ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور بہتر دیکھ بھال کے ذریعے ریلوے کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا گیا؛ 27-2026 ء میں اب تک صرف دو سنگین نتائج والے ٹرین حادثات درج کیے گئے


6,671 اسٹیشن الیکٹرانک انٹرلاکنگ اور مکمل ٹریک سرکٹنگ سے لیس؛ انسانی غلطیوں کو کم کرنے کے لیے 10,395 لیول کراسنگ گیٹس کو انٹرلاک کیا گیا

بھارتی ریلوے نے 26-2014 ء کے دوران 36,429 ٹریک کلومیٹر کا اضافہ کیا، جو 14-2004 ء کے مقابلے میں 2.5 گنا سے بھی زیادہ ہے؛ آر او بی / آر یو بی کی تعداد تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 14,362 ہوئی

رولنگ اسٹاک اور دیکھ بھال کے طریقۂ کار کو جدید بنانے سے تحفظ میں اضافہ؛ 26-2014 ء کے دوران ایل ایچ بی کوچوں کی پیداوار 21 گنا سے زیادہ بڑھ کر 49,366 ہوئی اور ویلڈ فیل ہونے کے واقعات میں 93 فی صد کمی آئی

کَوَچ 4.0 کو 2,490 روٹ کلومیٹر پر کامیابی کے ساتھ نصب کیا گیا، جس میں زیادہ بھیڑ بھاڑ والے دلّی-ممبئی اور دلّی-ہاوڑہ روٹس شامل ہیں

کَوَچ کے نفاذ کا کام 21,937 روٹ کلومیٹر پر جاری؛ 7,435 لوکوموٹیوز اور 1,200 ای ایم یو/میمو ٹرینوں میں تنصیب کا عمل شروع کیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 3:09PM by PIB Delhi

 ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں  بتایا کہ  بھارتی ریلوے میں حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران  کئے گئے مختلف حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس میں ٹرینوں کے  ٹکرانے  اور پٹری سے اترنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

سنگین نتائج والے ٹرین حادثات کی تعداد میں کمی درج ذیل جدول میں دکھائی گئی ہے :-

 

سال

سنگین حادثے

2014-15 ء

135

2025-26 ء

16  ( 88 فی صد  کی کمی )

2026-27 ء ( جون ، 2026 ء تک )

2

 

ٹرین آپریشنز میں حفاظتی بہتری کو ظاہر کرنے والا ایک اور اہم اشاریہ سنگین حادثات کا اشاریہ ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں :-

 

سنگین حادثات کا اشاریہ:-

سال

حادثات کا اشاریہ

2014-15 ء

0.11

2025-26 ء

0.01 ( 91 فی صد کی کمی )

 

یہ اشاریہ تمام ٹرینوں کے کل کلومیٹر کے تناسب کے طور پر سنگین حادثات کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

حادثات کا اشاریہ = سنگین حادثات کی تعداد / ٹرینوں کے  سفر کے کلومیٹر × 10 لاکھ

 

 

بھارتی ریلوے میں پیش آنے والے حادثات کی وجوہات میں عمومی طور پر پٹری کے نقص، لوکو/کوچ کے نقائص، آلات کی خرابی، انسانی غلطیاں وغیرہ شامل ہیں۔

بھارتی ریلوے میں سنگین نتائج والے ٹرین حادثات اور ان میں ہونے والی ہلاکتیں (بشمول ریلوے مسافر اور ریلوے عملہ) درج ذیل ہیں:-

 

مدت

ٹرین کے حادثات کی تعداد

اموات کی تعداد

زخمیوں کی تعداد

2004-05  ء سے  2013-14 ء

1,711

904

3,155

2014-15  ء سے  2023-24 ء

678

748

2,087

2024-25 ء

31

18

92

2025-26 ء

16

17

27

 

ٹرین آپریشنز میں حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے کئے گئے مختلف حفاظتی اقدامات درج ذیل ہیں :-

1. بھارتی ریلوے میں حفاظتی سرگرمیوں سے متعلق اخراجات میں گزشتہ برسوں کے دوران درج ذیل کے مطابق اضافہ ہوا ہے :-

 

سال

حفاظت سے متعلق سرگرمیوں پر اخراجات/بجٹ (کروڑ میں روپے)

2013-14 ء

39,200

2022-23 ء

87,336

2023-24 ء

1,01,662

2024-25 ء

1,14,022

2025-26 ء

1,17,693

2026-27 ء

1,20,389

 

2.  انسانی غلطی کے باعث ہونے والے حادثات کو کم کرنے کے لیے 30 جون ، 2026 ء  تک 6,671 اسٹیشنوں پر پوائنٹس اور سگنلز کے مرکزی آپریشن کے ساتھ برقی/الیکٹرانک انٹرلاکنگ نظام فراہم کیے گئے ہیں۔

3.  لیول کراسنگ ( ایل سی ) گیٹس پر حفاظت کو بڑھانے کے لیے 30 جون ، 2026 ء  تک 10,395 لیول کراسنگ گیٹس پر انٹرلاکنگ فراہم کی گئی ہے۔

4.  اسٹیشنوں پر پٹری کے استعمال کی برقی ذرائع سے تصدیق کے ذریعے حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے  30 جون ، 2026 ء    تک 6,671 اسٹیشنوں پر مکمل ٹریک سرکٹنگ فراہم کی گئی ہے۔

5.  سگنلنگ کی حفاظت سے متعلق امور، جیسے لازمی خط و کتابت کی جانچ، تبدیلی کے کام کا پروٹوکول، تکمیلی ڈرائنگ کی تیاری وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

6.  پروٹوکول کے مطابق سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن ( ایس اینڈ ٹی ) آلات کے منقطع کرنے اور دوبارہ جوڑنے کے نظام پر دوبارہ زور دیا گیا ہے۔

7.  لوکو پائلٹس کی چوکسی کو بہتر بنانے کے لیے تمام لوکوموٹیوز میں ویجیلنس کنٹرول ڈیوائسز ( وی سی ڈی )  نصب کیے گئے ہیں۔

8.  برقی علاقوں میں سگنلز سے دو او ایچ ای  ماسٹ پہلے واقع ماسٹ پر ریٹرو ریفلیکٹو سگما بورڈز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ دھند والے موسم میں کم بصارت کی صورت میں عملے کو آگے موجود سگنل کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

9.  دھند سے متاثرہ علاقوں میں لوکو پائلٹس کو جی پی ایس پر مبنی فوگ سیفٹی ڈیوائس ( ایف ایس ڈی )  فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے لوکو پائلٹس قریب آنے والے مقامات، جیسے سگنلز، لیول کراسنگ گیٹس وغیرہ کا فاصلہ معلوم کر سکتے ہیں۔

10.  بنیادی پٹری کی تجدید کے دوران جدید ٹریک ڈھانچہ استعمال کیا جاتا ہے، جس میں 60 کلوگرام، 90 الٹی میٹ ٹینسائل اسٹرینتھ ( یو ٹی ایس) ریلز، لچک دار فاسٹننگ کے ساتھ پری اسٹریسڈ کنکریٹ سلیپر ( پی ایس سی )  نارمل/وائیڈ بیس سلیپرز، پی ایس سی سلیپرز پر پنکھ نما ترتیب والے ٹرن آؤٹس، گرڈر پلوں پر اسٹیل چینل/ایچ بیم سلیپرز شامل ہیں۔

11.  انسانی غلطیوں کو کم کرنے کے لیے پی کیو آر ایس ،  ٹی آر ٹی، ٹی-28  وغیرہ جیسی ٹریک مشینوں کے استعمال کے ذریعے ٹریک بچھانے کے کام کو میکانائز کیا گیا ہے۔

12.  ریل کی تجدید کے کام کی رفتار بڑھانے اور جوڑوں کی ویلڈنگ سے بچنے کے لیے 130 میٹر/260 میٹر طویل ریل پینلز کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے حفاظت میں بہتری آ رہی ہے۔

13.  ریلوں میں نقص کی نشاندہی اور خراب ریلوں کو بروقت ہٹانے کے لیے ریلوں کی الٹراسونک فلیو ڈیٹیکشن ( یو ایس ایف ڈی )  جانچ کی جاتی ہے۔

14.  طویل ریلوں کو بچھانا، ایلومینو تھرمک ویلڈنگ کے استعمال کو کم سے کم کرنا اور ریلوں کے لیے بہتر ویلڈنگ ٹیکنالوجی یعنی فلیش بٹ ویلڈنگ کو اختیار کرنا۔

15.  او ایم ایس اور ٹی آر سی کے ذریعے ٹریک جیومیٹری کی نگرانی کی جاتی ہے۔

16. ویلڈ/ریل میں ٹوٹ پھوٹ کا پتہ لگانے کے لیے ریلوے ٹریکس کی گشت کی جاتی ہے۔

17.  ٹرن آؤٹ کی تجدید کے کاموں میں تھک ویب سوئچز اور ویلڈیبل سی ایم ایس کراسنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

18. محفوظ طریقۂ کار پر عمل درآمد کی نگرانی اور عملے کو تربیت دینے کے لیے باقاعدہ وقفوں سے معائنہ کیا جاتا ہے۔

19.   ٹریک اثاثوں کی ویب پر مبنی آن لائن نگرانی کا نظام، جیسے ٹریک ڈیٹا بیس اور فیصلہ جاتی معاون نظام اختیار کیا گیا ہے تاکہ دیکھ بھال کی معقول ضروریات کا تعین کیا جا سکے اور وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

20.  ٹریک کی حفاظت سے متعلق امور، جیسے مربوط بلاک  ، کوریڈور بلاک ، کام کی جگہ کی حفاظت، مانسون کے دوران احتیاطی تدابیر وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

21.  محفوظ ٹرین آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے ریلوے اثاثوں (کوچز اور ویگنز) کی احتیاطی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

22.  روایتی آئی سی ایف ڈیزائن کے کوچز کو ایل ایچ بی ڈیزائن کے کوچز سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔

23.  براڈ گیج ( بی جی )  روٹس پر تمام بغیر عملے والے لیول کراسنگ ( یو ایم ایل سیز )  کو جنوری  ، 2019 ء تک ختم کر دیا گیا ہے۔

24.  ریلوے پلوں کی حفاظت کو پلوں کے باقاعدہ معائنے کے ذریعے یقینی بنایا جاتا ہے۔ پلوں کی مرمت/بحالی کی ضرورت ان معائنوں کے دوران جانچی گئی حالت کی بنیاد پر پوری کی جاتی ہے۔

25.  بھارتی ریلوے نے تمام کوچز میں مسافروں کی وسیع پیمانے پر معلومات کے لیے قانونی ’’ فائر نوٹسز ‘‘  آویزاں کیے ہیں۔ ہر کوچ میں فائر پوسٹرز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ مسافروں کو آگ سے بچاؤ کے لیے مختلف احتیاطی اقدامات اور ممنوعہ امور ( کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا  ہے )کے  بارے میں آگاہ اور چوکس کیا جا سکے۔ ان میں آتش گیر مواد، دھماکہ خیز اشیاء  ساتھ نہ لے جانے، کوچز کے اندر سگریٹ نوشی پر پابندی، جرمانے وغیرہ سے متعلق پیغامات شامل ہیں۔

26.   پروڈکشن یونٹس نئی تیار کی جانے والی پاور کارز اور پینٹری کارز میں آگ کا پتہ لگانے اور اسے بجھانے کا نظام، جب کہ نئے تیار کیے جانے والے کوچز میں آگ اور دھوئیں کا پتہ لگانے کا نظام فراہم کر رہے ہیں۔ موجودہ کوچز میں بھی زونل ریلوے کی جانب سے مرحلہ وار اسی نظام کی تنصیب کا کام جاری ہے۔

