مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت میں 6 جی کے لیے بھارت 6 جی الائنس اور اسپیکٹرم روڈ میپ
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 6:03PM by PIB Delhi
بھارت 6 جی الائنس (بی 6 جی اے) ایک صنعت اور تعلیمی اداروں کی قیادت والی سوسائٹی ہے ، جو 15 جولائی 2026 تک 90 رکنی تنظیم بن گئی ہے۔یہ ممبران ایک وسیع اور متنوع ماحولیاتی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں ٹیلی مواصلات کی خدمات فراہم کرنے والے ، ٹیلی کام آلات بنانے والے ، اسٹارٹ اپ ، تحقیق و ترقی کے ادارے ، تعلیمی شعبے اور ٹیلی مواصلات کے شعبے کے دیگرشراکت دار شامل ہیں ۔بھارت 6جی الائنس (بی 6جی اے) نے سات ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں، جو 6جی ٹیکنالوجی، اسپیکٹرم، ایپلی کیشنز، استعمال کے مختلف طریقۂ کار اور آمدنی کے ذرائع، آلات و اجزا، ماحول دوست اور پائیداری سے متعلق امور اور عوامی رابطہ کاری جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔یہ الائنس صنعت، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جس کا مقصد صنعت و تعلیم کے باہمی اشتراک، تکنیکی خلا کی نشاندہی اور بھارت کے 6جی وژن کے مطابق آزمائشی پلیٹ فارم اور جدید تحقیق کے لیے تجاویز تیار کرکے ملک کے اندر تحقیق، اختراع اور دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
اسپیکٹرم ورکنگ گروپ ، جو بھارت 6 جی الائنس کے تحت تشکیل دیے گئے سات ورکنگ گروپوں میں سے ایک ہے ، نے ہندوستان میں 6 جی کے لیے اسپیکٹرم روڈ میپ کے عنوان سے ایک رپورٹ پیش کی ہے ۔ علیحدہ طور پر محکمہ ٹیلی مواصلات نے بھارت 6 جی الائنس سمیت شراکت داروں کے کے ساتھ مشاورت کے بعد 6 جی خدمات کے لیےا سپیکٹرم روڈ میپ جاری کیا ہے ، جس تک
https://www.dot.gov.in/static/uploads/2026/02/092d793d6ea912a5dd79bf0c26ea1a84.pdf پر آن لائن رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔
ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت ڈیجیٹل بھارت ندھی سے تین سالہ منصوبے کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد سوسائٹی فار اپلائیڈ مائیکرو ویو الیکٹرانکس انجینئرنگ اینڈ ریسرچ (ایس اے ایم ای ای آر)، کولکاتا میں 6جی ٹیرا ہرٹز آزمائشی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔ ایس اے ایم ای ای آر وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والا ایک خودمختار تحقیق و ترقی کا ادارہ ہے۔ اس منصوبے میں تین شراکت دار ادارے بھی شامل ہیں، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گوہاٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پٹنہ شامل ہیں۔اس منصوبے کے تحت انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی 2025) میں بلند ڈیٹا رفتار پر مبنی براہ راست لائن آف سائٹ لنک کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔
بھارت نے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے تحت انٹرنیشنل موبائل ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ایم ٹی) 2030فریم ورک میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے صنعت کی جانب سے 6جی بھی کہا جاتا ہے۔ اس فریم ورک میں 6جی کے استعمال کے چھ منظرناموں میں سے ایک کے طور پر ’ہر جگہ دستیاب کنیکٹویٹی‘کو شامل کرنے، جبکہ 6جی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں کوریج، باہمی مطابقت اور پائیداری کو شامل کرنے میں بھارت نے اپنا تعاون پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ 6جی کے شعبے میں بھارت کی عالمی قیادت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت، محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن (ٹی ڈی آئی پی) اسکیم کے تحت بھارتی شراکتداروں کی بین الاقوامی معیار سازی کے اداروں، جیسے تھرڈ جنریشن پارٹنرشپ پروجیکٹ (3جی پی پی، آئی ٹی یو اور وَن ایم ٹو ایم) میں فعال شرکت کی حمایت کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت رکنیت فیس، بین الاقوامی معیار سازی اجلاسوں میں شرکت، بھارت میں ایسے اجلاسوں کے انعقاد، ٹیلی کام مصنوعات کی آزمائشی جانچ اور توثیق کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ٹی ڈی آئی پی اسکیم پورے ملک میں اہل اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کا احاطہ کرتی ہے۔
یہ معلومات مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
ش ح۔ م ش ۔ ص ج
U. No-408
(रिलीज़ आईडी: 2287920)
आगंतुक पटल : 8