سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کرناٹک کے ضلع چکّبلّا پور کے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے 13,550 سے زائد طلبہ مرکزی وظیفہ اسکیموں سے مستفید: سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے کا لوک سبھا میں تحریری جواب


تعلیمی سال 26-2025 کے دوران 8,460 طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ جبکہ 5,090 طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت فائدہ پہنچا

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 6:29PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت ملک بھر میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے طلبہ کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کرنے کے لیے مرکزی امدادی وظیفہ اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات،  فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) اور بیداری مہمات کے ذریعے وزارت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ مستحق طلبہ کو بروقت مالی امداد، زیادہ شفافیت اور وظائف کی مؤثر فراہمی ممکن ہو۔

یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے لوک سبھا میں ڈاکٹر کے سداکر کے سوال کے تحریری جواب میں دی۔

وزیر مملکت نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے تین اہم وظیفہ اسکیمیں چلا رہا ہے، جن میں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ برائے درج فہرست ذات(پی ایم ایس۔ایس سی)، پری میٹرک اسکالرشپ برائے درج فہرست ذات و دیگر اور ’’شریاس‘‘ یعنی درج فہرست ذاتوں کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی اسکالرشپ اسکیم شامل ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد مالی رکاوٹوں کو کم کرنا اور درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔

تعلیمی سال 26-2025 کے دوران کرناٹک کے ضلع چکّبلّاپور کے 8,460 طلبہ نے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم سے فائدہ اٹھایا، جبکہ 5,090 طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت مالی امداد فراہم کی گئی۔ اس طرح مستفید ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد 13,550 رہی۔ اسی عرصے میں ضلع کے کسی بھی طالب علم نے درج فہرست ذات کے لیے "شریاس" اسکیم سے فائدہ حاصل نہیں کیا۔

وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ وزارت نے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت مالی سال 22-2021 اور پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت 23-2022 میں فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کا نظام نافذ کیا۔ اس نظام کے ذریعے وظائف کی رقم براہِ راست مستحق طلبہ کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے، جس سے نقل اندراج کا خاتمہ، ادائیگی میں تاخیر میں کمی اور رقوم کی تقسیم میں شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے خصوصاً دیہی اور نیم شہری علاقوں کے طلبہ کو بروقت مالی امداد حاصل کرنے میں بڑی سہولت ملی ہے۔

وظیفہ اسکیموں سے متعلق مستحق طلبہ میں آگاہی بڑھانے کے لیے محکمہ نے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر بیداری اور تشہیری مہمات چلائی ہیں۔ ان میں قومی اور علاقائی اخبارات میں اشتہارات، سوشل میڈیا مہمات، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ، نیشنل چنتن شیوِر، علاقائی جائزہ اجلاسوں اور ریاستی حکومتوں و دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قومی کانفرنسوں کے ذریعے اسکیموں کے مؤثر نفاذ اور زیادہ سے زیادہ مستحقین تک رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ اگرچہ محکمہ نے اعلیٰ ثانوی اور گریجویشن کی سطح پر درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے اسکول یا کالج چھوڑنے کی شرح میں تبدیلی کا الگ سے کوئی جائزہ نہیں لیا، تاہم نیتی آیوگ کی ایک جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان وظیفہ اسکیموں نے مالی مشکلات کم کرکے اور اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرکے تعلیمی مساوات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس جائزے میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈی بی ٹی نظام کے نفاذ کے بعد وظائف کی ادائیگی کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

وظیفہ اسکیموں کے تحت دی جانے والی ماہانہ مالی امداد میں نظرثانی کے بارے میں وزیر مملکت نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ حکومت کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد کیا جاتا ہے۔

حکومت درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کو جامع، شفاف اور مؤثر وظیفہ پروگراموں کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ انہیں تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئیں، مالی رکاوٹیں کم ہوں اور سماجی انصاف کو فروغ ملے۔ مسلسل اصلاحات، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی اور ریاستوں و متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے وزارت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کوئی بھی مستحق طالب علم صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔

 

******

 (ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.560

 


(रिलीज़ आईडी: 2289187) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada