الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے تمل ناڈو میں دو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سیز) کی منظوری دے دی جس سے منلور (474.3 ایکڑ) اور پلّا پائیکم (379.3 ایکڑ) میں 1,012 کروڑ روپے کے منصوبوں سے الیکٹرانکس صنعت کو فروغ ملے گا

 ہندوستان  بھر میں سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ کی تیاری میں تیزی؛ ملک کے 315 تعلیمی اداروں کو تعاون، جن میں تمل ناڈو کے 61 ادارے بھی شامل

حکومت کے الیکٹرانکس شعبہ کو فروغ دینے کے اقدامات سے تقریباً 25 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اب ملک میں فروخت ہونے والے 99.2 فیصد موبائل فون  ہندوستان ہی میں تیار کیے جا رہے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 3:37PM by PIB Delhi

وزیراعظم کے آتم نربھر بھارت کے ویژن سے متاثر ہو کر حکومت نے سیمی کنڈکٹرز سمیت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی پوری ویلیو چین کی ترق و فروغ کے لیے منظم اور ہدف پر مبنی پالیسی اقدامات اختیار کیے ہیں۔

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں بھارت کی کامیابیاں

سال 2014 سے حکومتِ ہند نے ملک میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں- براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) سے متعلق اصلاحات،ٹیکس اصلاحات،لیبر اصلاحات،پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیمیں اور الیکٹرانکس صنعت کی ترقی کے لیے دیگر مختلف مراعاتی اقدامات۔ان پالیسیوں کے نتیجے میں بھارت آج دنیا کے نمایاں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ مراکز میں شامل ہو چکا ہے، جس کا ثبوت درج ذیل کامیابیاں ہیں:

#

2014-15

2025-26

ریمارکس

الیکٹرانکس سامان کی پیداوار(روپے)

~1.9 لاکھ کروڑ

13.11 لاکھ کروڑ

7 گنا اضافہ ہوا۔

الیکٹرانکس سامان کی برآمد (روپے)

~38 ہزار کروڑ

~ 4.24 لاکھ کروڑ

11 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فونز کی پیداوار (روپے)

~ 18 ہزار کروڑ

~6.27 لاکھ کروڑ

33 گنا اضافہ ہوا۔

موبائل فونز کی برآمد (روپے)

~1500 کروڑ

~ 2.59 لاکھ کروڑ

165 گنا اضافہ ہوا۔

بھارت میں فروخت ہونے والے تقریباً 99.2 فیصد موبائل فون اب ملک کے اندر ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔ موبائل فون بھارت کی برآمدات کی سب سے بڑی واحد شے بن چکے ہیں۔

صنعتی اندازوں کے مطابق، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا شعبہ اس وقت ملک میں تقریباً 25 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ

وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن سے تمل ناڈو کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ حکومتِ ہند نے تمل ناڈو میں متعدد الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام میں تعاون فراہم کیا ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

#

ضلع

 پلانٹس کی تعداد

1

چنگل پٹو

4

2

چنئی

6

3

کوئمبٹور

1

4

کانچی پورم

38

5

کرشناگیری

8

6

تھوتھکوڈی

2

7

ترونیل ویلی

1

8

ترووالور

6

9

ویلور

1

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی)

وزیراعظم نریندر مودی نے الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، دفاع، کیمیکلز اور دیگر مختلف شعبوں میں مینوفیکچرنگ کلسٹرز کے قیام کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ الیکٹرانکس کے شعبے میں اس ویژن کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر (ای ایم سی) اسکیم کے ذریعے عملی شکل دی گئی۔

حکومت نے تمل ناڈو میں درج ذیل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز کی معاونت کی ہے:

  • منلور میں  474.3  ای ایم سی ایکڑ رقبے پر قائم، جس کی منصوبہ لاگت 587.47 کروڑ روپے ہے۔
  • پلّاپائیکم میں    — 379.3 ای ایم سی  ایکڑ رقبے پر قائم، جس کی منصوبہ لاگت 424.55 کروڑ روپے ہے۔

سیمی کن انڈیا پروگرام (ایس آئی پی)

سیمی کنڈکٹر صنعت جدید معیشت کی بنیادی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ صنعتی پیداوار، صارفین کی مصنوعات، دفاع، ٹیلی کمیونیکیشن، آٹوموبائل اور دیگر کئی شعبے سیمی کنڈکٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صنعت تکنیکی اختراع، معاشی ترقی اور اسٹریٹجک خود انحصاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سیمی کنڈکٹرز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے جنوری 2022 میں سیمی کن انڈیا پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد:سیمی کنڈکٹر فیب قائم کرنا،ڈسپلے فیب لگانا،سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ یونٹس قائم کرنا، اور ہندوستان  میں ڈیزائن کیے گئے چِپس (آئی ڈی سی) کو فروغ دینا ہے۔

اس پروگرام کے تحت حکومت نے 6ریاستوں آندھرا پردیش، آسام، گجرات، پنجاب، اوڈیشہ اور اتر پردیش میں 12 مینوفیکچرنگ منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن میں تقریباً 1.64 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان 12 منصوبوں میں سے 3 یونٹس میں تجارتی پیداوار پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔

سیمی کن انڈیا پروگرام اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ پلانٹ کے مقام(لوکیشن )کے انتخاب کا اختیار سرمایہ کاروں کے پاس رہے۔ سرمایہ کار مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقام کا انتخاب کرتے ہیں، جبکہ حکومت ملک بھر میں متوازن صنعتی ترقی کے لیے مختلف ریاستوں میں مینوفیکچرنگ کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں آج سیمی کنڈکٹر پلانٹس ملک کی چھ مختلف ریاستوں میں قائم کیے جا رہے ہیں۔

سیمی کنڈکٹر ڈیزائن

سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کسی بھی چِپ کی ساختاور اس کے مخصوص استعمال یا کارکردگی کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ چِپ ڈیزائننگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) ، انجینئرنگ اور املاک دانش (آئی)پر بہت زیادہ انحصار ہوتا ہے، اس لیے حکومت سیمی کن انڈیا پروگرام کے تحت ڈیزائن لنکڈ انسینٹو (ڈی ایل آئی) اسکیم کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز(ایم ایس ایم ایز) کو مالی معاونت اور بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں، بشمول ڈیزائن ٹولز تک مفت رسائی، فراہم کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ، 24سیمی کنڈکٹر ڈیزائن منصوبوں کو مالی معاونت کے لیے منظور کیا گیا ہے، جبکہ 105اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے)ٹولز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

حکومتِ ہند نے تمل ناڈو میں بھی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت درج ذیل کمپنیوں کو تعاون فراہم کر رہی ہے:

 

#

نام

مقام

حمایت

1

اہیسا ڈجیٹل انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ

چنئی

گرانٹ اور ای ڈی اے ٹول

2

مائنڈ گروو پرائیویٹ لمیٹڈ  

چنئی

گرانٹ اور ای ڈی اے ٹول

3

ان کور سیمی کنڈکٹر پرائیویٹ لمیٹڈ

چنئی

گرانٹ اور ای ڈی اے ٹول

4

ایم بٹ وائرلیس  پرائیویٹ لمیٹڈ

چنئی

گرانٹ اور ای ڈی اے ٹول

5

اسٹروئنٹ سیمی کنڈکٹر پرائیویٹ لمیٹڈ

چنئی

ای ڈی اے ٹول

6

پی آر ایس سیمی کون ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ

چنئی

ای ڈی اے ٹول

7

سیکریسٹ سیمی کنڈکٹرز لمیٹڈ

کوئمبٹور

ای ڈی اے ٹول

 

سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ کی ترقی:

اس گہری ٹیک انڈسٹری کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے، حکومت ہند ملک بھر کے 315 اداروں میں ڈیزائن ٹیلنٹ کی ترقی و فروغ  میں مدد کر رہی ہے۔

حکومت ہند نے تمل ناڈو میں درج ذیل یونیورسٹیوں میں ہنر کی نشوونما کی حمایت کی ہے:

 

 

#

انسٹی ٹیوٹ

مقام

  1.  

ڈاکٹر مہلنگم کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

ایس این ایس کالج آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، تروچیراپلی

تروچیراپلی

  1.  

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، تروچیراپلی

تروچیراپلی

  1.  

انا یونیورسٹی ریجنل کیمپس، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

محمد ساٹھک انجینئرنگ کالج، رام ناتھ پورم

رامناتھ پورم

  1.  

کارونیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنسز، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

سینٹ زیویئرز کیتھولک کالج آف انجینئرنگ، کنیا کماری

کنیا کماری

  1.  

کالج آف انجینئرنگ گائنڈی، انا یونیورسٹی، چنئی

چنئی

  1.  

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ، کانچی پورم

چنگل پٹو

  1.  

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،  مدراس

چنئی

  1.  

پی ایس جی کالج آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (وی آئی ٹی) ، ویلور

ویلور

  1.  

کریسنٹ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چنئی

چنگل پٹو

  1.  

ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(وی آئی ٹی) ، چنئی

چنگل پٹو

  1.  

مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی

چنگل پٹو

  1.  

کونگو انجینئرنگ کالج، پیروندرائی، تمل ناڈو

ایروڈ

  1.  

ساسٹرا ڈیمڈ یونیورسٹی، تمل ناڈو

تنجاور

  1.  

ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کٹنکولتھور

چنگل پٹو

  1.  

آر ایم کے کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، تروولور

ترووالور

  1.  

کالاسلنگم اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ایجوکیشن، تمل ناڈو

ویردھونگر

  1.  

محمد ستک اے جے کالج آف انجینئرنگ، چنئی

چنگل پٹو

  1.  

ایس ایس این کالج آ ف انجینئرنگ، کالواکم

چنگل پٹو

  1.  

ایشوری انجینئرنگ کالج، چنئی

چنئی

  1.  

ویل ٹیک، چنئی

تروالور

  1.  

آر ایم کے انجینئرنگ کالج، کوارائی پیٹی

تروالور

  1.  

ایس آر ایم ٹی آر پی انجینئرنگ کالج، ترچی

تروچیراپلی

  1.  

سری ایشور کالج آف انجینئرنگ، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، تروچیراپلی

تروچیراپلی

  1.  

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی چنئی

چنئی

  1.  

ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چنئی

چنئی

  1.  

سری سائی رام انجینئرنگ کالج، چنئی

چنگل پٹو

  1.  

چنئی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چنئی

چنگل پٹو

  1.  

تھیاگراجار کالج آف انجینئرنگ، مدورائی

مدورائی

  1.  

جے این این انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، چنئی

ترووالور

  1.  

اروناچل کالج آف انجینئرنگ برائے خواتین، تمل ناڈو

کنیا کماری

  1.  

گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

سری شکتی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

پی ایس آر انجینئرنگ کالج، سیوکاسی

ویردھونگر

  1.  

راج لکشمی انجینئرنگ کالج، تھنڈلم، چنئی

کانچی پورم

  1.  

راج لکشمی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چنئی

چنئی

  1.  

سونا کالج آف ٹیکنالوجی، سلیم

سالم

  1.  

ہندوستھان کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

کے ایس رنگا سامی کالج آف ٹکنالوجی (خود مختار)، نمککل، تمل ناڈو

نماکل

  1.  

گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ، ایروڈ

ایروڈ

  1.  

امرتا اسکول آف انجینئرنگ، امرتا وشوا ودیاپیٹھم، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

پی ایس جی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ اپلائیڈ ریسرچ، کوئمبٹور، تمل ناڈو

کوئمبٹور

  1.  

آر ایم ڈی انجینئرنگ کالج، کاوارائپیٹائی

تروالور

  1.  

سویتا انجینئرنگ کالج (خود مختار)، کانچی پورم

چنگل پٹو

  1.  

کوئمبٹور انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

کرپاگام انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

کرپاگام کالج آف انجینئرنگ (خود مختار)، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

سری وینکٹیشور کالج آف انجینئرنگ، تمل ناڈو

چنگل پٹو

  1.  

ویل ٹیک ملٹی ٹیک ڈاکٹر رنگاراجن ڈاکٹر سکونتھلا انجینئرنگ کالج، چنئی

تروالور

  1.  

سینٹ جوزف کالج آف انجینئرنگ، چنائی

چنگل پٹو

  1.  

کامراج کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، مدورائی

مدورائی

  1.  

کماراگورو کالج آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

  1.  

دھیرج لال گاندھی کالج آف ٹیکنالوجی (خودمختار)، سیلم

سالم

  1.  

ویلمل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، تھروالور

تروالور

  1.  

بناری اماں انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایروڈ، تمل ناڈو

ایروڈ

  1.  

کے آئی ٹی کلائیگنرکروناندھی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کوئمبٹور

کوئمبٹور

اس لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکومت ہند نے تمل ناڈو میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن کے پورے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے مضبوط تعاون فراہم کیا ہے۔

سیمی کان 2.0

کابینہ نے 15 جولائی 2026 کو سیمی کان 2.0 کی منظوری دی۔ یہ پروگرام ان شعبوں کو خارج نہیں کرتا جو پہلے سیمی کن انڈیا پروگرام کے تحت شامل تھے۔ چونکہ اس پروگرام کے تحت منظور شدہ مختلف منصوبوں نے اپ اسٹریم سپلائی چین میں نئی طلب پیدا کی ہے، اس لیے سیمی کان 2.0 کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ سیمی کنڈکٹر کے مکمل ماحولیاتی نظام کا احاطہ کرے۔

اس سے تمام ریاستوں، بشمول تمل ناڈو، کو پرکشش سرمایہ کاری حاصل کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

انڈیا اے آئی مشن

بھارت کی اے آئی پالیسی وزیراعظم نریندر مودی کے ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے (ڈی ٹی) کے ویژن پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع اور روزگار پیدا کرنا ہے، جبکہ اے آئی سے وابستہ ممکنہ خطرات سے نمٹنا بھی اس میں شامل ہے۔ ہندوستان کی اے آئی حکمت عملی ملک کے مضبوط آئی ٹی شعبے پر قائم ہے، جس کی سالانہ آمدنی 300 ارب امریکی ڈالر اور افرادی قوت 60 لاکھ سے زائد ہے۔ انڈیا اے آئی مشن سات اہم ستونوں کے تحت بھارت کے اے آئی اہداف کی حمایت کرتا ہے، جن میں:اے آئی ماڈلز کی تیاری،ایپلی کیشنز کی ترقی،ڈیٹا سیٹس کی فراہمی،ٹیلنٹ کی تیاری اورکم لاگت کمپیوٹنگ وسائل کی دستیابی شامل ہیں۔

اے آئی ماڈلز

حکومتِ ہند بھارتی اسٹارٹ اپس اور اداروں کو بڑے لسانی ماڈلز (ایل ایل ایم ایس) اور چھوٹے لسانی ماڈلز (ایس ایل ایم ایس) تیار کرنے میں تعاون فراہم کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 20 مقامی خودمختار ماڈل تجاویز کو حمایت کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جن میں 12 ایل ایل ایم ایس اور 8ایس ایل ایم ایس شامل ہیں۔

اب تک کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں:اے آئی سروم کے 30 ارب پیرامیٹر اور 105 ارب پیرامیٹر والے ماڈلز، اے آئی جیمنی کا اسپیچ ٹو اسپیچ ماڈل، بھارت جین کے کثیر لسانی فاؤنڈیشن ماڈلز اور اے آئی اوتار کا ویڈیو جنریشن ماڈل۔اس کے علاوہ صحت، زبان کی ٹیکنالوجیز اور ایجنٹک اے آئی سسٹمز سے متعلق مخصوص شعبہ جاتی  ایس ایل ایم ایس اور اے آئی فریم ورکس مختلف مراحل میں تیار اور نافذ کیے جا رہے ہیں۔

اے آئی مراکزِ امتیاز

حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں متعلقہ حکومتوں اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے 58 مصنوعی ذہانت مراکزِ امتیاز اے آئی-سی او ای ایس) قائم کرنے کی اسکیم کی بھی منظوری دی ہے۔حکومتِ ہند نے تمل ناڈو میں دواے آئی مراکزِ امتیاز کی منظوری دی ہے۔

بھارت-امریکہ اے آئی تعاون

اے آئی، بھارت اور امریکہ کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ پیکس سلیکا اقدام کے تحت دونوں ممالک اے آئی کے لیے کمپیوٹنگ وسائل اور پروسیسرز تک رسائی کو بہتر بنانے اور تحقیق و ترقی کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیز) کو ایک کاروباری اور خود کفیل ماڈل پر قائم کیا گیا ہے۔ سی ایس سی-ایس پی وی اس منصوبے کی عمل درآمدی ایجنسی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد دیہی شہریوں کو سی ایس سیزکے ذریعے معاون انداز میں ای-سروسز فراہم کرنا اورسی ایس سینیٹ ورک کو گرام پنچایت کی سطح تک توسیع دینا ہے۔ یہ ایک پین انڈیا منصوبہ ہے۔

ملک بھر میں ان سی ایس سیزکے ذریعے 800 سے زیادہ شہری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ 31 مئی 2026 تک قومی سطح اور تمل ناڈو میں سی ایس سیزکی صورتحال درج ذیل تھی:

 

 

فعال  سی ایس سیزکی مجموعی تعداد

دیہی علاقوں میں فعال سی ایس سیزکی تعداد (گرام پنچایت یا گاؤں کی سطح)

قومی سطح

5,01,731

3,91,160

تمل ناڈو

18,632

12,379

 

اضلاع کے لحاظ سے کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیزکی فہرست اور ان کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات کی مکمل فہرست www.csc.gov.in پر دستیاب ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، اشونی ویشنو نے 22 جولائی 2026 کو ایوان زیریں-لوک سبھا میں تحریری جواب کے ذریعے پیش کی۔

 

*****

 


 

355UR-

م ش ح-ظ الف

 


(रिलीज़ आईडी: 2288019) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil