اقلیتی امور کی وزارتت
جامع بنیادی ڈھانچہ اور بہبودی پہل قدمیوں نے بھارتی عازمین حج کے لیے حج انتظام کاری کو بہتر کیا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 5:16PM by PIB Delhi
حکومت نے، اقلیتی امور کی وزارت اور حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے، سعودی عرب کی متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ تال میل قائم کر کے بھارتی عازمینِ حج کے لیے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو جدید اور بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ کچھ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- منیٰ کے کیمپوں میں بہتر بنیادی ڈھانچہ: منیٰ میں روایتی رہائشی انتظامات کو سوفا اور بیڈ فراہم کر کے جدید بنایا گیا ہے، جس سے عازمین کے قیام کے دوران زیادہ آرام، دستیاب جگہ کے بہتر استعمال اور رہنے کے بہتر حالات کو یقینی بنایا گیا ہے۔
- ہائی اسپیڈ ٹرین لنک : بھارتی عازمینِ حج کے لیے مکہ اور مدینہ کے درمیان ہائی اسپیڈ ریل کے ذریعے سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس نے سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، حفاظت کو بہتر بنایا ہے اور مجموعی سفری سہولت میں اضافہ کیا ہے۔
- حج سہولت ایپ: وزارت نے 'حج سہولت ایپ' تیار کی ہے، جو کہ ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو عازمین کو حج سے متعلق اہم خدمات تک رسائی کی سہولت دیتا ہے جیسے کہ سفر کی تفصیلات، رہائش کی معلومات، سامان کی ٹریکنگ، ہنگامی رابطے، شکایات کا ازالہ، صحت سے متعلق معلومات اور دیگر ضروری خدمات؛ جس سے پورے سفرِ حج کے دوران باہمی رابطے اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آتی ہے۔
- مکہ مکرمہ میں ہوٹل نما رہائش: مکہ مکرمہ میں بھارتی عازمینِ حج کے لیے بہتر سہولیات اور خدمات کے ساتھ ہوٹل نما رہائش کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے حج کے دوران زیادہ آرام، بہتر رسائی اور زیادہ آسان قیام کو یقینی بنایا گیا ہے۔
حکومت نے حج 2026 کی تیاریوں کے لیے وزارت، حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں وقفے وقفے سے جائزہ اجلاسوں کے ذریعے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، تمام انتظامی سرگرمیوں کے لیے تفصیلی رہنما خطوط اور وقت کی حد جاری کرنا، اور رہائش، ٹرانسپورٹ، تربیت اور دیگر لاجسٹک انتظامات کو آسان بنانے کے لیے باقاعدہ مشاورت شامل ہے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان حج کوٹے کی تقسیم تازہ ترین قابلِ اطلاق مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی مسلم آبادی کے تناسب سے کی جاتی ہے۔ اسی مناسبت سے، ریاست تمل ناڈو کے حج کوٹے میں اضافہ کرنے کی کوئی الگ تجویز زیر غور نہیں ہے۔
حکومت نے عازمینِ حج کی حفاظت، آرام اور لاجسٹک سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں معمر شہریوں (بزرگوں) اور پہلی بار حج پر جانے والے عازمین پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- بزرگ عازمین کے لیے لازمی مددگار : 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے عازمین کے لیے ایک ساتھی کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ پورے سفرِ حج کے دوران انہیں مناسب مدد اور دیکھ بھال مل سکے۔
- جامع انشورنس کور: ہر عازمِ حج کو 6.25 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا گیا ہے، جو حج کے سفر کے دوران کسی بھی غیر متوقع ہنگامی صورتحال کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
- ایس ایچ آئی کا تناسب: حج 2026 کے لیے، اسٹیٹ حج انسپکٹر کے تناسب کو بہتر بنا کر 1:150 (ایک انسپکٹر برائے 150عازمین) کر دیا گیا ہے، تاکہ عازمین کو بہتر رسائی اور فوری خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
- روانگی سے قبل تربیت: تمام منتخب عازمینِ حج کو سعودی عرب روانگی سے پہلے جامع واقفیت اور تربیت دی جاتی ہے، جس میں حج کے ارکان، سفر کے طریقے، صحت سے متعلق ہدایات، حفاظتی اقدامات اور ڈیجیٹل خدمات کا استعمال شامل ہے۔
- سعودی عرب میں طبی ڈھانچہ: حج کے دوران بروقت اور معیاری صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب میں اہم مقامات پر ہسپتالوں، طبی مراکز اور ڈسپنسریوں پر مشتمل طبی نظام قائم کیا گیا ہے۔ حکومت بھارتی عازمین کو طبی امداد اور ہنگامی صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے اہل ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کو سعودی عرب روانہ کرتی ہے۔
ان اقدامات کا مجموعی مقصد ایک محفوظ، زیادہ آرام دہ اور عازمین کے لیے سازگار حج کا تجربہ فراہم کرنا ہے، خاص طور پر معمر شہریوں (بزرگوں) اور پہلی بار حج کا سفر کرنے والوں کے لیے۔
یہ معلومات اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
***
(ش ح –اب ن)
U.No:398
(रिलीज़ आईडी: 2288056)
आगंतुक पटल : 5