بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
جہاز رانی کی تعمیرکی صنعت کی ازسرِ نو تشکیل اور جدید کاری
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 4:53PM by PIB Delhi
مرکزی بجٹ 2025-26 میں کیے گئے اعلانات کے بعد حکومت نے ہندوستان کی جہاز رانی کی تعمیر کی صنعت کا جامع جائزہ لیا ہے اور اس شعبے کو نئی توانائی دینے کے لیے چار ستونوں پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اسی کے تحت حکومت نے ملکی جہاز رانی کی تعمیر کی صلاحیت، بحری شعبے کے لیے مالی معاونت اور ہنرمندی کی ترقی کو مستحکم بنانے کی غرض سے 69,725 کروڑ روپے کے ایک جامع پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس پیکیج کے اہم اجزا درج ذیل ہیں:
جہازرانی کی تعمیر کی مالی امدادی اسکیم (ایس بی ایف اے ایس)، جو جہاز رانی کی تعمیر کی مالی امدادی پالیسی (ایس بی ایف اے پی) کی توسیع ہے، کے لیے 24,736 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ عالمی شپ یارڈز کے مقابلے میں ہندوستانی شپ یارڈز کو درپیش لاگتی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
بحری ترقیاتی فنڈ (ایم ڈی ایف) کے تحت 25,000 کروڑ روپے کا فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد جہازرانی کی تعمیر اور بحری شعبے کو طویل مدتی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس میں بحری سرمایہ کاری فنڈ (ایم آئی ایف) کے لیے 20,000 کروڑ روپے اور سودی ترغیبی فنڈ (آئی آئی ایف) کے لیے 5,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جہاز رانی کی تعمیر کی ترقیاتی اسکیم (ایس بی ڈی ایس) کے لیے 19,989 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ نئے گرین فیلڈ جہازوں کی تعمیر کے کلسٹر قائم کرکے اور موجودہ شپ یارڈز کی پیداواری صلاحیت میں توسیع کے ذریعے ہندوستان کی سالانہ جہاز وں کی تعمیر کی پیداواری صلاحیت کو 45 لاکھ گنجائش تک بڑھایا جا سکے۔ یہ اہداف میری ٹائم انڈیا وژن 2030 اور میری ٹائم امرت کال وژن 2047 میں درج وژن کے مطابق ہندوستان کو جہاز رانی کی تعمیر کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مسابقتی طاقت کے طور پر قائم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
جہاز رانی کی تعمیر کی صنعت کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے متعدد پالیسی اصلاحات بھی نافذ کی گئی ہیں، جن میں بڑے تجارتی جہازوں کو بنیادی ڈھانچے کا درجہ دینا اور مانگ کو یکجا کرنے (ڈیمانڈ ایگریگیشن) کی حکمتِ عملی شامل ہے۔ حکومت نے 19 ستمبر 2025 کو 10,000 یا اس سے زیادہ مجموعی گنجائش (جی ٹی) رکھنے والے ہندوستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو بنیادی ڈھانچے کا درجہ دینے کا اعلان کیا، جبکہ ہندوستان میں تعمیر ہونے والے 1,500 یا اس سے زیادہ مجموعی گنجائش (جی ٹی) کے جہازوں کو بھی انفراسٹرکچر کا درجہ دیا گیا۔ مانگ کو یکجا کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت 400 سے زائد جہازوں کے حصول کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس سے ہندوستانی شپ یارڈز کو طویل مدتی آرڈرز کی واضح دستیابی حاصل ہوگی۔
جہاز رانی کی تعمیر کی مالی امدادی اسکیم (ایس بی ایف اے ایس) کو عملی شکل دینے کے لیے اس کی رہنما ہدایات 26 دسمبر 2025 کو جاری کی گئیں، اور انہی ہدایات کے مطابق جہاز سازی کے لیے مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دی جا رہی ہے۔ اسی طرح بحری ترقیاتی فنڈ (ایم ڈی ایف) کی رہنما ہدایات بھی 20 فروری 2026 کو جاری کی گئیں۔ مزید برآں، بحری سرمایہ کاری فنڈ (ایم آئی ایف) کے فنڈ مینیجر کے طور پر ایس بی آئی وینچرز لمیٹڈ کو 26 مئی 2026 کو مقرر کیا گیا۔
