کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
حکومت نے کھاد کے تحفظ کو بہتربنانے کے لیے مقامی کھاد کی پیداوار اور سپلائی چین کو مزید مستحکم کیا
چھ نئے یوریا پلانٹس سے 76.2 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ اضافی صلاحیت کا اضافہ؛ مقامی یوریا پیداوار کی صلاحیت بڑھ کر 269.42 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ ہو گئی
حکمت عملی پر مبنی اصلاحات، پیداواری صلاحیت میں توسیع اور عالمی ذرائع سے حصول کے ذریعے کھادوں کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 3:59PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے مقامی کھاد کی پیداوار کو مضبوط بنانے، خام مال اور کھادوں کے درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے اور عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹوں اور بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود کسانوں کو کھادوں کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے لیے متعدد حکمت عملی پر مبنی اقدامات کیے ہیں۔ کھاد یونٹس سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کھاد کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ عموماً خام مال اور فیڈ اسٹاک کی دستیابی، بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر پلانٹس کی عارضی بندش سے متاثر ہوتا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت نے مقامی پیداوار کو بہترین سطح پر برقرار رکھنے کے لیے خام مال اور فیڈ اسٹاک کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔
کھاد کی سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کے لیے محکمہ کھاد نے درآمدی ذرائع کو متنوع بنایا ہے اور اضافی سپلائرز کی نشاندہی کے لیے ہندوستانی مشنز کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اپریل 2026 اور جون 2026 میں بالترتیب عالمی ٹینڈرز کے ذریعے 25 لاکھ میٹرک ٹن(ایل ایم ٹی) اور 17.7 لاکھ میٹرک ٹن یوریا حاصل کیا گیا۔ ان اقدامات سے عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے وابستہ خطرات کو کم کرنے اور ملک بھر میں کھادوں کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں کھادوں کی بروقت، مناسب اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے ہر فصل کے موسم میں درج ذیل اقدامات کیے جاتے ہیں:
- ہر فصل کے موسم کے آغاز سے پہلے محکمہ زراعت و کسان بہبود(ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو)، تمام ریاستی حکومتوں سے مشاورت کے بعد، ریاست وار اور ماہ وار کھاد کی ضرورت کا جائزہ لیتا ہے۔
- ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیوکی جانب سے متعین کردہ ضرورت کی بنیاد پر محکمہ کھاد ریاستوں کو ماہانہ سپلائی پلان جاری کرتے ہوئے کھادوں کی مناسب مقدار مختص کرتا ہے اور دستیابی کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
- تمام اہم سبسڈی والی کھادوں کی ملک بھر میں نقل و حرکت کی نگرانی ایک آن لائن ویب پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم یعینی مربوط کھاد انتظامی نظام(آئی ایف ایم ایس) کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو اور محکمہ کھاد مشترکہ طور پر ریاستی محکمہ زراعت کے حکام کے ساتھ باقاعدگی سے ہفتہ وار ویڈیو کانفرنسز منعقد کرتے ہیں اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق کھادوں کی ترسیل کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
- ریاست کے اندر کھادوں کی تقسیم متعلقہ ریاستی حکومت کے ذریعے کی جاتی ہے۔
یوریا کے حوالے سے حکومت نے 2 جنوری 2013 کو نئی سرمایہ کاری پالیسی (این آئی پی)-2012 کا اعلان کیا تھا اور 7 اکتوبر 2014 کو اس میں ترمیم کی گئی، تاکہ یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اورہندوستان کو یوریا کے شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔این آئی پی-2012 کے تحت مجموعی طور پر 6 نئے یوریا یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں نامزد سرکاری شعبے کے اداروں(پی ایس یو ایز) کی مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنیوں (جے وی سی ایز) کے ذریعے قائم کیے گئے 4 یوریا یونٹس اور نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کیے گئے 2 یوریا یونٹس شامل ہیں۔جے وی سی کے ذریعے قائم کیے گئے یونٹس میں تلنگانہ میں رام گنڈم فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ(آر ایف سی ایل) کا رام گنڈم یوریا یونٹ اور ہندوستان اَروَرک اینڈ رسائن لمیٹڈ(ایچ یو آر ایل) کے تین یوریا یونٹس شامل ہیں، جو بالترتیب اتر پردیش، جھارکھنڈ اور بہار میں گورکھپور، سندری اور برونی میں قائم کیے گئے ہیں۔نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کیے گئے یونٹس میں مغربی بنگال میں میٹکس فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ(میٹکس) کا پناگڑھ یوریا یونٹ اور راجستھان میں چمبل فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ(سی ایف سی ایل) کا گیڈے پن-III یوریا یونٹ شامل ہیں۔ان میں سے ہر یونٹ کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم پی ٹی اے)ہے۔ یہ یونٹس جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہونے کی وجہ سے توانائی کے لحاظ سے انتہائی مؤثر ہیں۔ اس طرح ان یونٹس نے مجموعی طور پر یوریا کی پیداواری صلاحیت میں 76.2 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم پی ٹی اے) کا اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی یوریا پیداوار کی کل صلاحیت (ازسرِ نو جائزہ شدہ صلاحیت – RAC) 2014-15 میں 207.54 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ (ایل ایم ٹی پی اے)سے بڑھ کر 27-2026 میں 269.42 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم ٹی پی اے) ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ نامزد سرکاری شعبے کے اداروں کی مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنی، یعنی تالچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ(ٹی ایف ایل) کے ذریعے کوئلہ گیسیفکیشن کے راستے پر 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم ٹی پی اے) صلاحیت کے نئے گرین فیلڈ یوریا پلانٹ کے قیام کے ذریعے فرٹیلائزر کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ(ایف سی آئی ایل) کے تالچر یونٹ کی بحالی کے لیے ایک خصوصی پالیسی کو بھی منظوری دی گئی ہے۔اس کے علاوہ آسام میں برہم پتر ویلی فرٹیلائزر کارپوریشن لمیٹڈ (بی وی ایف سی ایل)کے موجودہ احاطے میں مشترکہ منصوبے کے ذریعے سالانہ 12.7 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی صلاحیت رکھنے والے نئے براؤن فیلڈ امونیا-یوریا کمپلیکس، جس کا نام آسام ویلی فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل کمپنی لمیٹڈ(اے وی ایف سی سی ایل)ہے،اس کے قیام کو بھی منظوری دی گئی ہے۔یہ دونوں منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے 25 مئی 2015 کو موجودہ 25 گیس پر مبنی یوریا یونٹس کے لیے نئی یوریا پالیسی(این یو پی)-2015 کو بھی نوٹیفائی کیا، جس کا ایک مقصد ازسرِ نو جائزہ شدہ صلاحیت(آر اے سی) سے زیادہ مقامی یوریا پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا تھا۔این یو پی-2015 کے نتیجے میں15-2014 کے دوران ہونے والی پیداوار کے مقابلے میں سالانہ 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن اضافی یوریا پیداوار حاصل ہوئی ہے۔
مندرجہ بالا اقدامات نے مجموعی طور پر یوریا کی پیداوار کو15-2014 میں 225 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ کی سطح سے بڑھا کر24-2023 میں ریکارڈ 314.07 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچانے میں مدد کی ہے۔ سال26-2025 کے دوران ملک میں 293.30 لاکھ میٹرک ٹن یوریا پیدا کیا گیا۔
اس کے علاوہ، 15.07.2026 کو اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے آتم نربھر بھارت کے تحت یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے لیے قومی سرمایہ کاری پالیسی برائے یوریا-2026 (NIPU-2026) کی منظوری دی۔
حکومت نے فاسفیٹک اور پوٹاشی(پی اینڈ کے) کھادوں کے لیے یکم اپریل 2010 سے غذائی اجزا پر مبنی سبسڈی(این بی ایس) اسکیم نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی اینڈ کےھادوں کو اوپن جنرل لائسنس(او جی ایل) کے دائرے میں رکھا گیا ہے اور کمپنیاں اپنی کاروباری ضروریات کے مطابق ان کھادوں کو درآمد یا تیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ خریف-2026 کے لیے اس اسکیم کے تحت پی اینڈ کے کھادوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے 41,533.81 کروڑ روپے کی این بی ایس
درآمد شدہ فاسفیٹک کھادوں پر انحصار کم کرنے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ 18.01.2024 کی ہدایات کے تحت زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت(ایم آر پی) کی معقولیت کے حوالے سے درآمد کنندگان، مینوفیکچررز اور مربوط مینوفیکچررز کو بالترتیب 8 فیصد، 10 فیصد اور 12 فیصد کا مناسب منافع فراہم کیا جاتا ہے۔ درخواستوں کی بنیاد پر نئی مینوفیکچرنگ یونٹس یا موجودہ یونٹس کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کواین بی ایس اسکیم کے تحت تسلیم کیا گیا ہے یا ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔این بی ایس اسکیم کے تحت شامل پی اینڈ کےکھادوں کی اقسام کی تعداد 2021 میں 22 گریڈز سے بڑھا کر 28 گریڈز کر دی گئی ہے۔ سنگل سپر فاسفیٹ (SSP)، جو مقامی طور پر تیار کی جانے والی کھاد ہے، کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے خریف 2022 سے مال برداری سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ زمین کو فاسفیٹک یا 'پی' غذائی عنصر فراہم کیا جا سکے۔
یہ معلومات کیمیکلز اور کھادوں کے عزت مآب وزیرجناب جگت پرکاش نڈا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ م ع ن
U.No. 542
(रिलीज़ आईडी: 2289130)
आगंतुक पटल : 8