شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے سرکاری اعداد و شمار کو بروقت جمع کرنے اور شائع کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم اور واضح طریقۂ کار وضع کر رکھا ہے

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 2:35PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے سرکاری اعداد و شمار کی بروقت جمع آوری اور اشاعت کو یقینی بنانے کے لیے ایک منظم اور واضح طریقۂ کار وضع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے اختیار کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں۔

قومی نمونہ جاتی سرویز (این ایس ایس) کے لیے بنیادی اعداد و شمار کی جمع آوری کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو (سی اے پی آئی) اور ای-سگما (ای-سگما) جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ان نظاموں میں پہلے سے موجود توثیقی جانچ (اِن بلٹ ویلیڈیشن چیکس)، حقیقی وقت میں اعداد و شمار کی نگرانی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور کثیر لسانی انٹرفیس شامل ہیں۔ ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے اعداد و شمار جمع کرنے کے مرحلے میں یکسانیت برقرار رہتی ہے اور سروے کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں جمع کرانے اور ان کی توثیق کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ، طے شدہ ضوابط کے مطابق اعلیٰ سطح کے افسران کی جانب سے اعداد و شمار کی باقاعدہ فزیکل جانچ اور معائنہ مسلسل کیا جاتا ہے، جبکہ فیلڈ عملے کو بھی باقاعدگی سے تربیت دی جاتی ہے تاکہ جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کا معیار برقرار رہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں اعداد و شمار کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے اور سروے کے نتائج جاری کرنے میں لگنے والا وقت 8 تا 9 ماہ سے کم ہو کر صرف 45 تا 90 دن رہ گیا ہے۔ اب سالانہ سروے کے نتائج 90 تا 120 دن، سہ ماہی نتائج 45 تا 60 دن، جبکہ ماہانہ نتائج سروے کی تکمیل کے 15 تا 30 دن کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح صارف قیمت اشاریہ(سی پی آئی) کے لیے قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار نئے سی پی آئی سلسلے (بنیادی سال 2024) کے تحت کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو (سی اے پی آئی) نظام کے ذریعے جمع کیے جاتے ہیں۔ اس نظام میں حقیقی وقت کی توثیقی جانچ، جیو ٹیگنگ اور مشاہدات کے وقت کے اندراج جیسی سہولتیں شامل ہیں، جن کے ذریعے اعداد و شمار کے معیار، نگرانی، شفافیت اور بروقت دستیابی کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔اسی طرح قومی کھاتہ شماریات (این اے ایس) کے تخمینے نظامِ قومی کھاتہ جات 2008 (ایس این اے 2008) کے مطابق تیار اور نظرِ ثانی کیے جاتے ہیں، جن میں مختلف انتظامی ڈیٹا بیس اور نمونہ جاتی سرویز سے دستیاب تازہ ترین معلومات کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔اسی طرح صنعتی پیداوار کے اشاریہ(آئی آئی پی) کے اعداد و شمار کی بروقت جمع آوری اور اشاعت کو یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے۔ ماہانہ اعداد و شمار ہر ماہ کی 21 تاریخ تک متعلقہ ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ بروقت فراہمی اور بہتر شرحِ جواب کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل پیروی کی جاتی ہے۔ اشاریۂ صنعتی پیداوار کی تیاری کے دوران اعداد و شمار کو توثیقی اور مطابقتی جانچ کے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے، تاکہ ان کے معیار اور اعتبار کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) پیشگی اجرا کیلنڈر (اے آر سی) کے ذریعے جوابدہی کو مزید مضبوط بناتی ہے اور شماریاتی اشاعتوں و مطبوعات کی بروقت فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ یہ کیلنڈر وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور سرکاری شماریاتی اشاعتوں کے اجرا میں اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔

شفافیت اور عوامی جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے گمنام بنائے گئے انفرادی سطح کے سروے اعداد و شمار وزارت کے جدید مائیکروڈیٹا پورٹل کے ذریعے دستیاب کرائے جاتے ہیں، جس سے محققین، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو سرکاری اعداد و شمار تک رسائی، ان کا تجزیہ اور شواہد پر مبنی تحقیق و پالیسی سازی کے لیے ان کے استعمال کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

وزارت نے اعداد و شمار کے صارفین کی کانفرنسوں، مشاورتی اجلاسوں، ورکشاپس اور آراء و تجاویز کے نظام کے ذریعے متعلقہ فریقوں کی شمولیت کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے۔ اسی طرح جدید وزارتی ویب سائٹ، ’’گو آئی اسٹیٹس‘‘ موبائل ایپ، ای-سنکھیکی پورٹل، مائیکروڈیٹا پورٹل اور اعداد و شمار کے تبادلے کے لیے ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اعداد و شمار تک رسائی اور ان کی مؤثر ترسیل کو مزید آسان اور بہتر بنایا ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں شماریات اور پروگرام کے نفاذ کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، منصوبہ بندی کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ ثقافت کے وزیرِ مملکت راؤ اندرجیت سنگھ نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

******

 

(ش ح۔ ک ح ۔ م ا)

UR No-350

 

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2287891) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil