صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
ملک میں بنیادی صحت سے متعلق خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کئے گئے اقدامات
این پی-این سی ڈی کے تحت ، 770 ڈسٹرکٹ این سی ڈی کلینک ، 524 ڈے کیئر کینسر سینٹر ، 233 کارڈیک کیئر یونٹ اور 6410 کمیونٹی ہیلتھ سینٹر این سی ڈی کلینک قائم کیے گئے ہیں
اس کے تحت1.86لاکھ اے اے ایم کے ذریعے ذیلی صحت مراکز اور بنیادی صحت مراکز کو مضبوط کرکے جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے
اے بی پی ایم-جے اے وائی اسکیم کو بڑھا کر سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر 4.5 کروڑ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے 6 کروڑ بزرگ شہریوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 2:01PM by PIB Delhi
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، نیشنل ہیلتھ مشن(این ایچ ایم)کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو عوامی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے اور بیماریوں کی روک تھام کو فروغ دینے کے لیے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ یہ معاونت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے پروگرام امپلیمنٹیشن پلانز(پی آئی پیز) کی صورت میں موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ حکومتِ ہند، مقررہ ضوابط اور دستیاب وسائل کے مطابق ان تجاویز کی منظوری ریکارڈ آف پروسیڈنگز(آر او پیز) کی شکل میں جاری کرتی ہے۔
حکومتِ ہند کی جانب سے نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت ملک بھر میں متعدد اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں آیوشمان آروگیہ مندروں(اے اے ایم) کا قیام، مفت ادویات کی فراہمی کا پروگرام، مفت تشخیصی خدمات کا پروگرام، قومی ایمبولینس سروس، موبائل میڈیکل یونٹس، آشا کارکنان، 24 گھنٹے طبی خدمات اور فرسٹ ریفرل سہولیات، وزیرِ اعظم قومی ڈائلیسس پروگرام، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مختلف پروگرام، انیمیا مکت بھارت(اے ایم بی) حکمتِ عملی، ٹی بی مکت بھارت ابھیان اور یونیورسل امیونائزیشن پروگرام شامل ہیں۔
غیر متعدی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے قومی پروگرام(این پی-این سی ڈی) کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا، بیماریوں کی بروقت تشخیص، مریضوں کو علاج اور نگہداشت کے لیے مناسب طبی مراکز تک پہنچانا، اور غیر متعدی امراض، بشمول سروائیکل کینسر کی روک تھام کے لیے صحت سے متعلق بیداری اورصحت کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 770 ضلعی این سی ڈی کلینک، 524 ڈے کیئر کینسر مراکز، 233 قلبی نگہداشت یونٹس اور 6,410 کمیونٹی ہیلتھ سینٹر این سی ڈی کلینک قائم کیے جا چکے ہیں۔قومی صحت مشن کے تحت جامع بنیادی صحتی خدمات کے حصے کے طور پر عام غیر متعدی امراض کی آبادی پر مبنی اسکریننگ، تشخیص، علاج اور روک تھام کا پروگرام بھی ملک بھر میں نافذ کیا گیا ہے۔
ملک بھر میں قائم 1.86 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر(اے اے ایم) کے ذریعے ذیلی صحت مراکز(ایس ایچ سی) اور بنیادی صحت مراکز (پی ایچ سی) کو مضبوط بنا کر جامع بنیادی طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان مراکز میں احتیاطی، صحت افزا، بحالی اور علاج معالجے کی خدمات کے ساتھ تولیدی و اطفال صحت، متعدی امراض، غیر متعدی امراض اور دیگر صحتی مسائل سے متعلق وسیع خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی پی ایم-جے اے وائی) حکومتِ ہند کی ایک اہم فلاحی اسکیم ہے، جس کے تحت تقریباً 55 کروڑ مستحق افراد (جو 12.37 کروڑ خاندانوں پر مشتمل ہیں اور ملک کی معاشی لحاظ سے کمزور 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں) کو ثانوی اور اعلیٰ درجے کے اسپتالوں میں علاج کے لیے فی خاندان سالانہ پانچ لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اس اسکیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 70 سال یا اس سے زائد عمر کے 6 کروڑ بزرگ شہریوں (جو 4.5 کروڑ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں) کو بھی، ان کی معاشی حیثیت سے قطعِ نظر، وَے وندنا کارڈ کے ذریعے اس اسکیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن(اے بی ڈی ایم) کا مقصد ایک ایسا آن لائن پلیٹ فارم قائم کرنا ہے جو صحت کے نظام میں مختلف اداروں کے درمیان صحت سے متعلق معلومات کے تبادلے کو ممکن بنائے، ہر شہری کا مسلسل الیکٹرانک صحتی ریکارڈ تیار کرے اور عوام کے لیے صحتی خدمات تک رسائی کو آسان بنائے۔
ملک بھر کے تمام فعال آیوشمان آروگیہ مندروں میں فراہم کی جانے والی ٹیلی مشاورتی خدمات کے ذریعے لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ لینے کی سہولت میسر ہے، جس سے فاصلے، ماہرین کی کمی اور علاج کے تسلسل سے متعلق مسائل میں نمایاں کمی آتی ہے۔
پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن(پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم) ، جس کے لیے 64,180 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، کا مقصد ملک بھر میں صحتی نظام اور اداروں کی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
حکومتِ ہند نے قومی صحت مشن کے تحت ملک بھر میں زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کے بہتر نتائج یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں، جن کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں۔
- جننی سرکشا یوجنا (جے ایس وائی) اور جننی شیشو سرکشا کاریہ کرم (جے ایس ایس کے) ادارہ جاتی زچگیوں کو فروغ دیتے ہیں اور صحت عامہ کی سہولیات میں مفت ، نقدی کے بغیر ترسیل (بشمول سیزرین) تشخیص ، ادویات ، غذا ، نقل و حمل اور خون کی منتقلی فراہم کرتے ہیں ، اسی طرح کے فوائد بیمار بچوں کے لیے بھی ہیں ۔
- پردھان منتری سورکشت ماترتوابھیان (پی ایم ایس ایم اے) ہر ماہ کی 9 تاریخ کو ماہرین/طبی افسران کے ذریعے مفت ، یقینی زچگی سے پہلے کی جانچ فراہم کرتا ہے ، جس میں زیادہ خطرے والے حمل کی شناخت اور انتظام پر زور دیا جاتا ہے ۔
- سورکشت ماتریتو آشواسن (سمن) حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو خدمات سے انکار کے لیے صفر رواداری کے ساتھ بغیر کسی قیمت کے یقینی ، باوقار ، قابل احترام اور معیاری صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بناتا ہے ۔
- زچگی کے بعد کی دیکھ بھال کے اقدامات: آشا سپورٹ کے ذریعے زیادہ خطرے والی زچگی کے بعد کی ماؤں کا جلد پتہ لگانے ، ریفرل اور انتظام کو مضبوط بنانا ۔
- انیمیا مکت بھارت (اے ایم بی) بچوں ، نوعمروں ، تولیدی عمر کی خواتین ، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں انیمیا کو لائف سائیکل اپروچ کے ذریعے دور کرتا ہے ۔
- غذائیت اور بچوں کی صحت کی مداخلت: ماؤں کے مکمل پیار (ایم اے اے) دودھ پلانے کے انتظام کے مراکز ، وٹامن اے ضمیمہ ، گھر پر مبنی نوزائیدہ نگہداشت (ایچ بی این سی)/چھوٹے بچوں کے لیے گھر پر مبنی نگہداشت پروگرام (ایچ بی وائی سی) اور مشن پوشن 2.0 شامل کریں ۔
صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
*************
ش ح ۔ س ک۔ ف ر
U. No.320
(रिलीज़ आईडी: 2287572)
आगंतुक पटल : 6