ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: نیو کلیائی توانائی کی پیداوار میں اضافہ
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 3:58PM by PIB Delhi
وزیراعظم کے دفتر ،عملے، عوامی شکایات اور پنشن کے محکمے ، نیو کلیائی توانائی اور خلائی امور کے محکمے کے مرکزی وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ؛ پارلیمنٹ نے دی سسٹین ایبل ہارنیسنگ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (ایس ایچ اے این ٹی آئی ) ایکٹ ، 2025 نافذ کیا ہے ، جو 2047 تک 100 گیگاواٹ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت ہند کے نیوکلیائی توانائی مشن پر مرکوز ہے ۔ مذکورہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کوقابل بناتا ہے ۔
پچھلے دس برسوں کے دوران ، 10600 میگاواٹ کی صلاحیت کے تیرہ ری ایکٹر تعمیر/کمیشننگ کے مختلف مراحل میں ہیں ۔ ان میں سے 3100 میگاواٹ کی کل صلاحیت والے چار ری ایکٹرز نے تجارتی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں ۔ تفصیلات حسب ذیل ہیں:
|
ریاست
|
مقام
|
پروجیکٹ
|
صلاحیت (میگاواٹ)
|
|
تمل ناڈو
|
کوڈنکولم
|
KKNPP-2
|
1 X 1000
|
|
گجرات
|
کاکراپار
|
KAPP-3&4
|
2 X 700
|
|
راجستھان
|
راوت بھاٹا
|
RAPP-7
|
1 X 700
|
باقی نو جوہری ری ایکٹر، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 7,500 میگاواٹ ہے، فی الحال تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
ریاست
|
مقام
|
پروجیکٹ
|
صلاحیت (میگاواٹ)
|
|
راجستھان
|
راوت بھاٹا
|
RAPP-8
|
1 X 700
|
|
تمل ناڈو
|
کڈنکولم
|
KKNPP*-3&4
|
2 X 1000
|
|
KKNPP*-5&6
|
2 X 1000
|
|
کرناٹک
|
کائیگا
|
KAIGA-5&6
|
2 X 700
|
|
ہریانہ
|
گورکھپور
|
GHAVP-1 & 2
|
2 X 700
|
گزشتہ دس برسوں کے دوران حکومت نے فلیٹ موڈکے تحت قائم کیے جانے والے دس مقامی طور پر تیار کردہ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز(پی ایچ ڈبلیو آرز) کے لیے انتظامی منظوری اور مالیاتی منظوری فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ روسی فیڈریشن کے تعاون سے قائم کیے جا رہے کڈنکولم نیوکلیائی توانائی پلانٹ (کے کے این پی پی ) کے پانچویں اور چھٹے یونٹ (2×1000 میگاواٹ) کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
ریاست
|
مقام
|
پروجیکٹ
|
صلاحیت (میگاواٹ)
|
|
کرناٹک
|
کائیگا
|
Kaiga-5&6
|
2 X 700
|
|
ہریانہ
|
گورکھپور
|
GHAVP– 3&4
|
2 X 700
|
|
مدھیہ پردیش
|
چٹکا
|
Chutka-1&2
|
2 X 700
|
|
راجستھان
|
ماہی بانسواڑہ
|
Mahi Banswara-1&2*
|
2 X 700
|
|
Mahi Banswara-3&4*
|
2 X 700
|
|
تمل ناڈو
|
کڈنکولم
|
KKNPP*-5&6
|
2 X 1000
|
*ماہی بانسواڑہ-1 اور 2 نیز ماہی بانسواڑہ-3 اور 4 پروجیکٹوں پر اشونی (اے ایس ایچ وی آئی این آئی )عمل درآمد کر رہی ہے، جو این پی سی آئی ایلاور این ٹی پی سی مشترکہ ادارہ ہے۔
*روسی فیڈریشن کے تعاون سے نافذ کیے جا رہے پروجیکٹ
حکومت نے مرکزی بجٹ 2025-26 میں نیو کلیائی توانائی مشن(این ای ایم) کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سال 2047تک ملک میں نیو کلیائی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 100 گیگاواٹ الیکٹرک(جی ڈبلیو ای )تک پہنچانا ہے، تاکہ بھارت کے توانائی کے مجموعی نظام میں نیو کلیائی توانائی کا حصہ ایک قابلِ اعتماد بنیادی توانائی کے ذریعہ کے طور پر بڑھایا جا سکے۔
بھابھا ایٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی ) نے پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر(پی ڈبلیو آر) ٹیکنالوجی پر مبنی اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) کے ڈیزائن اور تیاری پر کام کیا ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- 220 میگاواٹ الیکٹرک بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر(بی ایس ایم آر-200)۔
- 55 میگاواٹ الیکٹرک اسمال ماڈیولر ری ایکٹر (ایس ایم آر-55)۔
- 5 میگاواٹ تھرمل(ایم ڈبلیو تھرمل) تک صلاحیت والا ہائی ٹیمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر(ایچ ٹی جی سی آر) ، جو ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تمل ناڈو کے کلپکّم میں بھاوِنی (بی ایچ اے وی آئی این آئی)کی جانب سے کمیشن کیا گیا 500 میگاواٹ پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر(پی ایف بی آر) مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ بھارتی حکومت نے اسی ڈیزائن پر مبنی 2×500 میگاواٹ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (ایف بی آر -1 اور ایف بی آر-2) کی تعمیر کے لیے ابتدائی منصوبہ جاتی سرگرمیوں کی بھی منظوری دے دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح۔ش م۔ م ذ۔)
U- 441
(रिलीज़ आईडी: 2288465)
आगंतुक पटल : 11