیچیدگی کم کرنا اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔

ساحلی بار برداری کو فروغ دینے کی اسکیم:مرکزی بجٹ 27-2026 میں اعلان کردہ اس اسکیم کا مقصد 2047 تک اندرون ملک آبی نقل و حمل اور ساحلی جہاز رانی کا مجموعی حصہ 6 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنا ہے۔

ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول (IBP) روٹ کا آغاز:ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ نمبر 5 اور 6، جو مایا اور سلطان گنج کے درمیان واقع ہے، کامیاب آزمائشی مال برداری کے بعد باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

علاقائی آبی گزرگاہوں کی ترقی اور ملک گیر صورتحال:شمال مشرقی خطے (NER) کی آبی گزرگاہیں (قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 اور 16)

مکمل ہو چکے منصوبوں، جن میں جوگی گھوپا ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک (MMLP) ٹرمینل، بوگی بیل کارگو و سیاحتی ٹرمنل، دھوبری اور بوگی بیل کے کسٹمز و امیگریشن مراکز اور این ایچ-27 اپروچ روڈ شامل ہیں، کے علاوہ درج ذیل اہم منصوبوں پر کام جاری ہے:

قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 پر ڈریجنگ کارپوریشن آف انڈیا (DCI) کے ذریعے 143 کروڑ روپے کی لاگت سے فیئر وے (جہاز رانی کے راستے) کی ترقی۔

پانڈو میں جہازوں کی مرمت کی سہولت، نظرِ ثانی شدہ لاگت 283 کروڑ روپے۔

بشواناتھ گھاٹ پر سیاحتی جیٹی اور نیامتی گھاٹ پر کارگو و کروز ٹرمنل، مجموعی لاگت 158 کروڑ روپے۔

ڈبرو گڑھ میں علاقائی  مہارت کے مراکز، لاگت 188 کروڑ روپے۔

پانڈو میں یوک سسٹم کے ساتھ اسٹیل گینگ وے، لاگت 2.88 کروڑ روپے۔

فینسی بازار میں علاقائی دفتر، ایم ایس ڈی سی، گیسٹ ہاؤس اور آئی ٹی اے ٹی عمارت، لاگت 50 کروڑ روپے۔

پانڈو ٹرمنل کو جہاز مرمت مرکز سے ملانے والی سڑک، لاگت 55 کروڑ روپے۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 کے لیے 2 اسٹیل پونٹون (3.40 کروڑ روپے) اور 2 ایس ڈی بی جہاز (2.88 کروڑ روپے)۔

بوگی بیل اپروچ چینل کی ریاضیاتی ماڈلنگ، لاگت 0.60 کروڑ روپے اور کمیونٹی جیٹیوں کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (DPR)، لاگت 5.56 کروڑ روپے۔

جنوبی خطے کی آبی گزرگاہیں (کیرالہ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ)

کیرالہ (قومی آبی گزرگاہ نمبر 3، 8 اور 9):

قومی آبی گزرگاہ نمبر 3، 8 اور 9 پر فیئر وے کی ترقی کا کام مسلسل جاری ہے۔

تھریکنّا پُژا میں نیویگیشن لاک اور کوولی تھوٹم میں سنگل لین پل کی ازسرِ نو تعمیر کی ذمہ داری جمع شدہ فنڈز کی بنیاد پر حکومتِ کیرالہ کو سونپی گئی ہے۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 8 پر 15 اور نمبر 9 پر 25 چوبیس گھنٹے فعال نیویگیشن امدادی نظام نصب کیے گئے ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 3 پر 4 ایچ ڈی پی ای جیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

آندھرا پردیش اور تلنگانہ (قومی آبی گزرگاہ نمبر 4):مکتیالہ اور ہری چندر پورم میں زمین کا حصول مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ابراہیم پٹنم میں یہ عمل جاری ہے۔

مکتیالہ اور ہری چندر پورم میں رو-رو ٹرمینلز تیار کیے جا چکے ہیں۔

4 تیرتی ہوئی پونٹون جیٹیاں آندھرا پردیش ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (APTDC) کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

تلنگانہ میں دریائے کرشنا کے لیے 3 اسٹیل کی تیرتی ہوئی پونٹون جیٹیاں تیار کی جا رہی ہیں۔

مشرقی، مغربی اور شمالی خطے کی آبی گزرگاہیں

اوڈیشہ (قومی آبی گزرگاہ نمبر 5، 14 اور 64):قومی آبی گزرگاہوں پر باقاعدگی سے تھالویگ سروے کیے جا رہے ہیں۔

دریائے مہاندی (قومی آبی گزرگاہ نمبر 64) میں 10 نیویگیشن بُوائز نصب کیے گئے ہیں۔

تالچر–دھامرا–پارا دیپ راستے (قومی آبی گزرگاہ نمبر 5) کو کوئلے کی نقل و حمل کے لیے ترقی دی گئی ہے۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 14 اور 64 پر 3 کنکریٹ جیٹیاں تعمیر کی گئی ہیں۔

کرناٹک (قومی آبی گزرگاہ نمبر 51 اور 90):دریائے کابنی (قومی آبی گزرگاہ نمبر 51) اور دریائے شراوتی (قومی آبی گزرگاہ نمبر 90) کو کروز سیاحت کے لیے ترقی دی جا رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے 3 کنکریٹ جیٹیاں تعمیر کی گئی ہیں۔

گوا (قومی آبی گزرگاہ نمبر 27، 68 اور 111):مندووی، زواری اور کمبرجوا دریاؤں کو کروز سیاحت کے لیے ترقی دی گئی ہے۔ یہاں مجموعی طور پر 10 کنکریٹ جیٹیاں فراہم کی گئی ہیں، جن میں قومی آبی گزرگاہ نمبر 68 پر 4 تیرتی ہوئی کنکریٹ جیٹیاں بھی شامل ہیں۔

گجرات (قومی آبی گزرگاہ نمبر 73 اور 100): دریائے نرمدا (قومی آبی گزرگاہ نمبر 73) اور دریائے تاپتی (قومی آبی گزرگاہ نمبر 100) پر ترقیاتی کام کیے گئے ہیں۔

نرمدا میں 2 اور تاپتی میں 2 تیرتی ہوئی کنکریٹ جیٹیاں نصب کی گئی ہیں۔

مغربی بنگال (قومی آبی گزرگاہ نمبر 44 اور 97):     دریائے اچھامتی (قومی آبی گزرگاہ نمبر 44) پر سواروپ نگر سنگل لین پل مارچ 2026 میں مکمل ہوا، جس کا افتتاح وزیر اعظم نے کیا۔

سندر بن آبی گزرگاہ (قومی آبی گزرگاہ نمبر 97) کے 201 کلومیٹر طویل بین الاقوامی راستے کی دیکھ بھال PIWTT کے تحت کی جا رہی ہے۔

مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر:دریائے جہلم (قومی آبی گزرگاہ نمبر 49)، چناب (نمبر 26) اور راوی (نمبر 84) پر ساحلی بنیادی ڈھانچے، تیرتی ہوئی کنکریٹ جیٹیوں اور نیویگیشن سہولیات کی ترقی کا آغاز کیا گیا ہے۔

ہماچل پردیش اور پنجاب:دریائے بیاس (قومی آبی گزرگاہ نمبر 17) اور دریائے ستلج (قومی آبی گزرگاہ نمبر 98) پر آبی نقل و حمل کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے امکانی مطالعات جاری ہیں۔

آندھرا پردیش میں ساگرمالا اسکیم کے تحت منصوبے

اندرون ملک آبی گزرگاہوں کی بھارتی اتھارٹی (IWAI) نے 2014 میں قومی آبی گزرگاہ نمبر 4 کے وجے واڑہ–مکتیالہ (82 کلومیٹر) حصے میں فیئر وے کی ترقی کا آغاز کیا۔

مکتیالہ (این ٹی آر ضلع) میں اندرون ملک آبی نقل و حمل کا ٹرمنل مکمل ہو چکا ہے۔

ہری چندر پورم (گنٹور ضلع) میں ٹرمنل کی تعمیر جاری ہے۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 4 (کاکیناڈا–پڈوچیری نہر، جو دریائے کرشنا اور گوداوری سے منسلک ہے) کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (DPR) کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

کوممامورو نہر، جو وجے واڑہ سے پیڈا گنجم لاک تک 113 کلومیٹر طویل ہے، ضلع باپتلا سے گزرتی ہے اور قومی آبی گزرگاہ نمبر 4 کو شمالی بکنگھم نہر کے ذریعے چنئی سے جوڑتی ہے۔

ساگرمالا اسکیم کے تحت آندھرا پردیش کے لیے 1,286 کروڑ روپے مالیت کے 9 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی ہے۔

 

Sl. No

.

Name of Project

Implementing Agency

Status

District

Project Cost (Rs. in crore)

MoPS W

Share (Rs. in crore)

1

Construction of coastal Berth at Visakhapatnam port

Visakhapatnam Port Authority (VPA)

Completed

Visakhapatna m

43

30

2

Construction of grade separator from H-7 area to Port connectivity Road by passing Convent Junction - Visakhapatna m Port

National Highways Authority of India (NHAI)

Completed

Visakhapatna m

60

23.17

3

2 to 4 laning of port road connectivity to NH – 5 -Phase II

NHAI

Completed

Visakhapatna m

77.00

20.00

4

Centre of Excellence in Maritime and Shipbuilding - CEMS - AP-18

out of 24 Labs in Andhra Pradesh

Indian Register of Shipping (IRS)

Completed

Visakhapatna m

574.00

36.76

 

5

Coastal Districts Skill Development Program - Phase I - Andhra Pradesh

Ministry of Rural Development

(DDU-GKY)

Completed

Multiple districts

0.14

0.14

6

Development of Fishing Harbour in Juvvaladinne in SPSR Nellore District, Andhra Pradesh

Andhra Pradesh Maritime Infrastructure Development Corporation (APMIDCL)

Completed

Nellore

288

69.14

7

Improvement of Kakinada Anchorage Ports infrastructure in East Godavari district, Andhra Pradesh

Andhra Pradesh Maritime Board

Completed

Kakinada

85.83

36.67

8

Modernisation of Visakhapatna m Fishing Harbour

VPA

Under Implementatio n

Visakhapatna m

178.51

50.00

9

Coastal Districts Skill Development Program - Phase 2 - Andhra Pradesh

Ministry of Rural Development

(DDU-GKY)

Under Implementatio n

Multiple districts

5.98

5.98

متوقع معاشی فوائد:ان پروجیکٹوں سے لاجسٹکس کی لاگت میں کمی، زرعی اور آبی زراعت (ایکوا کلچر) کی پیداوار کی تیز تر نقل و حمل، سپلائی چین کی کارکردگی میں بہتری اور مختلف علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ہائیڈروگرافک نیویگیشن اور ریور انفارمیشن سسٹم (RIS) کا بنیادی ڈھانچہ

ہائیڈروگرافک سروے کی توسیع:جہاز رانی کے راستوں اور فیئر وے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 22 قومی آبی گزرگاہوں (نمبر 1، 2، 3، 4، 5، 8، 9، 14، 16، 23، 31، 40، 44، 47، 57، 64، 73، 86، 94، 97، 100 اور 110) اور ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ پر باقاعدگی سے ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ تھالویگ سروے کیے جا رہے ہیں۔

ریور انفارمیشن سسٹم (RIS):

یہ نظام قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 (دریائے گنگا) پر تین مرحلوں میں نافذ کیا گیا ہے:پہلا مرحلہ: ہلدیا سے فرخہ•دوسرا مرحلہ: فرخہ سے پٹنہ•           تیسرا مرحلہ: پٹنہ سے وارانسی۔

اس نظام میں 4 کنٹرول اسٹیشن، 13 بیس اسٹیشن، خودکار شناختی نظام (AIS)، وی ایچ ایف مواصلاتی نظام، موسمیاتی سینسرز اور محکمہ کے 30 جہازوں پر آر آئی ایس کنسولز نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے آبی ٹریفک کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جاتی ہے۔

الیکٹرانک نیویگیشنل چارٹس (ENCs):17 فعال اور مدوجزر سے متاثرہ آبی گزرگاہوں (قومی آبی گزرگاہ نمبر 1، 3، 5، 8، 9، 10، 14، 23، 27، 53، 64، 68، 73، 83، 86، 91، 110 اور 111) کے لیے الیکٹرانک نیویگیشنل چارٹس تیار کرکے PANI پورٹل اور IWAI Vessel Tracker پر اپ لوڈ کیے جا چکے ہیں۔

2014 سے پہلے یہ سہولت صرف قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 تک محدود تھی۔

ضمیمہ-1: قومی آبی گزرگاہوں کے مالی اور عملیاتی منصوبوں کی پیش رفت

قومی آبی گزرگاہوں پر اندرون ملک آبی نقل و حمل کے منصوبوں اور اسکیموں کی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

Sl.

