خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اسکیم بچوں میں صنفی تناسب اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو رہی ہے


بی بی بی پی کا بنیادی مقصد ملک بھر میں بچیوں کے بارے میں لوگوں کے رویّوں اور سماجی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہے، تاکہ انہیں مساوی اہمیت، احترام اور بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 4:03PM by PIB Delhi

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم بچوں میں صنفی تناسب اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد مختلف متعلقہ فریقوں کو آگاہ کرنے، متاثر کرنے، ترغیب دینے، ان کی شمولیت کو فروغ دینے اور انہیں بااختیار بنانے کے ذریعے بچیوں کے بارے میں سماجی سوچ اور رویّوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے دوران، مشن شکتی کے سمبل (ایس اے ایم بی اے ایل) عمودی حصے کے ایک جزو کے طور پر بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اسکیم کو ملک کے تمام اضلاع تک توسیع دی گئی ہے، جہاں کثیر شعبہ جاتی اقدامات کے ذریعے ایسی سرگرمیوں پر زیادہ خرچ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جن کے زمینی سطح پر واضح اثرات مرتب ہوں۔ مختلف سرکاری اداروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور عوام کی وسیع شمولیت کے باعث یہ اسکیم ایک پالیسی اقدام سے آگے بڑھ کر ایک قومی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا بنیادی مقصد ملک بھر میں بچیوں کے بارے میں سماجی رویّوں اور سوچ میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ اس اسکیم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد کو براہِ راست ناپا نہیں جا سکتا۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، پیدائش کے وقت صنفی تناسب (ایس آر بی) میں مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے، جو 2014-15 میں قومی سطح پر 918 سے بڑھ کر 2024-25 میں 929 ہو گیا ہے۔ اسی طرح وزارت تعلیم کے یو-ڈائس (UDISE) اعداد و شمار کے مطابق، ثانوی سطح پر اسکولوں میں لڑکیوں کے مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر) میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو 2014-15 میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 2025-26 میں 83.4 فیصد ہو گیا ہے۔

پردھان منتری ماتر وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے، جس پر یکم جنوری 2017 سے ملک بھر کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (تلنگانہ کے علاوہ) میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مرکزی معاونت یافتہ زچگی فوائد کی اسکیم ہے، جس کے تحت پہلے بچے کی پیدائش پر مستحق خواتین کو براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ان کے بینک یا ڈاک خانہ اکاؤنٹ میں 5,000 روپے کی نقد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ ادارہ جاتی زچگی کے بعد مستحق خواتین کو جننی سرکشا یوجنا کے منظور شدہ ضوابط کے مطابق باقی رقم بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ اوسطاً ایک خاتون کو زچگی کے فوائد کی مد میں 6,000 روپے حاصل ہوں۔ اسی طرح، اگر دوسرا بچہ لڑکی ہو تو اس صورت میں بھی مستحق خواتین کو پردھان منتری ماتر وندنا یوجنا کے تحت 6,000 روپے کی نقد مالی امداد دی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے آغاز (یکم جنوری 2017) سے لے کر 15 جولائی 2026 تک ملک بھر میں تقریباً 4.35 کروڑ خواتین کو مجموعی طور پر 20,446 کروڑ روپے کے فوائد فراہم کیے جا چکے ہیں۔

 

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

U: 385


(रिलीज़ आईडी: 2287954) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil