ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: جوہری توانائی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 3:59PM by PIB Delhi

وزیراعظم کے دفتر ،عملے، عوامی شکایات اور پنشن کے محکمے  ، نیو کلیائی توانائی اور خلائی امور کے محکمے کے مرکزی وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک  تحریری جواب میں بتایا کہ؛شَانتی ایکٹ(ایس ایچ اے این ٹی آئی ایکٹ)، 2025 کے تحت قواعدفی الحال  مسودہ سازی کے مرحلے میں ہیں۔ یہ ضابطے تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کیے جائیں گے۔ اس کے بعد نجی شعبے کی جانب سے لائسنس کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔

شَانتی ایکٹ، 2025 کی دفعہ 13 اور 14 میں نیوکلیائی  حادثات کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی شہری ذمہ داری کا قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

  1. ہر نیوکلیائی  حادثے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ذمہ داری کی حد 300 ملین اسپیشل ڈرائنگ رائٹس(ایس ڈی آرز)  کے مساوی بھارتی روپے یا مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ رقم ہوگی۔
  2. نیوکلیائی تنصیبات کی مختلف اقسام کے لیے ہر  نیوکلیائی حادثے کی صورت میں آپریٹر کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری کی حد درج ذیل جدول میں دی گئی ہے:

نمبر شمار

نیوکلیائی  تنصیب کے زمرے

آپریٹر کی ذمہ داری کی زیادہ سے زیادہ حد (کروڑ روپے  میں)

1

3600 میگاواٹ سے زیادہ  حرارتی بجلی  رکھنے والے ری ایکٹرز

3000

2

1500 میگاواٹ سے زیادہ اور 3600 میگاواٹ تک  حرارتی بجلی  رکھنے والے ری ایکٹرز

1500

3

750 میگاواٹ سے زیادہ اور 1500 میگاواٹ تک  حرارتی بجلی  رکھنے والے ری ایکٹرز

750

4

50 میگاواٹ سے زیادہ اور 750 میگاواٹ تک  حرارتی بجلی  رکھنے والے ری ایکٹرز

300

 

5

150 میگاواٹ تک حرارتی بجلی  رکھنے والے ری ایکٹر، ایندھن کی ری پروسیسنگ پلانٹس کے علاوہ فیول سائیکل کی سہولیات اور

 

100

 

 

 

  1. مرکزی حکومت درج ذیل صورتوں میں نیوکلیائی  حادثے سے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری قبول کرے گی:
  1. اگر کسی نیوکلیائی حادثے میں آپریٹر کی ذمہ داری دوسرے شیڈول میں مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے، تو اس اضافی رقم کی ذمہ داری مرکزی حکومت ادا کرے گی۔
  2. اگر نیوکلیائی حادثہ مرکزی حکومت کی ملکیت والی کسی جوہری تنصیب میں پیش آئے۔
  3. اگر  نیوکلیائی حادثہ کسی غیر معمولی قدرتی آفت، مسلح تصادم، دشمنی، خانہ جنگی، بغاوت یا دہشت گردی کے نتیجے میں پیش آئے۔
  1. مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے بجلی کے صارفین سے وصول کیے جانے والے  محصول ٹیرف پر عائد  چھوٹ (لیوی)کے ذریعے نیوکلیائی لائیبلیٹی فنڈ قائم کر سکتی ہے۔
  2. اگر اس قانون کے تحت ادا کیے جانے والے معاوضے کی مجموعی رقم 300 ملین اسپیشل ڈرائنگ (ایس ڈی آر ز)  سے تجاوز کر جائے تو مرکزی حکومت ضرورت کے مطابق اضافی اقدامات بھی کر سکتی ہے، جن میں کنونشن آن سپلیمنٹری کمپنسیشن فار نیوکلیئر ڈیمیج (ویانا، 27 اکتوبر 2010) کے تحت فنڈ حاصل کرنا بھی شامل ہے، جس پر بھارت نے دستخط  کیے ہیں ۔

نجی شعبے کے آپریٹرز کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ نیوکلیائی تنصیب کے آپریشن سے قبل اپنی ذمہ داری کے تحفظ کے لیے انشورنس پالیسی، مالی ضمانت یا دونوں کا انتظام کریں۔ انہیں انشورنس یا مالی ضمانت کی مدت ختم ہونے سے پہلے وقتاً فوقتاً اس کی تجدید بھی کرانی ہوگی۔مزید یہ کہ شَانتی ایکٹ کے تحت انضباطی بورڈ کو پابند کیاگیا ہے ہے کہ وہ نیوکلیائی تحفظ سے متعلق امور پر عوامی بیداری اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مؤثر طور پر رابطہ قائم کریں ،تاہم اس دوران محدود معلومات کو افشا نہ کیاجائے۔

******

 (ش ح۔ش م۔ م ذ۔)

U- 444


(रिलीज़ आईडी: 2288586) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil