وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی پروری کے شعبے کی مربوط ترقی اور بندوبست
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 3:08PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جانکاری فراہم کی کہ حکومتِ ہند کی وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے تحت محکمۂ ماہی پروری، ملک کی تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں، بشمول اتر پردیش، میں ماہی پروری کے شعبے کی ترقی کے لیے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی )نافذ کر رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مالی سال 2021-2020 سے اب تک مجموعی طور پر 20,990.79 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
مزید برآں، پی ایم ایم ایس وائی کے تحت محکمۂ ماہی پروری نے اتر پردیش حکومت کی ماہی پروری کی ترقی سے متعلق مختلف تجاویز کو مجموعی طور پر 1,294.32 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ منظوری دی ہے، جس میں مرکزی حصہ 412.30 کروڑ روپے ہے۔ مالی سال 2021-2020سے 2027-2026 تک اتر پردیش ریاست کو 336.61 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
اتر پردیش حکومت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ضلع چندولی میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 10 پروجیکٹس نافذ کیے گئے ہیں، جن سے 229 کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ، ضلع چندولی میں 447 گرام سبھا تالاب موجود ہیں، جن کا مجموعی رقبہ 427.15 ہیکٹر ہے۔ ان میں سے 421 تالاب، جن کا رقبہ 417.24 ہیکٹر ہے، لیز پر دیے جا چکے ہیں اور فی الحال ان میں آبی زراعت کی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔
ضلع میں 8 آبی ذخائر بھی موجود ہیں، جن میں سے 5 آبی ذخائر میں ماہی پروری کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
***
ش ح۔م ع ۔ ا ک م
U No. 249
(रिलीज़ आईडी: 2287274)
आगंतुक पटल : 6