ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال:نیو کلیائی ایندھن  پروگرام

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 3:59PM by PIB Delhi

وزیراعظم کے دفتر ،عملے، عوامی شکایات اور پنشن کے محکمے  ، نیو کلیائی توانائی اور خلائی امور کے محکمے کے مرکزی وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک  تحریری جواب میں بتایا کہ؛ نیو کلیائی  توانائی کا محکمہ (ڈی اے ای ) کی طویل مدتی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے اور نیو کلیائی  ایندھن کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے مقامی تھوریم پر مبنی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہا ہے۔

بھارت کے پاس یورینیم کے محدود ذخائر ہیں  جبکہ تھوریم کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ محدود یورینیم کے مؤثر استعمال اور تھوریم کے بڑے ذخائر سے پائیدار انداز میں طویل مدتی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محکمۂ نیو کلیائی توانائی کا محکمہ  تین مرحلوں پر مشتمل نیو کلیائی توانائی  پروگرام پر عمل کر رہا ہے۔مذکورہ  پروگرام بند ایندھن چکر(کلوزڈ فیو ل سائیکل)پر مبنی ہے، جس میں ایک مرحلے کے استعمال شدہ ایندھن سے قابلِ استعمال نیو کلیائی  مادہ حاصل کرکے اگلے مرحلے میں بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔

نیو کلیائی توانائی کا محکمے  نے پہلے مرحلے میں استعمال ہونے والے پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز(پی ایچ ڈبلیو آرز) کے ڈیزائن، تیاری، تعمیر اور ایندھن کے مکمل نظام (ابتدائی اور بعد از استعمال دونوں مراحل) میں مقامی مہارت حاصل کر لی ہے۔

گھریلو پی ایچ ڈبلیو آرزسے حاصل ہونے والے استعمال شدہ ایندھن سے پلوٹونیم نکال کر دوسرے مرحلے کے  نیو کلیائی توانائی پروگرام میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بھابھا ایٹامک ریسرچ سینٹر(بی اے آر سی)نے ایندھن کی تیاری سمیت استعمال شدہ ایندھن کو پھر سے قابل استعمال بنانے سے متعلق  تمام ضروری ٹیکنالوجیز کامیابی سے تیار کر لی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تاراپور اور کلپکّم میں ری پروسیسنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ تاراپور میں انٹیگریٹڈ نیوکلیئر ری سائیکل پلانٹ (آئی این آر پی )اور کلپکّم میں فاسٹ ری ایکٹر فیول سائیکل فیسیلٹی(ایف آر ایف سی ایف )تعمیر کے مرحلے میں ہیں، جہاں بالترتیب پی ایچ ڈبلیو آرز اور فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز (ایف بی آرز)کے استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ اور تابکار فضلے کا انتظام کیا جائے گا۔

پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر)نے 6اپریل 2026 کو پہلی بار کریٹیکلٹی حاصل کر لی، جس کے ساتھ ہی بھارت نے اپنے نیو کلیائی توانائی  پروگرام کے دوسرے مرحلے میں باضابطہ طور پر داخلہ حاصل کر لیا ہے۔

پروگرام کے تیسرے مرحلے میں تھوریم-232 سے تیار کیے جانے والے یورینیم-233 کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے گا۔مذکورہ محکمہ اس مقصد کے لیے محکمہ مسلسل تحقیق و ترقی کر رہا ہے۔ تھوریم آکسائیڈ (تھوریا) کے پیلٹس پہلے ہی کئی فعال پی ایچ ڈبلیو آز کے ابتدائی ایندھن میں استعمال کیے جا چکے ہیں، جبکہ تھوریا پر مبنی ایندھن کوبی اے آر سی کے تحقیقی ری ایکٹروں میں کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔

ان استعمال شدہ تھوریا ایندھنوں کی ری پروسیسنگ کے ذریعے یورینیم-233 حاصل کیا گیا، جسے اندرا گاندھی سینٹر فار ایٹامک ریسرچ(آئی جی سی اے آر)، کلپکّم کے کامنی(کے اے ایم آئی این آئی ) ری ایکٹر کے لیے ایندھن کی صورت میں تیار کیا گیا۔

 بھارت سرکار، تین مرحلوں پر مشتمل نیو کلیائی توانائی  پروگرام کے تحت، تھوریم کے ذخائر کے طویل مدتی استعمال کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔مذکورہ پروگرام کے مطابق پہلے مرحلے میں قدرتی یورینیم سے چلنے والےپی ایچ ڈبلیو آر زاستعمال کیے جاتے ہیں، پھر ان کے استعمال شدہ ایندھن سے حاصل ہونے والے پلوٹونیم کو فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز(ایف بی آرز)میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد، جب ایف بی آرزکی مطلوبہ صلاحیت حاصل ہو جائے گی، تو تھوریم سے پیدا ہونے والے یورینیم-233 کو بڑے پیمانے پر ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا، تاکہ  ملک کے وسیع تھوریم ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے ۔

تھوریم کے مؤثر استعمال کے لیے تحقیق و ترقی کا کام بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں مولٹن سالٹ ری ایکٹر(ایم ایس آر ) کو  مستقبل کی ایک موزوں ٹیکنالوجی تصور کیا جا رہا ہے۔ نیو کلیائی توانائی کا محکمہ  فی الحال ایم ایس آرکی تیاری پر کام کر رہا ہے تاکہ تھوریم کے مؤثر استعمال کے لیے درکار ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے خصوصی دھاتوں اور مواد کی تیاری، مولٹن فلورائیڈ نمکیات کی کیمیاء، اور مختلف پرزہ جات کی تیاری سے متعلق تحقیق جاری ہے۔ ان تمام کوششوں کا مقصد  اس بات کویقینی بنانا ہے کہ بڑے پیمانے پر استعمال سے پہلے تھوریم پر مبنی ٹیکنالوجی مکمل طور پر پختہ اور قابلِ اعتماد ہو، تاکہ بھارت کی طویل مدتی توانائی کی سلامتی، ایندھن کی پائیداری اورنیو کلیائی توناائی میں خود انحصاری مزید مضبوط ہو سکے۔

******

(ش ح۔ش م۔ م ذ۔)

U- 443


(रिलीज़ आईडी: 2288523) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil