صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن پر تازہ ترین پیش رفت


مورخہ20 جولائی 2026 تک آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت 94.87 کروڑ سے زائد اے بی ایچ اے آئی ڈیزبنائی کی جا چکی ہیں

اے بی ڈی ایم کی ڈیجیٹل رجسٹریوں میں ملک بھر میں توسیع ہوئی ہے، جن میں 5.36 لاکھ صحت کی سہولتیں اور 10.09 لاکھ صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پیشہ ور افراد شامل ہو چکے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 3:54PM by PIB Delhi

مورخہ20 جولائی 2026 تک، آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم) کے تحت ملک بھر میں 94.87 کروڑاے بی ایچ اے(آبھا) آئی ڈی تیار کی جا چکی ہیں۔

اے بی ڈی ایم کے تحت ہیلتھ فیسلٹی رجسٹری (ایچ افی آر) قائم کی گئی ہے، جس میں تصدیق شدہ صحت کی سہولیات شامل ہیں، جیسے اسپتال، کلینک، فارمیسیاں، بلڈ بینک وغیرہ۔ 20 جولائی 2026 تک ایچ ایف آر پر 5.36 لاکھ صحت کی سہولیات رجسٹرڈ ہیں۔ اسی طرح ہیلتھ کیئر پروفیشنلز رجسٹری (ایچ پی آر)تصدیق شدہ صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی رجسٹری ہے۔ 20 جولائی 2026 تک ایچ پی آر پر 10.09 لاکھ صحت کے پیشہ ور افراد رجسٹرڈ ہیں۔

ریاست وار اور ضلع وار تقسیم کی تفصیلات اے بی ڈی ایم کے ریئل ٹائم ڈیش بورڈ :

[https://dashboard.abdm.gov.in/](https://dashboard.abdm.gov.in/) پر دستیاب ہیں۔

اے بی ڈی ایم کا ایک تھرڈ پارٹی تشخیصی مطالعہ جون تا اگست 2025 کے دوران کیا گیا۔ اس جائزے کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

 

  • اے بی ڈی ایم کے سبب انتظار کے اوقات میں کمی آئی، اخراجات میں بچت کو ممکن ہو سکی اوراس  نظام سے صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا جاسکا، خاص طور پر خواتین اور کم سہولیات سے محروم آبادیوں کو اس سے فائدہ پہنچا۔

 

  • مضبوط حکمت عملی پر مبنی بنیاد، مؤثر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے نفاذ اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مؤثر شراکت داری کو مدنظر رکھتے ہوئےاے بی ڈی ایم نے صحت کی خدمات کی فراہمی کے نظام میں کارکردگی کو بہتر بنایا ہے۔

 

  • اے بی ڈی ایم کے تحت یونیفائیڈ ہیلتھ انٹرفیس(یو ایچ آئی) ایک اہم ڈیجیٹل گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے، جو صحت کی خدمات کی آسان تلاش اور فراہمی کو ممکن بناتا ہے، اور شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات کی دستیابی، سہولت اور رسائی میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

 

اے بی ڈی ایمنے خاص طور پر کم سہولیات رکھنے والے طبقات کے لیے صحت کی خدمات کی کارکردگی، رسائی اور سستی میں بہتری کے ذریعے نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے باہمی رابطہ انفراسٹرکچر اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون نے وسیع تر انضمام اور قابلِ پیمائش صحت کے نتائج کے ذریعے نظامی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، جو طویل مدتی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔

پرائیویسی بائی ڈیزائن، آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم) کے اہم رہنما اصولوں میں سے ایک ہے، اور اس کے تحت صحت کے ڈیٹا کا کوئی مرکزی ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ اے بی ڈی ایم مریض کی رضامندی حاصل کرنے کے بعداے بی ڈی ایم نیٹ ورک پر موجود متعلقہ فریقوں کے درمیان محفوظ ڈیٹا کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے علاوہ اے بی ڈی ایم کے ساتھ انضمام سے پہلے ڈیجیٹل ہیلتھ ایپلی کیشنز کو سینڈ باکس ماحول میں جانچا جاتا ہے، اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ڈبلیو اے ایس اے(ویب اپلی کیشن سیکورٹی آڈٹ) جیسے حفاظتی آڈٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

اے بی ڈی ایم مشترکہ ہیلتھ ڈیٹا معیارات قائم کرکے اور افراد، صحت کی سہولیات، صحت کے پیشہ ور افراد اور دیگر ضروری اجزاء کے لیے رجسٹریاں تیار کرکے باہمی مطابقت کو ممکن بناتا ہے۔ اس کے ذریعے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں موجود مختلف ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز، چاہے وہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہوں، صحت کی سہولت فراہم کرنے والوں کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

کسی بھی ڈیجیٹل ہیلتھ حل کواے بی ڈی ایم کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں عوامی صحت کے پروگرام بھی شامل ہیں۔ کئی قومی اور ریاستی عوامی صحت پروگراموں کے پلیٹ فارمز، جن میں پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(پی ایم۔جے وائی)، نِکشے ، ری پروڈکٹیو اینڈ چائلڈ ہیلتھ(آر سی ایچ)، نان کمیونیکیبل ڈیزیزز (این سی ڈی)، گجرات کاٹی ای سی ایچ او، اتر پردیش کا ای کاوچ، راجستھان کا پریگننسی چائلڈ ٹریکنگ اینڈ ہیلتھ مینجمنٹ(پی سی ٹی ایس) اور تمل ناڈو کا سی ایم سی ایچ آئی ایس(صحت کا جامع بیمہ اسکیم) شامل ہیں۔یہ سبھی اسکیمیںاے بی ڈی ایم کے ساتھ مربوط کی گئی ہیں۔

یہ معلومات صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت  جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

 

 ***

ش ح۔ م ع ن

U.No. 524

 


(रिलीज़ आईडी: 2289032) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil