ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: موسم کی پیش گوئی اور بروقت انتباہی نظام
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 1:30PM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنسز کے وزیرمملکت آزادانہ چارج ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ؛مشن موسم کا آغاز عزت مآب وزیرِ اعظم نے 14 جنوری 2025 کو اس مقصد سے کیا تھا کہ مہاراشٹر سمیت پورے ملک کو’’موسمی طور پر تیار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ قوم‘‘ بنایا جا سکے۔
اس مشن کا بنیادی مقصد ارتھ سسٹم ( ارضیاتی نظام) کے مختلف مشاہداتی اجزاء کو مضبوط بنانا، ابتدائی انتباہی نظام کے قیام کے لیے ارتھ سسٹم اپروچ کو عملی جامہ پہنانا، اور تمام شہریوں کو بلا رکاوٹ موسم اور آب و ہوا سے متعلق خدمات فراہم کرنا ہے۔
مذکورہ اسکیم کے تحت ملک میں موسم اور آب و ہوا کے مشاہدات، سائنسی فہم، ماڈلنگ اور پیش گوئی کے نظام کو غیر معمولی طور پر مضبوط بنایا جا رہا ہے، تاکہ عوام کو زیادہ مؤثر، مفید، درست اور بروقت موسم سے متعلق خدمات فراہم کی جا سکیں۔
مذکورہ مشن کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- جدید ترین موسم سے متعلق نگرانی کی ٹیکنالوجی اور نظام تیار کرنا۔
- بہتر عارضی اور مقامی نمونے لینے اور کوریج کے ساتھ اعلی ریزولوشن والے ماحولیاتی مشاہدات کو نافذ کرنا۔
- جدید آلات سے لیس نئی نسل کے ریڈار، ونڈ پروفائلرز اور سیٹلائٹس نصب کرنا
- جدید ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) نظام نافذ کرنا۔
- موسم اور آب و ہوا سے متعلق قدرتی عمل کو بہتر طور پر سمجھنا اور پیش گوئی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا۔
- جدید ارضیاتی نظام ماڈلز اور ڈیٹا پر مبنی طریقۂ کار تیار کرنا، جن میں مصنوعی ذہانت(اے آئی ) اور مشین لرننگ (ایم ایل )کا استعمال بھی شامل ہو۔
- مؤثر موسمی انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معیاری طریقۂ کار (پروٹوکول) تیار کرنا۔
- آخری مرحلے تک معلومات کی بروقت ترسیل کے لیے جدید ڈسیژن سپورٹ نظام(ڈی ایس ایس ) اور مؤثر معلوماتی نظام قائم کرنا۔
- صلاحیت سازی کو فروغ دینا اور تحقیق کے شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانا۔
- بھارت کا محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی فی الحال ملک بھر میں قائم اپنی ارضیاتی علوم کی وزارت (ایم او ای ایس ) کے دیگر اداروں اور اسرو کے زیرِ انتظام 50 ڈوپلر ویدر ریڈار (ڈی ڈبلیو آرس ) سے موسم سے متعلق معلومات حاصل کر رہا ہے۔
- مشاہداتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرحلہ وار 29 سی بینڈ ڈوپلر ویدر ریڈار، 45 ایکس بینڈ ڈوپلر ویدر ریڈار اور 12 ایس بینڈ ڈوپلر ویدر ریڈار نصب کیے جا رہے ہیں، تاکہ موسمی مشاہدات، عددی موسمی پیش گوئی اور فضائی حرکیات کے مطالعے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ان اقدامات سے ملک، خصوصاً مہاراشٹر میں بھی موسمی مشاہداتی صلاحیت میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ مہاراشٹر میں موجود ڈوپلر ویدر ریڈارز کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔
- مشن موسم کے تحت عالمی اور علاقائی سطح کے مختلف عددی موسمی پیش گوئی (این ڈبلیو پی )ماڈلز کو نافذ کرکے عملی طور پر استعمال میں لایا گیا ہے، تاکہ مختصر مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کی موسمی پیش گوئیاں مسلسل اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ اس سے موسم سے متعلق پیش گوئی کی درستگی اور اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
- فی الحال عالمی سطح کی ماڈلنگ کے دو الگ نظام رائج ہیں۔ ایک ہندوستانی محکمۂ موسمیات(آئی ایم ڈی ) کا گلوبل فورکاسٹ سسٹم (جی ایف ایس )اور دوسرا این سی ایم آر ڈبلیو ایف (این سی ایم آر ڈبلیو ایف)، نوئیڈا کا مِتھونا ماڈلنگ سسٹم۔ مذکورہ دونوں ماڈلز 12 کلومیٹر افقی ریزولیوشن کے ساتھ حقیقی وقت میں کام کرتے ہیں۔
- اس کے علاوہ نیو بھارت فورکاسٹنگ سسٹم (بھارت ایف ایس) کو 6 کلومیٹر کی نہایت اعلیٰ ریزولیوشن پر فعال کیا گیا ہے، تاکہ بلاک سطح سے لے کر پنچایت سطح تک زیادہ درست موسمی پیش گوئیاں فراہم کی جا سکیں۔
- ان اعلیٰ معیار کے ماڈلز کو حقیقی وقت میں مسلسل چلانے اور ان کے لیے درکار کمپیوٹنگ سہولت فراہم کرنے کی غرض سے کمپیوٹنگ کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ بڑی مقدار میں دستیاب موسم سے متعلق معلومات کو یکجا کرکے مقامی، علاقائی اور عالمی سطح کے ماڈلز کو زیادہ بہتر ریزولیوشن پر چلایا جا سکے۔
- نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف ) نوئیڈا میں قائم ’’ارونیکا‘‘ (سپر کمپیوٹر اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم)، پونے میں قائم ’’ارکا‘‘ سپر کمپیوٹنگ نظام نے وزارتِ ارضی علوم کی وزارت کی مجموعی بنیادی پرفارمنس کمپیوٹنگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ارضیاتی علوم کی وزارت نے ملک بھر، خصوصاً مہاراشٹر میں سمندری طوفان، شدید بارش اور دیگر شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے آفات سے قبل بروقت انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ یہ تمام اقدامات سال بھر نافذ رہتے ہیں، جن میں جاری جنوب مغربی مانسون کا موسم بھی شامل ہے۔
یہ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- موسمی مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید وسعت اور مضبوطی فراہم کی گئی ہے۔
- جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، مقامی طور پر تیار کردہ اور عوامی ضروریات کے مطابق موسم سے متعلق پیش گوئی کے ایسے نظام تیار کیے گئے ہیں، جو قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بناتے ہیں اور عوامی تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آئی ایم ڈی کا اپنے وسائل سے تیار کردہ ڈسیژن سپورٹ سسٹم(ڈی ایس ایس ) ’’آتم نربھر بھارت‘‘ مہم کے تحت خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں حالیہ برسوں میں شدید موسمی حالات کی پیش گوئی کی درستگی میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
- اضلاع کی سطح پر اثر پر مبنی پیش گوئیاں اور خطرے پر مبنی انتباہاتجاری کیے جا رہے ہیں، تاکہ متعلقہ حکام سمندری طوفان، شدید بارش، آندھی، گرج چمک، شدید گرمی اور شدید سردی جیسی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کر سکیں۔
- ’’موسم گرام‘‘ (ہر ہر موسم، ہر گھر موسم) کے نام سے ایک منفرد عوامی پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے، جو گاؤں کی سطح تک مقام کے مطابق انتہائی مقامی موسم سے متعلق پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے آئندہ 36 گھنٹوں کی گھنٹہ وار پیش گوئی، پانچ دن تک ہر تین گھنٹے بعد کی پیش گوئی اور دس دن تک ہر چھ گھنٹے بعد کی موسمی پیش گوئی دستیاب ہوتی ہے۔ صارفین پن کوڈ، مقام کے نام، ریاست، ضلع، بلاک یا گرام پنچایت کے ذریعے آسانی سے اپنی جگہ کی موسم سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ صارف کے لیے سازگار نظام شہریوں کو ان کے مقام کے مطابق بروقت، درست اور قابلِ اعتماد موسم سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔
- ضلع کی سطح پر موسمی خطراتاور حساسیت کے نقشے تیار کیے گئے ہیں۔
- موسم کی پیش گوئی اور انتباہات کے لیے جدید جغرافیائی معلوماتی خدمات بھی تیار کی گئی ہیں۔
- بھارت کا محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) ان اداروں میں شامل ہے جو شدید موسمی حالات کے لیے سی اے پی الرٹس جاری کرتا ہے۔ یہ انتباہات ایس ایم ایس اور ساچیت(ایس اے سی ایچ ای ٹی)ایپ کے ذریعے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں، جسے آفات کے بندوبست سے متعلق قومی اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے تیار کیا ہے۔ انہی سی اے پی الرٹس کو ایپل ، گوگل اور جی میس بھی اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے موسمی انتباہات پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
- بھارت کے محکمہ موسمیات( آئی ایم ڈی) نے ایک ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس(اے پی آئی ) بھی تیار کیا ہے، جسے مختلف سرکاری اور نجی ادارے استعمال کر رہے ہیں، تاکہ آئی ایم ڈی کی موسم سے متعلق پیش گوئیوں اور انتباہات کو موبائل ایپس اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
- موسم سے متعلق معلومات اور انتباہات کی فراہمی کے لیے بھارت کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے متعدد موبائل ایپس بھی تیار کی ہیں، جن میں موسم ایپ(ایم اے یو ایس اے ایم) موسم سے متعلق پیش گوئی و انتباہ، میگھ دوت ایپ (ایم ای جی ایچ ڈی او او ٹی ) زرعی موسمی خدمات، دامنی ایپ (ڈی اے ایم آئی این آئی ) شامل ہیں،جسے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی نے تیار کیا ہے۔ آسمانی بجلی سے متعلق انتباہات، اور اومانگ ایپ (یو ایم اے این جی ( ایسے ایپ ہیں جسے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے تیار کیا ہے، جس میں موسم کی پیش گوئی اور انتباہات شامل ہیں۔
دور دراز اور حساس علاقوں تک موسم سے متعلق معلومات کی مؤثر اور بروقت رسائی یقینی بنانے کے لیے بھارت کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی نے )نے مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے درج ذیل اہم اقدامات کیے ہیں، تاکہ سمندری طوفان، شدید بارش اور دیگر شدید موسمی حالات کے دوران آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات سال بھر نافذ رہتے ہیں، جن میں جاری جنوب مغربی مانسون بھی شامل ہے۔
- پنچایتی راج کی وزارت کے تعاون سے پنچایت موسم سیوا پورٹل تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ای۔گرام سوراج ، میری پنچایت ایپ، ای۔مانچتراور موسم گرام کے ذریعے پنچایت سطح تک موسم سے متعلق پیش گوئیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔
- پنچایت کے اراکین، وارڈ ممبران اور پنچایت سیکریٹریوں کے موبائل نمبروں کو پنچایت موسم سیوا پورٹل سے منسلک کیا گیا ہے، تاکہ واٹس ایپ کے ذریعے بروقت موسمی پیش گوئیاں اور زرعی موسمی مشورے انہیں بھیجے جا سکیں، جنہیں وہ گرام پنچایت کی سطح پر مزید آگے پہنچا سکیں۔
- آئی ایم ڈی، وزارتِ دیہی ترقی کے کرشی سکھی اور پشو سکھی نیٹ ورک کی خدمات بھی استعمال کر رہا ہے، تاکہ موسمی پیش گوئیوں اور زرعی موسمی مشوروں کو آخری مرحلے تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
- آئی ایم ڈی نے ملک کے 373 اضلاع میں 7,300 سے زائد کسان بیداری پروگرام منعقد کیے ہیں، جن سے تقریباً 3لاکھ 67 ہزار کسان مستفید ہوئے ہیں، جن میں 83خواہش مند اضلاع بھی شامل ہیں۔ مذکورہ پروگراموں کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کو فروغ دینا اور موسم پر مبنی زرعی مشاورتی خدمات کے مؤثر استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
- مشن موسم کے تحت بھارت کے محکمہ موسمیات( آئی ایم ڈی) نے کے اے ایل پی (کلپ) نامی نظام تیار کیا ہے، جس کے ذریعے مقام، فصل اور فصل کی نشوونما کے مرحلے کے مطابق مخصوص زرعی مشورے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح موسم سنکلپ بھی تیار کیا گیا ہے، جو موسمی تجزیے، زرعی مشوروں کی تیاری اور موسم سے معتلق تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی منصوبہ بندی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
- بروقت موسمی انتباہات حقیقی وقت میں داخلی امور کی زارت ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز(ایس ڈی ایم ایز)، ضلع مجسٹریٹس، محکمۂ صحت اور عوامی خدمات سے وابستہ اداروں کو بھیجے جاتے ہیں۔
- اسی طرح ضلع کلکٹروں، ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، محکمۂ زراعت اور دیگر مقامی اداروں کے ساتھ براہِ راست اور حقیقی وقت پر مبنی رابطے کا مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے، تاکہ موسمی اطلاعات فوری طور پر زمینی سطح تک پہنچ سکیں اور انتظامیہ بروقت حفاظتی اقدامات کر سکے۔
- مہاراشٹر ریاست میں فی الحال فعال ڈوپلر ویدر ریڈار(ڈی ڈبلیو آر ) نیٹ ورک:
|
ریاست
|
ڈی ڈبلیو آر مقام کے لحاظ سے
|
|
مہاراشٹر
|
ممبئی )ایس بینڈ(
|
|
مہاراشٹر
|
ناگپور (ایس بینڈ(
|
|
مہاراشٹر
|
سولاپور (سی بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
ویراولی (سی بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
ممبئی، جوہو (ایکس بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
ممبئی، پنویل (ایکس بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
ممبئی، وسائی، ویرار (ایکس بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
مہابلیشور (ایکس بینڈ)
|
|
مہاراشٹر
|
ممبئی، کلیان، ڈومبیولی (ایکس بینڈ)
|
*****
(ش ح۔ش م۔ م ذ۔)
U- 431
(रिलीज़ आईडी: 2288413)
आगंतुक पटल : 10