صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
بھارت کی صدارت میں جاری برکس وزرائے صحت کے اجلاس کے سلسلے کے تحت چنڈی گڑھ میں سینئر حکام کی میٹنگ
توسیع یافتہ برکس اختراع اور اتفاقِ رائے پر مبنی حل کے ذریعے عالمی صحت کے مستقبل کی تشکیل کا ایک بے مثال موقع فراہم کرتا ہے: سکریٹری ، مرکزی وزارت صحت
بھارت نے مضبوط، پائیدار اور جامع صحت نظام کی تشکیل کے لیے برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت نو ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی
مرکزی صحت سکریٹری نے برکس وزرائے صحت سربراہ اجلاس میں ایف ایس ایس اے آئی، این ایچ اے اور وزارتِ آیوش کے نمائشی پویلین کا افتتاح کیا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 6:42PM by PIB Delhi
بھارت کی صدارت میں جاری برکس وزرائے صحت کی میٹنگ کے سلسلے میں آج چنڈی گڑھ میں سینئر حکام کی میٹنگ ہوئی۔
مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری، محترمہ پُنّیہ سلیلا سریواستو نے میٹنگ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے تمام مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی عوامی صحت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے برکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ باہمی اشتراک، اختراع اور صحت کی خدمات تک مساوی رسائی کے ذریعے مؤثر حل یقینی بنائے جا سکیں۔

اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی سکریٹری برائے صحت ، محترمہ پُنّیہ سلیلا سریواستو نے چنڈی گڑھ میں موجود تمام وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اختراع، پائیداری اور سوچ سمجھ کر کی گئی ترقی پر مبنی اس شہر کی شناخت، بھارت کی برکس صدارت کے مرکزی موضوع ْْاستحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیرْْ کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی صحت کے منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ موضوع پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے، کیونکہ صحت سے متعلق پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے چیلنجوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان مضبوط تعاون، بہتر ہم آہنگی اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔
توسیع یافتہ برکس گروپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری نے کہا کہ دنیا کی ایک بڑی آبادی، سائنسی مہارت اور مینوفیکچرنگ صلاحیت کی نمائندگی کرنے والا یہ گروپ اختراع اور اتفاقِ رائے پر مبنی حل کے ذریعے عالمی صحت کے مستقبل کو نئی سمت دینے کا ایک بے مثال موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شراکت داری اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کے تحت بھارت نے مضبوط، منصفانہ اور جامع صحت نظام کی تشکیل کے لیے برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت نو ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان ترجیحی شعبوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، مضبوط نگرانی کے نظام اور تجربہ گاہوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مستقبل کی صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو بہتر بنانا، ڈیجیٹل صحت ٹیکنالوجیز سے بھرپور استفادہ کرنا، روایتی طب کو صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں شامل کرنا، ضابطہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانا، ماہر اور باصلاحیت طبی افرادی قوت تیار کرنا، مشترکہ تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا، اور صحت کی خدمات، ضروری ادویات اور طبی مصنوعات تک بروقت، کم لاگت اور مساوی رسائی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔
مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری نے برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت بھارت کی دو اہم پہلوں—صحت مند طرزِ زندگی کے لیے برکس مشن اور ذہنی صحت کے لیے برکس سینٹرز آف ایکسی لینس کے مجوزہ نیٹ ورک—کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات احتیاطی اور فروغی صحت کی دیکھ بھال، خصوصی طبی خدمات، علم کے تبادلے اور صحتِ عامہ کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے برکس ممالک کے درمیان گہرے تعاون کے مشترکہ عزم کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
برکس وزرائے صحت کے مجوزہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ پُنّیہ سلیلا سریواستو نے کہا کہ یہ دستاویز رکن ممالک کے درمیان ہونے والے وسیع تکنیکی مشاورتی عمل کے مشترکہ وژن اور اس کے نتائج کی عکاس ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سینئر حکام کی میٹنگ کے دوران ہونے والی گفتگو اعلامیے کی باقی شقوں پر اتفاقِ رائے قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی، جس سے برکس وزرائے صحت کی 16ویں میٹنگ میں اس کی باضابطہ منظوری کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے جوہری طب جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور برکس ویکسین تحقیق و ترقی مرکز کی سرگرمیوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مشترکہ تحقیق، اختراع اور عالمی صحت کے تحفظ کے لیے برکس ممالک کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری نے بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی)، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) اور وزارتِ آیوش کے نمائشی پویلین کا بھی افتتاح کیا۔ ان پویلینز میں غذائی تحفظ، ڈیجیٹل صحت، روایتی نظامِ طب اور مربوط صحت خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں بھارت کی نمایاں پہلوں اور اختراعات کو پیش کیا گیا، جس سے وفود کو ملک میں صحت کے شعبے میں ہونے والی انقلابی پیش رفت اور اقدامات سے براہِ راست استفادہ کا موقع ملا۔

سینئر حکام کی میٹنگ کے دوران ہونے والی گفتگو کا بنیادی مقصد برکس وزرائے صحت کے مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دینا تھا۔ اجلاس میں سینئر حکام نے برکس ہیلتھ ٹریک کے تحت طے کیے گئے اہم ترجیحی شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور صحتِ عامہ سے متعلق مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ان مباحث میں بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانا، ہمہ گیر صحت خدمات کو فروغ دینا، ڈیجیٹل صحت اور طبی اختراعات کو آگے بڑھانا، صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری اور ردِعمل کی صلاحیت میں اضافہ، جراثیم کُش ادویاتکے بندوبست، ادویات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا، معیاری اور کم لاگت طبی مصنوعات تک رسائی بہتر بنانا، نیز روایتی طب اور صحت سے متعلق تحقیق میں اشتراک کو وسعت دینا شامل تھا۔
شریک ممالک نے مضبوط، منصفانہ اور جامع صحت نظام کی تشکیل کے لیے مشترکہ تحقیق، علم کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور ٹیکنالوجی کے اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔ میٹنگ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے مضبوط کثیر جہتی تعاون ناگزیر ہے۔
***********
ش ح۔ع و ۔ رض
(U: 424)
(रिलीज़ आईडी: 2288201)
आगंतुक पटल : 17