وزارت آیوش
آیوش مصنوعات کے لیے ڈجیٹل مارکیٹ تک رسائی اور کوالٹی ایشورنس فریم ورک
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 3:53PM by PIB Delhi
حکومت نے آیوش ادویات کے معیار کی یقین دہانی (کیو اے) اور ضابطہ جاتی تعمیل(آر سی) کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ڈجیٹل کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت ہونے والی آیوش ادویات بھی شامل ہیں۔
ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ- 1940 اور ڈرگز رولز-۱1945 میں آیوروید، سدھا، سووا-رگپا، یونانی اور ہومیوپیتھی (اے ایس ایس یواینڈ ایچ)ادویات کے لیے الگ اور خصوصی ضابطہ جاتی دفعات موجود ہیں۔ ان قوانین کے تحت فروخت کے لیے ادویات تیار کرنے والے تمام مینوفیکچررز کے لیے مینوفیکچرنگ لائسنس حاصل کرنے کی مقررہ شرائط پر عمل کرنا لازمی ہے، جن میں ادویات کی حفاظت (سیفٹی) اور مؤثریت کا ثبوت، آیوروید، سدھا، سووا-رگپا اور یونانی ادویات کے لیے ڈرگز رولز- 1945 کے شیڈول-ٹی اور ہومیوپیتھی ادویات کے لیے شیڈول ایم-Iکے مطابق گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز (جی ایم پی) کی پابندی، نیز متعلقہ فارماکوپیامیں درج معیارات کے مطابق ادویات کے معیار کو یقینی بنانا شامل ہے۔
متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈرگ انسپکٹرز باقاعدگی سے اپنے دائرۂ اختیار میں واقع مینوفیکچرنگ یونٹس اور دوا فروخت کرنے والی دکانوں سے ادویات کے نمونے حاصل کرتے ہیں اور انہیں معیار کی جانچ کے لیے ڈرگ ٹسٹنگ لیبارٹری بھیجتے ہیں۔ اگر کوئی نمونہ 'معیاری معیار کے مطابق نہ ہو'(این اسی کیو) تو اس کی فروخت روکنے سمیت ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ- 1940 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق مناسب قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
آیوش ادویات کی حفاظت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) میں ایک خصوصی 'آیوش ونگ' قائم کیا گیا ہے، تاکہ ضابطہ جاتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ مزید برآں، سی ڈی ایس سی او عالمی معیارات پر پورا اترنے والی آیوش ادویات کو عالمی ادارۂ صحت کا سرٹیفکیٹ آف فارماسیوٹیکل پروڈکٹ (ڈبلیو ایچ او-سی او پی پی) بھی جاری کرتا ہے۔ آیوش ونگ میں تعینات ڈرگ انسپکٹرز، ریاستی و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈرگ انسپکٹرز اور سی ڈی ایس سی اوکے افسران کے ساتھ مل کر مینوفیکچرنگ یونٹس کا مشترکہ معائنہ کرتے ہیں، تاکہ آیوش ادویات کی حفاظت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
کوالٹی کونسل آف انڈیا (QCI) کی جانب سے ایک کوالٹی سرٹیفیکیشن اسکیم بھی نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت آیوروید، سدھا اور یونانی (اے ایس یو) ادویات کو تیسرے فریق کی جانچ کی بنیاد پر، ملکی اور بین الاقوامی معیار کی تعمیل کے مطابق بالترتیب'آیوش اسٹینڈرڈ مارک' اور 'آیوش پریمیم مارک' عطا کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، وزارتِ آیوش 'آیوش اوشدھی گُناوتّا ایوم اُتپادن سَموَردھن یوجنا (اے او جی یو ایس وائے)'کے نام سے ایک مرکزی شعبے کی اسکیم پر عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا مقصد آیوش ادویات کی معیاری کاری، معیاری مینوفیکچرنگ، تجزیاتی جانچ، ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا، ادویات کی حفاظت کی نگرانی (ایس ایم) اور گمراہ کن اشتہارات پر نظر رکھنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت سرکاری اور نجی آیوش دوا ساز اداروں، بشمول چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)کو آیوش فارمیسیوں اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں (ڈی ٹی ایل ایس)کی جدید کاری اور مضبوطی کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ وہ بالترتیب ڈبلیو ایچ او-جی ایم پی اور این اے بی ایل جیسے اعلیٰ معیارات حاصل کر سکیں۔
اے او جی یو ایس وائے اسکیم کے تحت اے ایس یواینڈ ایچ ادویات کے لیے فارماکووجیلنس پروگرام(پی سی وی پی) ملک گیر تین سطحی نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے، جس میں:
-
ایک قومی فارماکووجیلنس رابطہ مرکز (این پی فائیو سی سی) ،
-
پانچ درمیانی سطح کے فارماکووجیلنس مراکز (آئی پی فائیوسی) ،
-
اور 97 ضلعی/علاقائی فارماکوویجیلنس مراکز (پی پی فائیو سی ایس)شامل ہیں۔
مزید برآں، وزارت آیوش نے 'آیوش سرکشا پورٹل'بھی شروع کیا ہے، جس کے ذریعے گمراہ کن اشتہارات اور ادویات کے ممکنہ مضر اثرات(ایس اے ڈی آر) کی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں رپورٹنگ اور نگرانی کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے)میں قائم قومی فارماکووجیلنس رابطہ مرکز (این پی فائیو سی سی) کے کوآرڈینیٹر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کے تحت نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے، تاکہ وہ آیوش ادویات سے متعلق گمراہ کن یا قابل اعتراض اشتہارات کے معاملے میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز اور دیگر آن لائن ثالث اداروں (ڈی آئی)کو قانونی نوٹس جاری کر سکیں۔
****
م ش ح-ظ الف-ج
UR-245
(रिलीज़ आईडी: 2287229)
आगंतुक पटल : 7