سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مغربی گھاٹوں میں ایلوگرافا کی پانچ نئی اقسام دریافت کی گئیں
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 3:11PM by PIB Delhi
بھارت کے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال مغربی گھاٹ سے محققین کی ایک ٹیم نے جنگلات کی صحت اور ماحولیاتی معیار کے ایک اہم اشاریے سمجھے جانے والے لائیکن بنانے والے فنگی کی جنس ایلوگرافا کی پانچ نئی انواع دریافت کی ہیں۔ یہ جاندار آلودگی اور مسکن میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں جنگلات کی صحت اور ماحولیاتی معیار کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ دریافت ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں کی نشاندہی، طویل مدتی ماحولیاتی نگرانی کو مضبوط بنانے، اور شواہد پر مبنی تحفظی پالیسیوں اور جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے پائیدار انتظام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ایلوگرافا اسکرپٹ لائیکن یا لائیکن بنانے والے فنگی کی ایک جنس ہے، جس میں ایک فنگی طحالب یا سائنو بیکٹیریا کے ساتھ مل کر لائیکن تشکیل دیتی ہے۔ اس کی پھل دار ساختیں لمبی ہوتی ہیں اور یہ گرافی ڈیسیا خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس جنس کی 200 سے زیادہ انواع معلوم ہیں۔ بھارت میں ایلوگرافا کی انواع کے بارے میں سالماتی معلومات محدود ہیں، خصوصاً مغربی گھاٹ کے حوالے سے، جہاں بیشتر انواع کی شناخت بنیادی طور پر ظاہری ساخت کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ سائنس دان اب سالماتی معلومات کو روایتی درجہ بندی کے ساتھ یکجا کر رہے ہیں تاکہ اس عالمی اہمیت کے حامل حیاتیاتی تنوع کے مرکز میں انواع کے تنوع، ارتقائی تعلقات اور لائیکن کی اشتراکی حیاتیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے خود مختار ادارے، ایم اے سی ایس آگرکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پونے کے محققین نے روایتی درجہ بندی کے طریقوں کو جدید سالماتی ارتقائی تجزیے کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے لائیکن خاندان گرافی ڈیسیا کی سب سے متنوع اجناس میں سے ایک ایلوگرافا کی انواع کے تنوع اور ارتقائی تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لیا۔
یہ تحقیق مغربی گھاٹ سے تعلق رکھنے والی ایلوگرافا انواع پر پہلی جامع سالماتی ارتقائی تحقیق کی نمائندگی کرتی ہے۔
راجیش کمار کے سی (سائنس دان 'ای' اور پرنسپل انویسٹی گیٹر)، ڈاکٹریٹ کے طالب علم انسل پی اے (سی ایس آئی آر-سینئر ریسرچ فیلو)، اور تکنیکی افسر ڈاکٹر بھارتی شرما (شریک پرنسپل انویسٹی گیٹر) کی قیادت میں ٹیم نے مغربی گھاٹ کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر فیلڈ سروے کے دوران استوائی جنگلاتی مساکن سے متعدد نمونے جمع کیے اور ان کا باریک بینی سے مطالعہ کیا۔
انہوں نے تفصیلی ظاہری ساختی اور کیمیائی تجزیوں کو تین جینیاتی مارکروں — mtSSU، nrLSU اور RPB2 — پر مبنی کثیر مقامی ڈی این اے سیکوینسنگ کے ساتھ یکجا کیا تاکہ انواع کی حدود کا تعین کیا جا سکے اور اس جنس کے اندر ارتقائی تعلقات کی ازسرِنو تشکیل کی جا سکے۔
ارتقائی تجزیوں سے معلوم ہوا کہ ظاہری طور پر ایک جیسی نظر آنے والی کئی انواع ارتقائی لحاظ سے ضروری نہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتی ہوں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انواع کی شناخت کے لیے صرف بیرونی ساخت پر انحصار کرنا کافی نہیں ہے۔ سالماتی معلومات نے نئی دریافت شدہ اور پہلے سے معلوم دونوں طرح کی انواع کی درست درجہ بندی میں مدد فراہم کی، جس سے ایلوگرافا کے اندر انواع کے باہمی تعلقات کو سمجھنے کے لیے ایک زیادہ مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔ اس تحقیق نے مستقبل میں مزید سالماتی معلومات جمع کرنے اور زیادہ وسیع پیمانے پر نمونے حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مائیکولوجیکل پروگریس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے بھارت میں ایلوگرافا کی انواع کے بارے میں موجودہ معلومات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور مستقبل میں درجہ بندی اور ارتقائی مطالعات کے لیے قیمتی سالماتی حوالہ جاتی جینیاتی سلسلے فراہم کیے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مغربی گھاٹ لائیکن کے تنوع کا ایک نہایت اہم مرکز ہے، جہاں بہت سی ایسی انواع موجود ہیں جن کی پہلے کبھی دستاویز بندی نہیں کی گئی تھی۔ سالماتی شواہد کو روایتی درجہ بندی کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے، اس مطالعے نے گرافی ڈیسیا خاندان کے اندر انواع کی حدود اور حیاتیاتی تنوع کو زیادہ درست انداز میں سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
محققین نے مغربی گھاٹ سے رپورٹ کی گئی ایلوگرافا کی انواع کی ایک تازہ ترین فہرست بھی مرتب کی ہے، جس میں ان سے متعلق سالماتی جینیاتی سلسلہ جاتی معلومات کی دستیابی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ یہ کام مستقبل میں حیاتیاتی تنوع کے جائزوں، تحفظی منصوبہ بندی اور بھارت سمیت دیگر علاقوں میں استوائی لائیکن پر منظم سائنسی مطالعات کے لیے ایک اہم بنیادی حوالہ فراہم کرتا ہے۔
اشاعت کا لنک: https://link.springer.com/article/10.1007/s11557-026-02141-3
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 289
(रिलीज़ आईडी: 2287509)
आगंतुक पटल : 6