وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومتِ ہند اور ریزرو بینک آف انڈیا نے نئے ریگولیٹری فریم ورک، ڈیجیٹل لینڈنگ ایپ ڈائریکٹری اور صارف تحفظ کے مضبوط اقدامات کے ذریعے ڈیجیٹل لینڈنگ ایکو سسٹم کو مزید مستحکم بنایا


ان اقدامات میں آر بی آئی (ڈیجیٹل لینڈنگ) ہدایات، 2025، بڑے انٹرنیٹ انٹرمیڈیریز کے ساتھ رابطہ کاری، آئی4سی اور سچیٹ پورٹل شامل ہیں تاکہ ڈیجیٹل لینڈنگ ایپس کا فعال انداز میں تجزیہ اور نگرانی کی جا سکے

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 5:41PM by PIB Delhi

وزارت خزانہ میں وزیر مملکت جناب پنکج چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ:

حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ملک میں جعلی/غیر قانونی لون ایپس کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مسلسل دیگر متعلقہ ریگولیٹرز اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ عوام کی معلومات کے لیے، آر بی آئی نے 01.07.2025 سے اپنی ویب سائٹ پر ’ڈیجیٹل لینڈنگ ایپس (ڈی ایل اے) کی ایک ڈائریکٹری آپریشنل کر دی ہے، جس میں آر بی آئی کے ریگولیٹڈ اینٹیٹیز (آر ای) سے منسلک ڈی ایل اے شامل ہیں۔ اس ڈائریکٹری کا مقصد صارفین کو کسی ڈی ایل اےکے آر ای کے ساتھ منسلک ہونے کے دعوے کی تصدیق کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

 الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (میتی) نے مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرنے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69A کے تحت اب تک کل 87 غیر قانونی قرضہ دینے والی ایپس کو بلاک کر دیا ہے۔ مزید برآں، 22.10.2025 کو نوٹیفائی کیے گئے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) ضوابط، 2025 کے تحت عوامی رسائی کے لیے معلومات کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کا اختیار سیکٹورل ریگولیٹرز کو دیا گیا ہے۔

مزید برآں، حکومت اور آر بی آئی شہریوں کو جعلی/غیر قانونی لون ایپس کے ذریعہ استحصال سے بچانے کے لیے وقتا فوقتاً مختلف اقدامات کرتے رہے ہیں۔ ان میں دیگر کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:

  1. آر بی آئی نے 8 مئی 2025 کو ریزرو بینک آف انڈیا (ڈیجیٹل لینڈنگ) ڈائریکشنز، 2025 جاری کیے ہیں۔ ان ہدایات میں ریکوری، ڈیٹا پرائیویسی اور صارفین کی شکایت کے ازالے کے طریقۂ کار کے حوالے سے تفصیلی دفعات موجود ہیں جو آر بی آئی کے ریگولیٹڈ اینٹیٹیز (آر ای)، ان کے ساتھ منسلک لینڈنگ سروس پرووائیڈرز (ایل ایس پی) اور ڈیجیٹل لینڈنگ ایپس (ڈی ایل اے) کے لیے لازمی ہیں۔
  2. حکومت اور آر بی آئی غیر مجاز لون ایپس کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے بڑے انٹرنیٹ انٹرمیڈیریز اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ فعال طور پر رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ  کا انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی) ڈیجیٹل لینڈنگ ایپس کا فعال انداز میں تجزیہ کر رہا ہے۔ شہریوں کو جعلی/غیر قانونی لون ایپس سمیت سائبر واقعات کی اطلاع دینے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے، وزارت داخلہ نے ایک نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (www.cybercrime.gov.in) کے ساتھ ساتھ ایک نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر "1930" شروع کیا ہے۔
  3. بینک، پبلک فیسنگ پلیٹ فارم ’سچیت‘ پورٹل اور اسٹیٹ لیول کوآرڈینیشن کمیٹی (ایس ایل سی سی) کے ذریعے شہریوں کو غیر قانونی طور پر رقم جمع کرنے سے متعلق کسی بھی مخصوص ادارے کے خلاف شکایت درج کرانے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
  4. آر بی آئی اور بینک شارٹ ایس ایم ایس، ریڈیو مہمات اور ’سائبر کرائم‘ سے بچاؤ کی تشہیر کے ذریعے بیداری مہم چلا رہے ہیں۔ مزید برآں، آر بی آئی الیکٹرانک-بینکنگ اویرنس اینڈ ٹریننگ (ای-بات) پروگرام منعقد کر رہا ہے جودھوکہ دہی اور خطرات میں کمی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔

*****

ش ح۔ ک ح

U. No. 263


(रिलीज़ आईडी: 2287299) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati