وزارت دفاع
ڈی آر ڈی او نے اے ای ڈبلیو اینڈ سی ایم کے-2 پروگرام کے ایک حصہ کے طور پر صنعتی شراکت داروں کے ساتھ دو بڑے معاہدوں پر دستخط کیے
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 8:19PM by PIB Delhi
آتم نربھر بھارت کو فروغ دینے کی سمت میں، ڈی آر ڈی او کے 'سینٹر فار ایئر بورن سسٹمز' (سی اے بی ایس) نے اے آئی انجینئرنگ سروسز لمیٹڈ (اے آئی ای ایس ایل)، نئی دہلی کے ساتھ 6 اے321 طیاروں کو تجارتی ترتیب سے گرین کنفیگریشن (بنیادی ڈھانچے) میں تبدیل کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جو آگے چل کر 'ایئربورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول' (اے ای ڈبلیو اینڈ سی) ایم کے-2 پروگرام کی ترقی اور پروڈکشن کا باعث بنے گا۔
اس کے علاوہ، 'اڈانی ڈیفنس سسٹمز اینڈ ٹیکنالوجیز' (اے ڈی ایس ٹی ایل)، احمد آباد کے ساتھ ایک الگ معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں، جس کے تحت اس کمپنی کو اے ای ڈبلیو اینڈ سی ایم کے-2 پروگرام کے لیے ڈیزائن کیے گئے مشن سسٹمز کے 'ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنر' (ڈی سی پی پی) کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
7XVI.jpeg)
نئی دہلی میں 22 جولائی 2026 کو دفاعی سکریٹری اور سکریٹری، محکمہ دفاعی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور سربراہ ڈی آر ڈی او جناب راجیش کمار سنگھ کی موجودگی میں، ڈائریکٹر سی اے بی ایس نے سی ای او 'اے آئی ای ایس ایل' اور ایئربورن پلیٹ فارم کے سربراہ 'اے ڈی ایس ٹی ایل' کے ساتھ معائدوں پر دستخط کیے۔
ڈی آر ڈی او کی لیبارٹری 'کیبس'، ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنر (ڈی سی پی پی) کے طور پر 'اے ڈی ایس ٹی ایل' کے تعاون سے ایئر بس ڈیفنس اینڈ اسپیس (اصلی سامان تیار کرنے والی کمپنی/او ای ایم) کے ذریعے فراہم کردہ ترمیم شدہ اے ای ڈبلیو اینڈ سی ایم کے 2 پلیٹ فارم پر مشن سسٹمز کے انضمام (انٹیگریشن) کی ذمہ دار ہوگی۔ سی اے بی ایس اور اے ڈی ایس ٹی ایل، بھارتی فضائیہ کے ساتھ مل کر اے ای ڈبلیو اینڈ سی ایم کے 2 طیارے کا فلائٹ ٹیسٹ بھی کریں گے تاکہ فضائی اہلیت سے متعلق اداروں— 'سینٹر فار ملٹری ایئروورتھینس اینڈ سرٹیفکیشن' اور 'ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایئروناٹیکل کوالٹی اشورینس' سے سرٹیفکیشن حاصل کی جا سکے۔
ڈی آر ڈی او کا 'اے ای ڈبلیو اینڈ سی ایم کے 2' سسٹم، جس کی مرکزی لیبارٹری 'کیبس' ہے، زیادہ دیر تک پرواز کی صلاحیت، جدید فضائی نگرانی، محفوظ مواصلات، بہتر صورتحال کا ادراک (سٹیویشنل اویرنس) اور بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتیں فراہم کرے گا۔ یہ بدلے میں فضائی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں فروغ دے گا اور توسیع شدہ حدود میں خطرات کو بے اثر کرنے میں مدد کرے گا۔
صنعتوں کی اس شمولیت سے ملک کے اندر اختراع، تحقیق اور مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مضبوط ایکو سسٹم کو فروغ دینے اور خود کفالت حاصل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ م م ع ۔ ن م۔
U- 422
(रिलीज़ आईडी: 2288234)
आगंतुक पटल : 10