وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

قومی تعلیمی پالیسی 2020 ایک جامع، مہارت پر مبنی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے: مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم


ڈاکٹر سکانتا مجمدار نے وکست بھارت 2047 کے وژن کے حصول کے لیے مرکزی  امدادیافتہ تعلیمی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا


ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم کا دو روزہ اجلاس اختتام پذیر

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 8:19PM by PIB Delhi

تعلیم اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت  ڈاکٹر سکانتا مجمدار نے آج قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے ذریعے ایک جامع، مہارت پر مبنی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل میں اس کے تبدیلی لانے والے کردار کو اجاگر کیا۔وہ نئی دہلی کے آئی سی اے آر–نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) میں منعقدہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم کے دو روزہ اجلاس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس وزارت تعلیم کے محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی(ڈی او ایس ای ایل) کی مرکزی  امداد یافتہ اسکیموں کے جائزے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

 

ڈاکٹر مجمدار نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان باہمی تعاون ضروری ہے، تاکہ ہر بچے، استاد اور اسکول کو اپنی مکمل صلاحیتوں کے حصول کے لیے بااختیار بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی  امدادیافتہ اسکیموں کا مؤثر نفاذ وکست بھارت 2047 کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیر موصوف نے بچوں کی غذائی صحت کو بہتر بنانے میں پی ایم پوشن(پی ایم پی او ایس ایچ اے این) اور تِتھی بھوجن کی اہمیت کو اجاگر کیا، خصوصاً ان بچوں کے لیے جو محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ مربوط کوششوں اور معیار، مساوات اور شمولیت پر مسلسل توجہ کے ذریعے اسکولی تعلیم کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔

اجلاس کے دوسرے دن پرگتی پلیٹ فارم کے تحت سمگر شکشا  اور پی ایم پوشن  کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جن کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم اور افسران نے تجاویز اور آراء پیش کیں۔مرکزی  امداد یافتہ اسکیموں کے نفاذ کو مضبوط بنانے، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور اسکولی تعلیم میں سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ایک کھلی بحث (اوپن ہاؤس ڈسکشن) کا بھی انعقاد کیا گیا۔

اس اجلاس نے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجربات کے تبادلے، نفاذ سے متعلق چیلنجز پر غور و خوض اور مرکزی  امدادیافتہ اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع کی نشاندہی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مباحثوں میں ہر طالب علم کے لیے مساوی، جامع اور معیاری اسکولی تعلیم کو یقینی بنانے اور وکست بھارت 2047 کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اجلاس میں پی ایم شری اسکیم پر محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی کے ایڈیشنل سیکریٹری دھیریج ساہو، اُلاّس(یو ایل ایل اے ایس) پر ایڈیشنل سیکریٹری محترمہ ارچنا شرما اوستھی، جامع تعلیم  کی اقتصادی مشیر محترمہ اے سریجا،  اسکل ایجو کیشن کی جوائنٹ سیکریٹری محترمہ پراچی پانڈے اور پی ایم پوشن  کے جوائنٹ سیکریٹری آشیش جوشی نے پریزنٹیشنز پیش کیں۔

محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر امرپریت دگّل اور وزارت تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔

 

*****

ش ح۔ م م۔ ش ب ن

U.No. 495


(रिलीज़ आईडी: 2288759) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी