وزارتِ تعلیم
وکست بھارت 2047 کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل میں مرکز اور ریاستیں برابر کی شراکت دار ہیں — جناب دھرمیندر پردھان
ہماری اجتماعی کامیابی کا پیمانہ وہ تعلیمی نتائج ہوں گے جو ہم حاصل کرتے ہیں اور وہ مواقع ہوں گے جو ہم ہر بچے کی ترقی اور مستقبل کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ مرکزی وزیر تعلیم
جناب دھرمیندر پردھان نے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی کی مرکزی معاونت سے چلنے والی اسکیموں کا جائزہ لینے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم کے دو روزہ اجلاس کی صدارت کی
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 8:02PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج کہا کہ اسکولی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے میں مرکز اور ریاستیں یکساں شراکت دار ہیں۔ وہ نئی دہلی میں واقع آئی سی اے آر نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) میں منعقدہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم کے دو روزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اس اجلاس کا انعقاد وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی (ڈی او ایس ای ایل) کی مرکزی معاونت سے چلنے والی اسکیموں کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔

اپنے خطاب میں جناب دھرمیندر پردھان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کانفرنس مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے وژن کے مطابق مرکزی معاونت سے چلنے والی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق، جامع اور اعلیٰ معیار کے اسکولی تعلیمی نظام کی تشکیل کے لیے اجتماعی عزم مزید مستحکم ہوگا، اور یہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں منعقد ہونے والے آئندہ پرگتی جائزہ اجلاس میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

جناب دھرمیندر پردھان نے سمگر شکشا، پی ایم شری، نیپن بھارت، پی ایم پوشن اور اُلّاس جیسی پہل کے ذریعے اسکولی تعلیم کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ بنیادی خواندگی اور عددی فہم کو مضبوط بنانے، اساتذہ کو بااختیار بنانے، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے، جدت طرازی کو فروغ دینے اور وکست بھارت 2047 کے ہدف کے حصول کے لیے ہر طالب علم کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کی خاطر مل کر مسلسل کام کریں۔ وزیرِ موصوف نے ریاستوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ بنیادی تعلیم کو مضبوط بنانے اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے بچوں کی مادری زبان اور کثیر لسانی تعلیم کو فروغ دیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کے وزیرِ مملکت جناب جینت چودھری نے اسکولی تعلیم کو مضبوط بنانے اور تعلیمی نتائج میں بہتری لانے کے لیے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

اس کانفرنس کا مقصد ایک یکساں، جامع اور معیاری اسکولی تعلیمی نظام کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانا ہے، جو وکست بھارت 2047 کے ہدف کو حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اجلاس کے مختلف سیشنز میں مرکزی معاونت سے چلنے والی اسکیموں کے نفاذ کو مزید مستحکم بنانے اور تعلیمی نتائج میں بہتری لانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون، معلومات و تجربات کے تبادلے اور ہر طالب علم کے لیے مساوی، جامع اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے مشترکہ عزم کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

کانفرنس کے پہلے روز محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی (ڈی او ایس ای ایل) کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب دھیرج ساہو نے سمگر شکشا اور پرگتی فریم ورک کے تحت زیرِ غور امور پر جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پنکج کے پی شریشکر نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعلیمی اشاریوں کی صورتحال پر پریزنٹیشنز پیش کیں۔ ڈی او ایس ای ایل کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر امرپریت دگّل اور اقتصادی مشیر محترمہ اے شریجا نے بھی مرکزی وزارتِ تعلیم اور ریاستوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کی کارروائی میں شرکت کی۔

************
ش ح۔ع و ۔ ر ض
(U: 429)
(रिलीज़ आईडी: 2288311)
आगंतुक पटल : 10