اس وقت جہازرانی کی تعمیر کی ترقیاتی اسکیم (ایس بی ڈی ایس) کے تحت حکومت نے آندھرا پردیش، گجرات اور تمل ناڈو میں تین نئے گرین فیلڈ جہاز وں کی تعمیرکے کلسٹر کی ترقی کے لیے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکیم ان کلسٹرز میں مشترکہ سمندری اور زمینی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، اسی اسکیم کے تحت انڈیا شپ ٹیکنالوجی سینٹر (آئی ایس ٹی سی) کو کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 8 کے تحت ایک غیر منافع بخش کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد جہازوں کے ڈیزائن، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، مہارت سازی، سافٹ ویئر اور متعلقہ شعبوں میں صلاحیتوں کو فروغ دے کر ہندوستان کی جہاز سازی کی صنعت کی مجموعی ترقی کو تقویت دینا ہے۔ مہارت سازی کے حوالے سے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
11 شپ یارڈز نے 8 ساحلی ریاستوں کے 34 صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ساتھ ملازمت کے دوران عملی تربیت (او جے ٹی) کے نفاذ کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت 150 گھنٹوں پر مشتمل عملی تربیتی ماڈل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے اب تک 727 تربیت یافتگان کو تربیت دی جا چکی ہے۔
سینٹر آف ایکسی لینس اِن میری ٹائم اینڈ شپ بلڈنگ (سی ای ایم ایس) کی جانب سے مغربی بنگال کے دو صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) میں تربیت کاروں کی تربیت (ٹی او ٹی) پروگرام نافذ کیا گیا ہے۔
ملک کے 9 شپ یارڈز میں مہارتوں سازی میں کمیوں (اسکل گیپ) سے متعلق ابتدائی مطالعہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی طور پر 92,697 امیدواروں کو تربیت، مہارت سازی یا مہارتوں میں اضافے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
جہاز رانی کی تعمیر کے شعبے میں مہارتوں کی ترقی کے منصوبے کے لیے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کے او آئی سی اے) کے درمیان عمل درآمد کے منصوبے (پی او آئی) پر دستخط کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق تنظیم (یو این سی ٹی اے ڈی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی جہاز رانی کی تعمیری صلاحیت 2024 میں 40,923 مجموعی گنجائش سے بڑھ کر 2025 میں 57,637 مجموعی گنجائش ہو گئی، جو 41 فیصد اضافہ ہے۔ حکومت ہند کے جامع جہاز سازی پیکیج نے ہندوستانی شپ یارڈز پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ شپ یارڈز کو بڑے تجارتی اور برآمدی جہازوں کی تعمیر کے متعدد آرڈرز موصول ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران جہاز سازی مالی امدادی پالیسی (ایس بی ایف اے پی) اور جہاز سازی مالی امدادی اسکیم (ایس بی ایف اے ایس) کے تحت ہندوستانی شپ یارڈز کو مجموعی طور پر 15,234 کروڑ روپے مالیت کے معاہدوں کے لیے مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح جہاز سازی ترقیاتی اسکیم (ایس بی ڈی ایس) کے تحت اب تک چار شپ یارڈز کی براؤن فیلڈ صلاحیت میں توسیع کے منصوبوں کو، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 2,500 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، اصولی منظوری دی جا چکی ہے۔ چونکہ جہاز رانی کی تعمیر کی صنعت میں روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت میں 6.4گنااضافہ ہواہے، اس لیے ان اقدامات کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)
UR. No-539
(रिलीज़ आईडी: 2289112)
आगंतुक पटल : 6