Name of Project

Sanctioned Amount (Rs. in Crore)

Progress as on 30.06.26

(in % )

1

JMVP-1 on NW-1 (Ganga River)

5061.15

81.97

2

JMVP-II (Arth Ganga) on NW-1 (Ganga River)

3

8 Hybrid Electric Catamaran vessels

144

60.91

4

Comprehensive Development of NW-2 (Brahmaputra River)

639.92

99.96

5

Development of Approach Road from Pandu Port Terminal to NH-27 and Ship Repair Facility at Pandu, Guwahati on NW-2

419.00

96.84

(Approach Road completed)

6

Comprehensive Development of NW-16 (Barak River)

134.72

48.94

7

Development of 23 NW's (Phase-1) (3 existing & 20 new NW's) in various States

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

266.06

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

90.00

(i)

NW-3-West Coast Canal (Kottapuram - Kollam), Champakara and Udyogmandal Canals in Kerala

(ii)

Part of NW-4- Krishna River (Vijayawada – Muktyala) in Andhra Pradesh

(iii)

NW-5- Dhamra-Paradip via Mangalagadi to Pankopal of Brahmani River in Odisha

(iv)

NW-8 (Alappuzha-Changanassery Canal) in Kerala

(v)

NW-9 (Alappuzha-Athirampuza Canal) in Kerala

(vi)

NW-10 (Amba River) in Maharashtra

(vii)

NW-27 (Cumberjua River) in Goa

(viii)

  1. (Dabhol Creek Vashisthi River) in Maharashtra

 

(ix)

NW-31 (Dhansiri / Chathe River) in Assam

   

(x)

NW-37 (Gandak River) in U.P. and Bihar

(xi)

NW-40 (Ghaghra River) in U.P. & Bihar

(xii)

NW-44 (Ichamati River) in West Bengal

(xiii)

NW-53 (Kalyan-Thane-Mumbai Waterway, Vasai Creek and Ulhas River System) in Maharashtra

(xiv)

NW-57 (Kopili River -Banthai Gaon Tinali Bus Stop to Chandrapur No.2 confluence with Brahmaputra) in Assam,

(xv)

NW-64 (Mahanadi River) in Odisha

(xvi)

NW-68 (Mandovi River) in Goa

(xvii)

NW-73 (Narmada River) in Gujarat

(xviii)

NW-86- (Rupnarayan River) in West Bengal

(xix)

NW-91 (Shastri River - Jaigad Creek System) in Maharashtra

(xx)

NW-97 (Sundarbans Waterways) in West Bengal

(xxi)

NW-100 (Tapi River) in Gujarat

(xxii)

NW-110 (Yamuna River) in Delhi, Mathura and Vrindavan.

(xxiii)

NW-111 (Zuari River) in Goa

8

Other 11 National Waterways (NWs) namely; NW-26 (Chenab River), NW-49 (Jhelum River) & NW-84 (Ravi River) in Jammu & Kashmir; NW-46 (Indus River) in Laddhakh, NW-17 (Beas River) & NW-98 (Sutluj River) in Hiamachal Pradesh & Punjab; NW-

51 (Kabini River), NW-52 (Kali River), NW-90 (Sharavati River) & NW-105 (Udayavara River) in Karnataka and NW-14 (Baitrani River) in Odisha

242.74

23.19

Total

6907.59

 

 

Detailed Status of Jal Marg Vikas Project (JMVP) Components on NW-1

Sl.

No.

Project

Status

1

Development of Multi-Modal Terminal at Varanasi, Sahibganj & Haldia

Completed and Operational

2

Development of new Navigational Lock at Farakka

Completed and Operational

3

Development of Intermodal Terminal, Kalughat

Completed and Operational

4

Development of Intermodal Terminal Balagarh

Under Implementation

5

Modernization of existing Navigational Lock at Farakka

Under Implementation

6

Installation of 66 Community Jetties in Uttar Pradesh, Bihar, Jharkhand and West Bengal

Completed and Operational

7

Development of Ship Repair & Maintenance Facility at Patna and Varanasi

Under implementation

8

Proposed River Cruise Terminals at Patna and Varanasi

DPR/Planning stage

9

Proposed Water Metro at Varanasi, Patna and Kolkata on NW-1

DPR/Planning stage

 

10

Quick Pontoon Opening Mechanisms (QPOMs) in Uttar Pradesh and Bihar

2-commissioned and

additional 8 under development.