27.  عملے کی باقاعدہ کاؤنسلنگ اور تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

28.  بھارتی ریلوے (اوپن لائنز) جنرل رولز میں 30 نومبر، 2023 ء  کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے رولنگ بلاک کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اثاثوں کی مربوط دیکھ بھال/مرمت/تبدیلی کے کاموں کی منصوبہ بندی 52 ہفتے پہلے مسلسل بنیاد پر کی جاتی ہے اور منصوبے کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

ریلوے کی جانب سے بہتر دیکھ بھال کے طریقۂ کار، تکنیکی بہتری، بہتر بنیادی ڈھانچے اور رولنگ اسٹاک وغیرہ سے متعلق حفاظتی کاموں کی تفصیلات درج ذیل جدول میں پیش کی گئی ہیں :-

 

نمبر شمار

آئٹم

2004-05 ء سے  2013-14 ء

2014-15 ء سے

2025-26 ء

2014-26  ء کے مقابلے  2004-14 ء

 

تکنیکی بہتری

1.

اعلیٰ معیار کی ریلوں کا استعمال (60 کلوگرام) (کلومیٹر)

57,450 کلومیٹر

1.63 لاکھ کلو میٹر

2.8 آئٹم سے زیادہ

2.

لمبے ریل پینلز ( 260 ایم ) ( کے ایم )

9,917 کلومیٹر

87,219 کلو میٹر

تقریباً 9 آٹم

3.

الیکٹرانک انٹر لاکنگ (اسٹیشنز)

837 اسٹیشن

3,691 اسٹیشن

4 آئٹم سے زیادہ

4.

فوگ پاس سیفٹی ڈیوائسز (نمبر)

31 مارچ ، 2014 ء تک :  90 نمبرس

31 مارچ ، 2026 ء تک :

31693 نمبرس

352  آئٹم

5.

موٹی ویب سوئچز (نمبر)

کوئی نہیں

35,971 نمبرس

 

 

دیکھ بھال کے بہتر طریقے

1.

بنیادی ریل کی تجدید (ٹریک کلومیٹر)

32,260 کے ایم

57,583 کے ایم

1.78   سے زیادہ

2.

یو ایس ایف ڈی (الٹرا سونک فلو ڈیٹیکشن) ویلڈز کی جانچ (نمبر)

79.43 لاکھ

2.25 کروڑ

2.8 گنا سے زیادہ

3.

ویلڈ کی ناکامی (نمبر)

2013-14 میں: 3,699 نمبر

26-2025 ء میں :

272 Nos.

93 فیصد کمی

4.

ریل کے ٹوٹنا (نمبر)

2013-14 میں: 2,548 نمبر

2025-26 میں:

208 نمبر

92 فیصد کمی

 

بہتر  بنیادی ڈھانچہ اور رولنگ اسٹاک

1.

نیا ٹریک کلومیٹر شامل کیا گیا (ٹریک کلومیٹر)

14,985 کلومیٹر

36,429 کلومیٹر

تقریباً 2.5 گنا

2.

فلائی اوورز  ( آر او بیز )  /انڈر پاسز ( آر یو بیز )  نمبر

4,148 نمبر

14,362 نمبر

3 بار سے زیادہ

3.

بغیر پائلٹ لیول کراسنگ

31 مارچ ، 2014 ء  کے مطابق:

31 مارچ ، 2026 ء  کو: صفر

( 31 جنوری ، 2019 ء تک تمام  ختم)

ہٹا دیا گیا

4.

( بی جی نمبر)  پر

8,948

49,366

21 سے زیادہ بار

 

کَوَچ  کا نفاذ :-

1.  کَوَچ ایک مقامی طور پر تیار کردہ خودکار ٹرین تحفظ ( اے ٹی پی ) نظام ہے۔ کَوَچ ایک انتہائی ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے، جس کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی حفاظتی تصدیق ( ایس آئی ایل – 4 )  درکار ہوتی ہے۔

2.  کَوَچ لوکو پائلٹ کو مقررہ رفتار کی حدود میں ٹرین چلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر لوکو پائلٹ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ خودکار طور پر بریک لگا دیتا ہے اور خراب موسمی حالات کے دوران بھی ٹرینوں کو محفوظ طریقے سے چلانے میں معاون ہوتا ہے۔

3.  مسافر ٹرینوں پر کَوَچ کے پہلے فیلڈ ٹرائل فروری  ، 2016 ء میں شروع کیے گئے تھے۔ حاصل شدہ تجربے اور آزاد حفاظتی جائزہ کار ( آئی ایس اے )  کی جانب سے نظام کے آزاد حفاظتی جائزے کی بنیاد پر 19-2018 ء  میں کَوَچ ورژن 3.2 کی فراہمی کے لیے تین کمپنیوں کو منظوری دی گئی۔

4.  کَوَچ کو جولائی  ، 2020 ء میں قومی خودکار ٹرین تحفظ ( نیشنل اے ٹی پی ) نظام کے طور پر اختیار کیا گیا۔

5.  کَوَچ نظام کے نفاذ میں درج ذیل اہم سرگرمیاں شامل ہیں:-

الف۔ ہر اسٹیشن اور بلاک سیکشن پر اسٹیشن کَوَچ کی تنصیب۔

ب۔ مکمل ٹریک کی لمبائی کے دوران آر ایف آئی ڈی ٹیگز کی تنصیب۔

ج۔ پورے سیکشن میں ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب۔

د۔ ٹریک کے ساتھ آپٹیکل فائبر کیبل بچھانا۔

ہ۔ بھارتی ریلوے پر چلنے والے ہر لوکوموٹیو میں لوکو کَوَچ کی فراہمی۔

6.  جنوب وسطی ریلوے پر 1,465 روٹ کلومیٹر پر کَوَچ ورژن 3.2 کی تنصیب اور حاصل شدہ تجربے کی بنیاد پر مزید بہتری کی گئی۔ آخرکار، کَوَچ کی تفصیلات کا ورژن 4.0، آر ڈی ایس او کی جانب سے 16 جولائی ، 2024  ء   کو منظور کیا گیا۔

7.  کَوَچ ورژن 4.0 میں متنوع ریلوے نیٹ ورک کے لیے درکار تمام اہم خصوصیات شامل ہیں۔ یہ بھارتی ریلوے کی حفاظت کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ مختصر مدت میں بھارتی ریلوے نے خودکار ٹرین تحفظ نظام تیار کیا، اس کی جانچ کی اور اسے نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

8.  ورژن 4.0 میں اہم بہتریوں میں مقام کی درستگی میں اضافہ، بڑے یارڈز میں سگنلز کی صورتحال سے متعلق بہتر معلومات، او ایف سی پر اسٹیشن سے اسٹیشن کَوَچ انٹرفیس اور موجودہ الیکٹرانک انٹرلاکنگ نظام کے ساتھ براہ راست انٹرفیس شامل ہیں۔ ان بہتریوں کے ساتھ کَوَچ ورژن 4.0 کو بھارتی ریلوے پر بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

9.  وسیع اور تفصیلی آزمائشوں کے بعد، کَوَچ ورژن 4.0 کو 13 جولائی ، 2026 ء   تک 2,490 روٹ کلومیٹر پر کامیابی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے، جس میں زیادہ  بھیڑ بھاڑ والے دلّی-ممبئی اور دلّی-ہاوڑہ روٹس شامل ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے :-

 

نمبر شمار

سیکشن

پیشرفت

( روٹ کلومیٹر )

(1)

دلّی -  ممبئی روٹ : 1344 روٹ کلومیٹر

i

تلک برج - جنکشن کیبن - پلول - متھرا - ناگدا - وڈودرا - ویرار سیکشن

(سوائے منگل مورتی – پنچ پیپلیا)

1248

ii

وڈودرا-احمد آباد سیکشن

96

(2)

دلّی – ہاوڑہ روٹ : 1146 روٹ کلو میٹر

i.

چپیانہ – ٹنڈلا – کانپور – صوبیدار گنج سیکشن

563

ii.

کانپور - لکھنؤ سیکشن

71

iii.

ڈی ڈی یو ( ایف او سی ) -  بھابوا روڈ سیکشن

50

iv.

ساسارام ​​– فیسر سیکشن

43

v.

گیا - سرماترن - نیما گھاٹ سیکشن

159

vi.

چھوٹا امبانا - بردھمان - ہاوڑہ سیکشن

260

 

10.   اس کے علاوہ، بھارتی ریلوے کے تمام جی کیو ، جی ڈی، ایچ ڈی این اور نشان زدہ سیکشنز کو شامل کرتے ہوئے 21,937 روٹ کلومیٹر ( آر کے ایم ) پر ٹریک سائیڈ کَوَچ کے نفاذ کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔

11.  بھارتی ریلوے کے سیکشنز پر کَوَچ کے اہم اجزا کی مجموعی پیش رفت درج ذیل ہے:-

 

نمبر شمار

آئٹم

پیشرفت

i

آپٹیکل فائبر کیبل بچھانا

11,253 کے ایم

ii

ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب

1,668

iii

اسٹیشن ڈیٹا سینٹر

958 اسٹیشن

iv

ٹریک سائیڈ آلات کی تنصیب

7,721آر کے ایم

v

لوکو میں کاوچ کی فراہمی

6,045

 

12.  اس کے علاوہ، 7,435 لوکوموٹیوز اور 1,200 ای ایم یو/میمو میں کَوَچ کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا ہے۔

13.  کَوَچ کے حوالے سے خصوصی تربیتی پروگرام بھارتی ریلوے کے مرکزی تربیتی اداروں میں منعقد کیے جا رہے ہیں، تاکہ تمام متعلقہ افسران کو تربیت فراہم کی جا سکے۔ اب تک 94,000 سے زائد ٹیکنیشنز، آپریٹرز اور انجینئرز کو کَوَچ ٹیکنالوجی پر تربیت دی جا چکی ہے۔ اس میں تقریباً 57,000 لوکو پائلٹس اور اسسٹنٹ لوکو پائلٹس شامل ہیں۔ کورسز کو آئی آر آئی ایس ای ٹی کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

14.  جون  ، 2026 ء تک کَوَچ سے متعلق کاموں پر اب تک 3,874.9 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال کیے جا چکے ہیں۔ سال  27-2026 ء کے دوران فنڈز کی تخصیص 2,066.24 کروڑ روپے ہے۔ کاموں کی پیش رفت کے مطابق مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

ریلوے حادثات کی تحقیقات مقررہ ضوابط کے مطابق قانونی اداروں، یعنی وزارتِ شہری ہوا بازی کے تحت ریلوے سیفٹی کمیشن ( سی آر ایس )  اور محکمانہ تحقیقاتی کمیٹیوں کے ذریعے بھی کی جاتی ہیں۔

متعلقہ حلقوں کے ریلوے سیفٹی کمشنر ( سی آر ایس )  حادثات کے بارے میں مکمل غور و خوض کے بعد اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرتے ہیں۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اپنی متعلقہ سطح پر سی آر ایس کی رپورٹوں میں دی گئی سفارشات پر مناسب کارروائی کی جاتی ہے۔ کارروائی سے متعلق رپورٹوں میں پائی جانے والی خامیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے، جس سے اسی نوعیت کے حادثات کے دوبارہ رونما ہونے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

………………….. …………………….. …………………….. ………………. ………………………

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ع ا )

U. No. 337 


(रिलीज़ आईडी: 2287950) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Kannada