زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
موسم سے متعلق معلوماتی نیٹ ورک ڈیٹا سسٹم کا آغاز
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 6:01PM by PIB Delhi
ویدر انفارمیشن نیٹ ورک اینڈ ڈیٹا سسٹم (ڈبلیو آئی این ڈی ایس) حکومتِ ہند کا ایک اقدام ہے، جس کا مقصد خودکار موسمیاتی اسٹیشنوں (اے ڈبلیو ایس) اور خودکار بارش پیما آلات (اے آر جی) کا قومی سطح کا نیٹ ورک قائم کرنا ہے، تاکہ فصلوں کے بیمہ، زرعی مشاورتی خدمات اور مختلف شعبوں میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے طویل مدتی، انتہائی مقامی موسمیاتی ڈیٹا تیار کیا جا سکے۔ اب تک 7 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں (آسام، ہماچل پردیش، کیرالہ، اڈیشہ، پڈوچیری، اتر پردیش اور اتراکھنڈ) نے ڈبلیو آئی این ڈی ایس کو اختیار کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق 16,843 مقامات پر آلات کی تنصیب کی منظوری دی جا چکی ہے، 1,188 مقامات پر سول تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 892 خودکار موسمیاتی اسٹیشن (اے ڈبلیو ایس) اور خودکار بارش پیما آلات (اے آر جی) نصب کیے جا چکے ہیں۔
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) میں اسکیم کے نفاذ کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا تصور شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت خریف 2023 سے ٹیکنالوجی پر مبنی پیداوار تخمینہ نظام (YES-TECH) نافذ کیا گیا ہے، تاکہ فصلوں کے نقصان اور پیداوار کے تخمینے کو معروضی اور زیادہ درست بنایا جا سکے۔
یس-ٹیک کے تحت بتدریج ریموٹ سینسنگ پر مبنی پیداوار کے تخمینے کی طرف منتقلی کا منصوبہ ہے، تاکہ فصلوں کی پیداوار کا منصفانہ اور درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس اقدام کا آغاز خریف 2023 سے دھان اور گندم کے لیے کیا گیا، جبکہ خریف 2024 سے سویا بین کی فصل بھی اس میں شامل کی گئی، جس میں یس-ٹیک سے حاصل ہونے والے پیداوار کے تخمینے کو لازمی طور پر 30 فیصد وزن دیا گیا ہے۔
سال 2025–26 کے دوران یس-ٹیک کو 12 ریاستوں کے 344 اضلاع میں نافذ کیا گیا۔ مزید برآں، مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت نے ٹیکنالوجی پر مبنی پیداوار کے تخمینے کو 100 فیصد وزن دیا، جبکہ مہاراشٹر اور اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں نے 50 فیصد اور اڈیشہ و کرناٹک کی ریاستی حکومتوں نے 40 فیصد وزن یس-ٹیک پر مبنی پیداوار کے تخمینے کو سال 2025–26 میں دیا۔
حکومت نے یس-ٹیک کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ باقاعدہ اور جامع جائزہ لینے کا ایک مضبوط نظام بھی قائم کیا ہے۔
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے تحت بیمہ دعووں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- حکومت نے نیشنل کراپ انشورنس پورٹل (این سی آئی پی) تیار کیا ہے، جو پریمیم سبسڈی کی ادائیگی، معلومات کی فراہمی، خدمات کی انجام دہی، کسانوں کے آن لائن اندراج، انفرادی بیمہ شدہ کسانوں کی تفصیلات کے اندراج و حصول، اور دعوے کی رقم براہِ راست کسان کے بینک کھاتے میں الیکٹرانک طریقے سے منتقل کرنے کے لیے ایک واحد قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔
- دعووں کی ادائیگی کے عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے خریف 2022 سے ڈیجی کلیم ماڈیول نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت نیشنل کراپ انشورنس پورٹل (این سی آئی پی) کو پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) اور بیمہ کمپنیوں کے اکاؤنٹنگ نظام سے مربوط کیا گیا ہے، تاکہ تمام دعووں کی بروقت اور شفاف طریقے سے کارروائی ممکن ہو سکے۔
- خریف 2024 سے اگر کوئی بیمہ کمپنی مقررہ وقت میں دعوے کی ادائیگی نہیں کرتی تو این سی آئی پی کے ذریعے خودکار طور پر 12 فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
- مرکزی حکومت کی پریمیم سبسڈی کے حصے کو ریاستی حکومتوں کی سبسڈی سے الگ کر دیا گیا ہے، تاکہ کسانوں کو مرکزی حکومت کے حصے کے مطابق دعوے کی متناسب رقم بروقت مل سکے۔
- خریف 2025 سے ریاستی حکومت کی جانب سے سبسڈی کے اپنے حصے کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں بھی 12 فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
- مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینے کے لیے خریف 2025 کے سیزن سے متعلقہ ریاستی حکومت کے لیے اسکیم کی دفعات کے مطابق اپنی پریمیم سبسڈی کا حصہ پیشگی جمع کرانے کے لیے ایسکرو اکاؤنٹ کھولنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
- اسکیم کے نفاذ میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سی سی ای-ایگری ایپ کے ذریعے فصل کی پیداوار اور کراپ کٹنگ تجربات (سی سی ای) کے اعداد و شمار جمع کرنا اور انہیں این سی آئی پی پر اپ لوڈ کرنا؛ بیمہ کمپنیوں کو کراپ کٹنگ تجربات (سی سی ای) کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دینا؛ ریاستی اراضی ریکارڈ کو این سی آئی پی کے ساتھ مربوط کرنا اور یس-ٹیک کے ذریعے ریموٹ سینسنگ پر مبنی پیداوار کے تخمینے کا استعمال شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کسانوں کے دعووں کی بروقت ادائیگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
- کراپ لاس اسیسمنٹ ایپ (سی ایل اے پی) ایک ڈیجیٹل موبائل ایپلی کیشن ہے، جسے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت انفرادی کھیتوں اور زمین کے قطعات میں مقامی آفات یا فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کے جائزے کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے سی ایل اے پی کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت، جناب رام ناتھ ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے یہ معلومات فراہم کی۔
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 557
(रिलीज़ आईडी: 2289207)
आगंतुक पटल : 7