مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی صورتحال
ڈاک کے محکمے نے ملک بھر میں ڈاک خانوں کی جدید کاری کے لیے مختلف اقدامات کیے
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 4:01PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے 4 اگست 2023 کو تمام گرام پنچایتوں (جی پی ) کو رنگ ٹوپولوجی کے تحت اپ گریڈ کرنے کے لیے ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام (اے بی پی ) کو منظوری دی۔ملک بھر میں منصوبہ بند 2,65,014 گرام پنچایتوں میں سے بھارت نیٹ فیز-I اور فیز-II کے تحت 2,14,912 گرام پنچایتوں کو کنیکٹ کیا جا چکا تھا، جبکہ جون 2026 تک تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کے لیے 13,494 گرام پنچایتوں کو اے بی پی کے تحت اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔
حکومت ان دیہاتوں میں 4جی کوریج فراہم کرنے کے لیے تعاون کر رہی ہے جہاں ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے کوریج دستیاب نہیں ہے۔جون 2026 تک ملک بھر میں دور دراز اور سرحدی دیہاتوں سمیت 35,022 دیہاتوں/مقامات کو کور کرتے ہوئے 24,784 ٹاورز کو آن ایئر کیا جا چکا ہے۔
ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر 2022 کو وزارت مواصلات کے تحت ڈیجیٹل بھارت ندھی (سابقہ یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ-یو ایس او ایف) نے کیا تھا ۔ یہ اسکیم مواصلاتی ٹیکنالوجیز میں تحقیق اور ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے فنڈنگ سپورٹ فراہم کرتی ہے اور ملک میں ٹیلی کام ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیےتعلیمی اداروں ( اکیڈمیا )، اسٹارٹ اپس ، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دیتی ہے ۔ آج تک اسٹارٹ اپس 6 جی ٹیکنالوجیز سے متعلق 26 ٹی ٹی ڈی ایف سپورٹڈ پروجیکٹوں میں ماہرین تعلیم کے ساتھ شراکت دار کے طور پر منسلک ہیں جن کی مالیت57 کروڑ روپے ہے ۔
محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن(ڈی او ٹی) نے ڈیجیٹل فراڈ میں ٹیلی کمیونیکیشن وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کے مقصد سے شہریوں پر مبنی پہل سنچار ساتھی تیار کی ہے۔یہ ویب پورٹل www.sancharsaathi.gov.in اور موبائل ایپ کے طور پر دستیاب ہے۔ سنچار ساتھی کی اہم خصوصیات میں شہریوں کو مشتبہ فراڈ مواصلات کی اطلاع دینے، اپنے نام پر موجود موبائل کنکشنوں کی معلومات حاصل کرنے اور ایسے کنکشن کی رپورٹ کرنے کی سہولت شامل ہے جو ان کے ذریعے مطلوب نہیں ہیں یا انہوں نے حاصل نہیں کیے ہیں۔اس کے علاوہ، یہ سروس گمشدہ یا چوری شدہ موبائل ہینڈ سیٹس کی رپورٹ کرنے اور موبائل ہینڈ سیٹ کی اصلیت جانچنے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔
محکمہ ڈاک (ڈی او پی) نے ملک بھر میں ڈاک خانوں کی جدید کاری کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں ۔ خطے کے تمام ڈاک خانوں کو ایڈوانسڈ پوسٹل ٹیکنالوجی (اے پی ٹی) پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے ، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) 2.0 پروجیکٹ کے تحت شروع کیا گیا ہے ، تاکہ اینڈ ٹو اینڈ کمپیوٹرائزیشن اور نیٹ ورک کنیکٹیویٹی کو فروغ دیا جاسکے ۔ صارفین کو کہیں بھی بینکنگ خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام ڈاک خانوں میں کور بینکنگ سولیوشن (سی بی ایس) نافذ کیا گیا ہے ۔ ڈیجیٹل خدمات جیسے نیٹ بینکنگ ، آٹومیٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم) انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک (آئی پی پی بی) ای-منی آرڈرز ، ٹریک اینڈ ٹریس ، موبائل پر مبنی خدمات وغیرہ تمام ڈاک خانوں میں متعارف کرایا گیا ہے ۔ ای کامرس سرگرمیوں کی حمایت کے لیے پارسل اور لاجسٹک خدمات کو بھی مضبوط کیا گیا ہے ۔
یہ معلومات مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
(ش ح۔ش آ۔ ت ع)
UN No: 453
(रिलीज़ आईडी: 2288497)
आगंतुक पटल : 5