 

 

11

End to end Fairway development along NW-1 in stretches Tribeni-Katwa, Katwa – Farakka, Farakka–Kahalgaon, Sultanganj–Mahenderpur–Barh, Barh–Digha, Digha – Majhaua, Majhaua – Ghazipur, Ghazipur – Varanasi, and Kalughat Access Channel etc.

 

 

Ongoing

12

Development of Regional Centre of Excellence, Varanasi

DPR being prepared

13

Development of Ro-Pax facility at 4 locations , in the state of Bihar & West Bengal

Commissioned

14

Procurement of Pusher Tug (3 Nos) + Dumb Barge Flotilla (6 Nos)

Completed

15

Design construction and supply of 10 Cutter Suction Dredgers (CSDs)

1 delivered; 9 under development

16

4 Hybrid Survey Vessels

Under development

17

Development of MMLP-Freight Village, Varanasi

Under Tendering stage

 

ضمیمہ-II: بنیادی ڈھانچے اور پالیسی اقدامات کا جامع خلاصہ

قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 (دریائے گنگا):66 کمیونٹی جیٹیاں،20 تیرتے ہوئے ٹرمینلز،3 کثیر موڈل ٹرمینلز (وارانسی، صاحب گنج اور ہلدیا)1 انٹرماڈل ٹرمنل (کالوگھاٹ)4 رو-پیکس (Ro-Pax) ٹرمنلزپہلے سے موجود 5 مستقل ٹرمنلزفرخہ میں نیا نیویگیشن لاک      2 کیو پی او ایم (QPOMs)

قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 (دریائے برہم پتر):

13 تیرتے ہوئے ٹرمنلز،پانڈو اور جوگی گھوپا میں کثیر ماڈل ٹرمنلز،بوگی بیل اور دھوبری میں ٹرمنلز،جوگی گھوپا، پانڈو، بشواناتھ ،ھاٹ اور نیامتی میں مخصوص کروز جیٹیاں،سادیا، لائیکا اور اوریئم گھاٹ پر مسافروں اور کروز کے لیے جیٹیاں

قومی آبی گزرگاہ نمبر 16 (دریائے باراک) اور آئی بی پی روٹ:

بدرپور اور کریم گنج کے ٹرمنلز کی تزئین و ترقی

تریپورہ کی دریائے گوماتی پر سونامورا ٹرمنل، جو ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول (IBP) روٹ پر واقع ہے۔

قومی آبی گزرگاہ نمبر 3 (کیرالہ):گوداموں سے لیس 9 مستقل اندرون ملک آبی نقل و حمل ٹرمنلز،2 رو-رو/رو-پیکس ٹرمنلز

قومی آبی گزرگاہ نمبر 68 (گوا):•4 تیرتی ہوئی کنکریٹ جیٹیاں نصب کی گئی ہیں۔

دیگر قومی آبی گزرگاہیں:قومی آبی گزرگاہ نمبر 4 (آندھرا پردیش) پر 4 سیاحتی جیٹیاں،آبی گزرگاہ نمبر 110 (متھرا-ورنداون) پر 8 تیرتی ہوئی جیٹیاں،قومی آبی گزرگاہ نمبر 73 (دریائے نرمدا، گجرات) پر 2 جیٹیاں،قومی آبی گزرگاہ نمبر 100 (دریائے تاپتی،گجرات) پر 2 جیٹیاں،قومی آبی گزرگاہ نمبر 37 (بہار) پر 2 جیٹیاں۔

فیئر وے کی دیکھ بھال:ڈریجنگ، دریاؤں کے بہاؤ کی بہتری، آبی راستوں کی نشاندہی اور ہائیڈروگرافک سروے کے ذریعے فیئر وے کی مسلسل دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاکہ 35 یا 45 میٹر چوڑا آبی راستہ اور 2.0، 2.2، 2.5 یا 3.0 میٹر کم از کم دستیاب گہرائی (LAD) برقرار رکھی جا سکے۔

یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.568


(रिलीज़ आईडी: 2289257) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English