دیہی ترقیات کی وزارت
دین دیال انتیودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے لیے فنڈز
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 7:06PM by PIB Delhi
مالی سال 2026-27 کے دوران دین دیال انتیودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت بجٹ کی مجموعی تخصیص، منظور شدہ فنڈز اور خرچ کی گئی رقم کی ریاست وار تفصیلات، جن میں تمل ناڈو بھی شامل ہے، ضمیمہ-1 میں فراہم کی گئی ہیں۔
دین دیال انتیودیہ یوجنا-قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت ملک بھر میں 10.05 کروڑ دیہی خاندانوں کو منظم کرکے 92 لاکھ اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز) سے جوڑا گیا ہے۔
وزارت دیہی ترقی نے اس مشن کے تحت دیہی خواتین کی سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ وزارت کی جانب سے کرائے گئے آزادانہ اثراتی جائزوں نے ان اقدامات کے مثبت نتائج کی تصدیق کی ہے۔
3ie امپیکٹ ایویلیوایشن اسٹڈی (2025)، جو 2019 اور 2024 میں 9 ریاستوں کے تقریباً 23 ہزار خاندانوں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے، کے مطابق این آر ایل ایم بلاکس میں گھریلو آمدنی میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مضبوط کمیونٹی اداروں والے علاقوں میں یہ اضافہ 12 سے 33 فیصد کے درمیان رہا۔ اس تحقیق میں فی کس گھریلو اخراجات میں 6 سے 11 فیصد اضافے کے ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے، روزگار کے ذرائع میں تنوع اور مجموعی گھریلو بہبود میں بھی نمایاں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسی طرح نیتی آیوگ کی دیہی ترقی کے شعبے میں مرکزی امدادی اسکیموں کا جائزہ (2025) رپورٹ میں ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کو ایک انتہائی مؤثر اور اہم پروگرام قرار دیا گیا ہے، جس نے آمدنی میں اضافے، روزگار کے متنوع مواقع، مالیاتی شمولیت اور مالیاتی خواندگی کو فروغ دینے، خواتین کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور مضبوط کمیونٹی اداروں کے ذریعے سماجی شمولیت کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
وزارت نے اس اسکیم کے تحت اپنی مدد آپ گروپوں اور کمیونٹی اداروں کو بروقت فنڈز کی فراہمی، صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو منظور شدہ تخصیص اور فنڈز کے استعمال کی بنیاد پر بروقت رقوم جاری کی جاتی ہیں۔ مالیاتی نظم و نسق، اخراجات کی نگرانی اور شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے وزارت نے ای-فنانشل مینجمنٹ اینڈ اکاؤنٹنگ سسٹم (ای-ایف ایم اے ایس/گرام ندھی) تیار کیا ہے، جو لوک او ایس (LokOS) اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) سے مربوط ہے، تاکہ فنڈز کی حقیقی وقت میں نگرانی اور مؤثر ترسیل ممکن ہو سکے۔
صلاحیت سازی ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کی بنیادی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد اپنی مدد آپ گروپوں، ان کی فیڈریشنز، کمیونٹی کارکنوں اور مشن کے عملے کی معلومات، مہارت، قیادت اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ تجربہ کار ایس ایچ جی اراکین کو کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پیز) اور نیم پیشہ ور معاونین کے طور پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ مقامی سطح پر رہنمائی اور تکنیکی مدد فراہم کر سکیں، جبکہ 619 کمیونٹی مینیجڈ ٹریننگ سینٹرز (سی ایم ٹی سیز) بلاک سطح پر غیر مرکزی تربیتی مراکز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
صلاحیت سازی کے پروگراموں میں ادارہ جاتی ترقی، مالیاتی نظم و نسق، روزگار کے ذرائع، نظم و نسق، سماجی شمولیت، ڈیجیٹل خواندگی اور صنعت کاری شامل ہیں۔ مشن لوک او ایس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے اعداد و شمار پر مبنی نگرانی، کارکردگی کے جائزے اور مؤثر فیصلہ سازی کو بھی فروغ دیتا ہے، جس سے سیلف ہیلپ گروپس اور کمیونٹی اداروں کی پائیداری اور مؤثریت میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کا نفاذ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت کیا جا رہا ہے، جسے باقاعدہ صلاحیت سازی، مسلسل رہنمائی، مؤثر نگرانی اور فنڈز کی ترسیل و پروگرام کے انتظام کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مدد حاصل ہے۔ اس مشن میں عوامی بیداری، سیلف ہیلپ گروپس کے اراکین اور کمیونٹی کارکنوں کی تربیت، کمیونٹی ریسورس پرسنز، کمیونٹی مینیجڈ ٹریننگ سینٹرز اور قومی، ریاستی، ضلعی و بلاک سطح کے معاون ڈھانچوں کے ذریعے کمیونٹی اداروں کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔
وزارت دیہی ترقی نے اپنی مدد آپ گروپوں کی تیار کردہ مصنوعات کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو فروغ دینے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں سارس، سارس آجیویکا اور آجیویکا برانڈز کی ترویج اور ریاستی سطح کے برانڈز کی تیاری شامل ہے۔ وزارت ہر سال دو قومی سطح کے سارس میلے، ایک سارس فوڈ فیسٹیول اور 50 سے زائد ریاستی سطح کے سارس میلوں اور فوڈ فیسٹیولز کا انعقاد کرتی ہے، جہاں ایس ایچ جی اراکین کو شہری بازاروں میں اپنی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کا موقع ملتا ہے۔
وزارت، نئی دہلی میں سارس آجیویکا گیلری بھی چلاتی ہے اور ای-سارس ای-کامرس پلیٹ فارم قائم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ جی ای ایم، او این ڈی سی، ایمیزون، فلپ کارٹ، میشو اور جیو مارٹ کے ساتھ اشتراک کے ذریعے سیلف ہیلپ گروپس کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے۔
پائیدار روزگار کو فروغ دینے کے لیے ایس ایچ جی اراکین اور کمیونٹی کارکنوں کو مالیاتی خواندگی، روزگار کے فروغ اور کاروباری ترقی سے متعلق باقاعدہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ زرعی شعبے میں خواتین کو زرعی ماحولیات پر مبنی کاشتکاری، مویشی پروری، مربوط زرعی کلسٹرز اور کرشی سکھی، پشو سکھی، ون سکھی اور متسیہ سکھی جیسے کمیونٹی ریسورس پرسنز کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے، جبکہ غیر زرعی شعبے میں اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی) دیہی صنعت کاری کو فروغ دیتا ہے۔
اس مشن کے تحت وزارت دین دیال اُپادھیائے دیہی کوشل یوجنا (ڈی ڈی یو-جی کے وائی) اور رورل سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آر سی ٹی آئی) کے پروگرام بھی نافذ کر رہی ہے، جن کا مقصد دیہی غریب نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت اور روزگار فراہم کرکے غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔
یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
****
ANNEXURE I
ANNEXURE REFERRED TO IN REPLY OF PART (a) OF LOK SABHA UNSTARRED QUESTION NO. 309 ANSWERED ON 21.07.2026 REGARDING “Funds for DAY-NRLM”.
|
State- wise Central allocation, Release and Expenditure under NRLM during FY 2026-27 (Rs. in Lakh)
|
|
S.No
|
States/UTs
|
Central Allocation
|
Released/Mother
Sanction issued
|
*Expenditure (up to June 2026)
|
|
1
|
Andhra Pradesh
|
41,406
|
20,703
|
18,109
|
|
2
|
Telangana
|
29,576
|
14,788
|
7,172
|
|
3
|
Bihar
|
1,68,859
|
84,429
|
0
|
|
4
|
Chhattisgarh
|
37,505
|
18,752
|
10,098
|
|
5
|
Goa
|
1,200
|
600
|
548
|
|
6
|
Gujarat
|
26,719
|
13,359
|
2,670
|
|
7
|
Haryana
|
15,719
|
7,860
|
0
|
|
8
|
Himachal Pradesh
|
6,620
|
3,310
|
726
|
|
9
|
Jammu & Kashmir
|
8,181
|
4,090
|
2,611
|
|
10
|
Jharkhand
|
63,670
|
31,835
|
1,944
|
|
11
|
Karnataka
|
53,601
|
26,801
|
|
|
12
|
Kerala
|
24,051
|
12,025
|
3,269
|
|
13
|
Madhya Pradesh
|
36,000
|
18,000
|
1,606
|
|
14
|
Maharashtra
|
1,05,957
|
52,978
|
35,520
|
|
15
|
Odisha
|
81,189
|
40,594
|
26,511
|
|
16
|
Punjab
|
7,639
|
3,820
|
1,819
|
|
17
|
Rajasthan
|
40,701
|
20,351
|
8,982
|
|
18
|
Tamil Nadu
|
62,764
|
31,382
|
13,888
|
|
19
|
Uttar Pradesh
|
2,43,100
|
1,21,550
|
36,226
|
|
20
|
Uttarakhand
|
12,799
|
6,400
|
5,761
|
|
21
|
West Bengal
|
90,225
|
45,112
|
4,814
|
|
22
|
A&N Islands
|
950
|
-
|
4
|
|
23
|
Daman & Diu
|
700
|
-
|
38
|
|
24
|
Dadar & Nagar Haveli
|
|
25
|
Lakshadweep
|
400
|
-
|
0
|
|
26
|
Ladakh
|
1,000
|
-
|
167
|
|
27
|
Puducherry
|
2,400
|
1,200
|
267
|
|
|
TOTAL
|
11,62,930
|
5,79,940
|
1,82,750
|
*Note-Expenditure against the total available funds which includes (Opening Balance+Central Share+State Share+Other receipts)
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 309)
(रिलीज़ आईडी: 2287462)
आगंतुक पटल : 7