شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سرکاری اعداد و شمار معیشت کے موجودہ ڈھانچے کی درست نمائندگی کرتے رہیں، شماریاتی نظام کے طریقۂ کار کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور نظرِ ثانی کرتی رہتی ہے
نیشنل سیمپل سرویز کو جدید بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو اور ای-سگما جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اختیار کرنا شامل ہے
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 2:33PM by PIB Delhi
شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) وقتاً فوقتاً شماریاتی نظام کے طریقۂ کار کا جائزہ لیتی ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری اعداد و شمار معیشت کے موجودہ ڈھانچے کی درست عکاسی کرتے رہیں اور ابھرتی ہوئی معلوماتی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ اس سلسلے میں وزارت کی جانب سے کیے گئے اہم طریقۂ کار پر مبنی جائزوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
وزارت نے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)، کل ہند صنعتی پیداوار اشاریے (آئی آئی پی) اور صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) کے بنیادی سال میں جامع نظرِ ثانی کی ہے، تاکہ یہ اہم معاشی اشاریے معیشت کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کی بہتر عکاسی کریں اور بین الاقوامی شماریاتی معیارات سے ہم آہنگ رہیں۔اسی کے مطابق، قومی کھاتہ شماریات کی مشاورتی کمیٹی (اے سی این اے ایس) کی سفارشات کی بنیاد پر جی ڈی پی کا بنیادی سال 2011–12 سے تبدیل کرکے 2022–23 کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح آئی آئی پی کا بنیادی سال تکنیکی مشاورتی کمیٹی کی رہنمائی میں 2011–12 سے 2022–23 کر دیا گیا، جبکہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کا بنیادی سال اس مقصد کے لیے تشکیل دیے گئے ماہرین کے گروپ کی رہنمائی میں 2012=100 سے تبدیل کرکے 2024=100 کر دیا گیا ہے۔ان نظرِ ثانیوں میں تازہ ترین معلوماتی ذرائع، دائرۂ کار میں توسیع، اشیا کی نئی فہرست اور ان کے وزن، تخمینے کے بہتر طریقۂ کار، جی ایس ٹی اور کارپوریٹ امور کی وزارت (ایم سی اے) کے ڈیٹا بیس جیسے انتظامی معلوماتی ذرائع کا مؤثر استعمال، غیر کارپوریٹ شعبے کے بہتر تخمینے کے لیے غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے (اے ایس یو ایس ای) اور متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) سے حاصل شدہ معلومات، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ شماریاتی طریقوں کا نفاذ اور دیگر طریقۂ کار سے متعلق بہتریاں شامل کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ، ان اہم معاشی اشاریوں کے بنیادی سال میں نظرِ ثانی کے عمل کے دوران ماہرین، ماہرینِ تعلیم، ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ متعدد تکنیکی مشاورتی اجلاس اور تبادلۂ خیال کی نشستیں منعقد کی گئیں، تاکہ ان کی آراء اور تجاویز حاصل کی جا سکیں۔ مزید برآں، ان اشاریوں کی نظرِ ثانی شدہ سیریز جاری کرنے سے قبل مشاورتی ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں۔
مزید برآں، شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نیشنل سیمپل سرویز (این ایس ایس) میں اختیار کیے جانے والے شماریاتی معیارات، تصورات، درجہ بندیوں، سروے کے آلات اور طریقۂ کار کا مسلسل جائزہ لے کر انہیں جدید بناتی رہتی ہے، تاکہ ابھرتی ہوئی معلوماتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے، قومی اور بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگی برقرار رہے، اور سرکاری اعداد و شمار کے معیار، افادیت، مطابقت اور بروقت دستیابی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔اسی مقصد کے تحت ہر بڑے سروے سے قبل سروے کے شیڈول، نمونہ بندی کے ڈیزائن، تصورات اور تعریفات، اشیا کی درجہ بندی، فیلڈ طریقۂ کار، اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقے، توثیقی ضوابط اور جدول سازی کے منصوبوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ عمل نیشنل سیمپل سرویز (این ایس ایس) کی اسٹیئرنگ کمیٹی، تکنیکی مشاورتی گروپس (ٹی اے جیز)، سروے سے متعلق تکنیکی ماہرین کے گروپس (ٹی ای جیز)، نیز مرکزی وزارتوں و محکموں، ریاستی حکومتوں، متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے۔جہاں ضرورت ہو، وہاں آزمائشی مطالعات اور فیلڈ ٹیسٹنگ کے بعد ان تبدیلیوں کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں نیشنل سیمپل سرویز (این ایس ایس) کو جدید بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو (سی اے پی آئی) اور ای-سگما جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اختیار کرنا شامل ہے۔ ان نظاموں میں پہلے سے موجود توثیقی جانچ (اِن بلٹ ویلیڈیشن چیکس)، حقیقی وقت میں اعداد و شمار کی نگرانی (ریئل ٹائم ڈیٹا مانیٹرنگ)، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور کثیر لسانی انٹرفیس بھی شامل کیے گئے ہیں۔ان اقدامات سے نہ صرف اعداد و شمار کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے بلکہ سروے کے نتائج جاری کرنے میں لگنے والا وقت بھی 8 تا 9 ماہ سے کم ہو کر صرف 45 تا 90 دن رہ گیا ہے۔ اب سالانہ سروے کے نتائج 90 تا 120 دن، سہ ماہی نتائج 45 تا 60 دن، جبکہ ماہانہ نتائج سروے کی تکمیل کے 15 تا 30 دن کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے زیادہ تواتر کے ساتھ سماجی و معاشی اشاریے فراہم کرنے کی ابھرتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مختصر مدت کے سروے بھی شروع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اہم سرویز کے نمونہ بندی کے ڈیزائن میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت ضلع کو بنیادی نمونہ جاتی اکائی بنایا گیا ہے، تاکہ ریاستیں اہم اشاریوں کے ضلع سطح کے تخمینے تیار کر سکیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں شماریات اور پروگرام کے نفاذ کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، منصوبہ بندی کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ ثقافت کے وزیرِ مملکت راؤ اندرجیت سنگھ نے فراہم کیں۔
******
(ش ح۔ ک ح ۔ م ا)
UR No-349
(रिलीज़ आईडी: 2287913)
आगंतुक पटल : 7