بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ساگر مالا پروگرام اور بندرگاہوں کی جدید کاری
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 5:03PM by PIB Delhi
ساگر مالا پروگرام، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کی وزارت کی ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے، جس کا مقصد ملک میں بندرگاہوں پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت وزارت پانچ اہم ستونوں، یعنی بندرگاہوں کی جدید کاری، بندرگاہی رابطہ، بندرگاہوں پر مبنی صنعتی ترقی، ساحلی برادریوں کی ترقی اور ساحلی جہاز رانی و اندرونِ ملک آبی نقل و حمل سے متعلق منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ساگر مالا اسکیم کے تحت مالی معاونت سے مکمل ہونے والے اور زیرِ عمل منصوبوں کی ستون وار تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔
ضمیمہ-1
ساگر مالا اسکیم کے تحت مکمل شدہ اور زیرِ عمل منصوبوں کی ستون وار تفصیلات:
|
Pillars
|
Completed projects
|
Under implementation projects
|
|
Number
|
Cost (₹ Cr)
|
Number
|
Cost (₹ Cr)
|
|
Coastal Shipping and IWT
|
25
|
1178.5
|
17
|
1167.7
|
|
Coastal Community Development
|
19
|
1912.6
|
28
|
3008.4
|
|
Port Modernization
|
18
|
870.2
|
6
|
160.8
|
|
Port Connectivity
|
17
|
1413.2
|
3
|
201.3
|
|
Grand Total
|
79
|
5374.5
|
54
|
4538.2
|
حکومت نے بڑی بندرگاہوں کی گنجائش میں اضافہ، ان کی عملی کارکردگی کو بہتر بنانے اور جہازوں کے قیام کے دورانیے (ویسل ٹرن اراؤنڈ ٹائم) میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور گنجائش میں اضافہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کے تحت نئی برتھس اور ٹرمینلز کی تعمیر، موجودہ برتھس اور ٹرمینلز کی مشین کاری، جدید کاری اور بہتر استعمال، بڑے جہازوں کی آمدورفت کے لیے گہرے ڈرافٹ کی فراہمی کی غرض سے کیپیٹل ڈریجنگ، سڑک اور ریل رابطوں کی ترقی، نیز پارکنگ پلازوں سمیت معاون بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک ملک ایک بندرگاہ (او این او پی) کے نفاذ کے ذریعے بندرگاہی عمل کو بھی آسان اور یکساں بنایا گیا ہے، تاکہ عملی کارکردگی میں بہتری آئے اور جہازوں کے قیام کے دورانیے میں کمی ہو۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مارچ 2026 تک بڑی اور غیر بڑی بندرگاہوں (او ٹی ایم پی) کی مجموعی مال برداری صلاحیت مالی سال 2013-14 کے تقریباً 1,400 ملین ٹن سالانہ سے بڑھ کر 2,818 ملین ٹن سالانہ ہو گئی ہے۔
ساگر مالا پروگرام کے اہم مقاصد میں سے ایک بندرگاہوں کو بہتر رابطہ فراہم کرنا اور بندرگاہوں اور ان کے متعلقہ اندرونی علاقوں (ہنٹر لینڈ) کے درمیان مال برداری کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، تاکہ مجموعی لاجسٹکس لاگت کم کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ساگر مالا پروگرام میں بندرگاہی رابطے کا ایک الگ ستون شامل کیا گیا ہے، جو سڑک، ریل اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے بندرگاہوں کی آخری مرحلے اور قریبی اندرونی علاقوں سے بہتر رابطے پر توجہ دیتا ہے۔ مزید برآں، صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے بندرگاہی رابطوں کا جامع جائزہ لے کر 2022 میں جامع بندرگاہی رابطہ منصوبہ (سی پی سی پی) تیار کیا، جس میں فعال بندرگاہوں کے رابطہ نظام کا جائزہ لینے کے بعد ان بندرگاہوں کی نشاندہی کی گئی جنہیں قریبی معاشی مراکز سے سڑک اور/یا ریل رابطے میں بہتری کی ضرورت تھی۔
بعد ازاں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت اور ریلوے کی وزارت کے مشورے سے مجموعی طور پر 294 سڑک اور ریل رابطہ منصوبوں کی نشاندہی کی، جن میں سے 84 منصوبے (63 ریلوے اور 21 سڑک) مکمل ہو چکے ہیں، 66 منصوبوں (27 ریلوے اور 39 سڑک) پر عمل درآمد جاری ہے، جبکہ 144 منصوبے (42 ریلوے اور 102 سڑک) منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ بندرگاہی حدود کے اندر رابطہ منصوبے متعلقہ بندرگاہی حکام کے ذریعے، جبکہ بندرگاہی حدود سے باہر کے منصوبے وزارتِ ریلوے، وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں یا متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔
اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں سے متعلق رابطہ منصوبوں کے حوالے سے، ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) کی جانب سے قومی آبی گزرگاہوں (این ڈبلیوز) پر مکمل کیے گئے منصوبوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
قومی آبی گزرگاہ-1 پر 3 ملٹی موڈل ٹرمینلز (ایم ایم ٹیز) اور ایک انٹر موڈل ٹرمینل تعمیر کیا گیا ہے۔
قومی آبی گزرگاہ-2 پر ایک ملٹی موڈل ٹرمینل (ایم ایم ٹی) اور 3 اندرونِ ملک آبی نقل و حمل (آئی ڈبلیو ٹی) ٹرمینلز قائم کیے گئے ہیں۔
قومی آبی گزرگاہ-3 پر 9 اندرونِ ملک آبی نقل و حمل (آئی ڈبلیو ٹی) ٹرمینلز تعمیر کیے گئے ہیں۔
ارناکولم میں 2 رول آن/رول آف (رو۔رو) ٹرمینلز قائم کیے گئے ہیں۔
قومی آبی گزرگاہ-4 پر ایک رول آن/رول آف (رو۔رو) ٹرمینل تعمیر کیا گیا ہے۔
وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے آندھرا پردیش میں 1,286 کروڑ روپے مالیت کے 9 منصوبوں کے لیے
ساگر مالا اسکیم کے تحت 272 کروڑ روپے کی مالی معاونت منظور کی گئی ہے۔ ان منصوبوں کی تفصیلات ضمیمہ-2 میں دی گئی ہیں۔ یہ منصوبے آراو۔پیکس اور مسافر جیٹیز، ماہی گیری بندرگاہوں، بندرگاہوں کی جدید کاری اور مہارت سازی سے متعلق ہیں۔
ضمیمہ-2
آندھرا پردیش میں ساگر مالا اسکیم کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے والے منصوبوں کی فہرست:
|
Sl. N
o.
|
Name of Proj ect
|
Implementing Agency
|
Status
|
District
|
Project cos
t
(₹ Cr)
|
MoPS
W sha re
(₹ Cr)
|
|
1
|
Construction of coastal Berth at Visakhapatn
am port
|
Visakhapatna m Port Authorit y (VPA)
|
Completed
|
Visakhapatna m
|
43
|
30
|
|
2
|
Construction of grade separat or from H-7 are a to Port conne ctivity Road by passing Conve nt Junction - Vi sakhapatnam
Port
|
National Highw ays Authority o f India (NHAI)
|
Completed
|
Visakhapatna m
|
60
|
23.17
|
|
3
|
2 to 4 laning of port road conn ectivity to NH –
5 -Phase II
|
NHAI
|
Completed
|
Visakhapatna m
|
77.00
|
20.00
|
|
4
|
Centre of Excel lence in Mariti me and Shipbu ilding -CEMS - AP-18 out of 2 4 Labs in Andh
ra Pradesh
|
Indian Register of Shipping (I RS)
|
Completed
|
Visakhapatna m
|
574.00
|
36.76
|
|
5
|
Coastal District s Skill Develop ment Program
- Phase I -And
hra Pradesh
|
Ministry of Rur al Developmen t
(DDU-GKY)
|
Completed
|
Multiple district s
|
0.14
|
0.14
|
|
6
|
Development o f Fishing Harbo ur in Juvvaladi nne in SPSR N ellore District, Andhra Prades
h
|
Andhra Prades h Maritime Infr astructure Dev elopment Corp oration (APMID CL)
|
Completed
|
Nellore
|
288
|
69.14
|
|
7
|
Improvement o f Kakinada Anc horage Ports in frastructure in East Godavari district, Andhra
Pradesh
|
Andhra Prades h Maritime Boa rd
|
Completed
|
Kakinada
|
85.83
|
36.67
|
|
8
|
Modernisation of Visakhapatn am Fishing Har
bour
|
VPA
|
Under Implem entation
|
Visakhapatna m
|
178.51
|
50.00
|
|
9
|
Coastal District s Skill Develop ment Program
- Phase 2 -And
hra Pradesh
|
Ministry of Rur al Developmen t
(DDU-GKY)
|
Under Implem entation
|
Multiple district s
|
5.98
|
5.98
|
یہ معلومات برائے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں، سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)
UR. No-540
(रिलीज़ आईडी: 2289111)
आगंतुक पटल : 9