ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

مختص شدہ فنڈز کا مکمل استعمال نہ ہونا

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 1:55PM by PIB Delhi

کیمیکلز اور فرٹیلائزرز سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے مشاہدہ کیا ہے کہ محکمۂ فارماسیوٹیکلز کی بعض اسکیموں میں مختص فنڈز کا مکمل استعمال نہیں ہو سکا۔ تاہم، محکمۂ فرٹیلائزرز اور محکمۂ کیمیکلز و پیٹروکیمیکلز کی اسکیموں کے بارے میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

محکمۂ فارماسیوٹیکلز نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیموں، بلک ڈرگ پارکس اور متعلقہ منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اصلاحی اقدامات کیے ہیں:

(i) محکمہ نے پروجیکٹ مینجمنٹ ایجنسیز(پی ایم اےایس)کے ذریعے منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کو مزید مضبوط بنایا ہے، کلیمز(دعوؤں) کی پیشگی پیش گوئی کا نظام متعارف کرایا ہے، سنگِ میل کی بنیاد پر فنڈز جاری کرنے کا طریقہ اپنایا ہے، ٹریژری سنگل اکاؤنٹ(ٹی ایس اے) اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم(پی ایف ایم ایس)کی تیاری کو بہتر بنایا ہے، اور بجٹ تخمینوں کو منصوبوں کی حقیقی پیش رفت کے مطابق ہم آہنگ کیا ہے۔

(ii) اس کے علاوہ، ممکنہ درخواست گزاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے آگاہی ورکشاپس، رابطہ پروگرام(او پی) ور مشاورتی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ انہیں اسکیموں کے رہنما اصولوں، اہلیت کی شرائط، مطلوبہ دستاویزات، کلیمز جمع کرانے کے طریق کار، عمل درآمد کے اوقات اور دیگر ضابطہ جاتی امور سے آگاہ کیا جا سکے، نیز ان کی پیش آنے والی عملی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

(iii) بلک ڈرگ اور میڈیکل ڈیوائس پارکس سے متعلق اسکیموں پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری ضابطہ جاتی منظوریوں(آر پی) کے حصول میں تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ باقاعدہ اجلاسوں، ماہانہ رپورٹس، منصوبوں کے نفاذ، اخراجات کی پیشگی منصوبہ بندی، فنڈز کے انتظام اور موقع پر معائنوں (سائٹ وزٹ) کے ذریعے لیا جاتا ہے۔

درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت ہند نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

(i) محکمۂ فارماسیوٹیکلز کے تحت پروڈکشن لنکڈ انسینٹو(پی ایل آئی) کی تین اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں، جن کے لیے مجموعی طور پر 25,360کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ان اسکیموں کے ذریعے اب تک 51,997 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے، جبکہ مجموعی فروخت 3.88 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 2.43 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی برآمدات بھی شامل ہیں۔

ان اسکیموں کے تحت 218 ایکٹیو فارماسیوٹیکل اجزا(اے پی آئی) ، کلیدی ابتدائی خام مال(کے ایس ایم ایس  اور ڈرگ انٹرمیڈیٹس(ڈی آئی) کی پیداواری صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 57طبی آلات(ایم ڈی) ، جن میں سی ٹی اسکین(سی ٹی ایس)، ایم آر آئی، الٹراساؤنڈ، لائناک، اہم امپلانٹس(سی آئی) وغیرہ شامل ہیں، کی تیاری کی صلاحیت بھی قائم کی گئی ہے۔

ملک کی طبی آلات کی برآمدات 2019-20 میں 26,915 کروڑ روپے تھیں، جو بڑھ کر 2024-25 میں 42,360 کروڑ روپے ہو گئیں۔ اسی طرح ملک میں طبی آلات کی مقامی پیداوار بھی 2019-20 کے تقریباً 28,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں تقریباً 41,500 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

(ii) یوریا کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک میں مقامی یوریا کی پیداوار 2014-15 کے 225 لاکھ میٹرک ٹن(ایل ایم ٹی) سے بڑھ کر 2025-26 میں 293.30 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی، جبکہ 2023-24 کے دوران 314.07 لاکھ میٹرک ٹن کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی گئی۔

نیو انویسٹمنٹ پالیسی(این آئی پی)-2012کے تحت توانائی کی بچت کرنے والے چھ نئے یوریا پلانٹس شروع کیے گئے ہیں، جن میں چار سرکاری شعبے کے مشترکہ منصوبے(راما گنڈم، گورکھپور، سندری اور برونی) اور دو نجی شعبے کے یونٹس پانا گڑھ اور گڈیپن-III)شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی سالانہ پیداواری صلاحیت 12.7 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس سے ملک کی مجموعی نصب شدہ یوریا پیداواری صلاحیت بڑھ کر 269.42 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ(ایل ایم ٹی پی اے) ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ نیو یوریا پالیسی-(این یو پی) 2015کے تحت گیس پر مبنی 25 یوریا یونٹس کی پیداواری کارکردگی بہتر بنائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ازسرِ نو مقرر کردہ صلاحیت سے بھی زیادہ، ہر سال 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن اضافی یوریا پیدا ہو رہا ہے۔

مزید برآں، محکمۂ فرٹیلائزرز یکم اپریل 2010 سے نیوٹرینٹ بیسڈ سبسڈی (این بی ایس) اسکیم پر عمل درآمد کر رہا ہے، جو فاسفیٹک اور پوٹاشک (ہی اینڈ کے) کھادوں پر لاگو ہوتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی اینڈ کےکھادیں اوپن جنرل لائسنس (او جی ایل) کے دائرے میں آتی ہیں اور کمپنیاں اپنی تجارتی ضروریات کے مطابق ان کی تیاری یا درآمد کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

درآمد شدہ فاسفیٹک کھادوں پر انحصار کم کرنے اور ان کی ملکی پیداوار میں خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں 18 جنوری 2024 کو زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایمک آر پی) کے معقول تعین سے متعلق رہنما اصول جاری کرنا شامل ہے، جن کے تحت درآمد کنندگان، مینوفیکچررز اور مربوط (انٹیگریٹیڈ)مینوفیکچررز کے لیے بالترتیب 8 فیصد، 10 فیصد اور 12 فیصد منافع کی مناسب حد مقرر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ این بی ایس اسکیم کے تحت نئے پیداواری یونٹس اور موجودہ یونٹس کی پیداواری صلاحیت میں توسیع کی تجاویز کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت شامل پی اینڈ کے کھادوں کی اقسام کی تعداد بھی 2021 میں 22 سے بڑھا کر 28 کر دی گئی ہے۔

مزید یہ کہ خریف 2022 سے سنگل سپر فاسفیٹ(ایس ایس پی) ، جو ملک میں تیار کی جانے والی کھاد ہے، پر مال برداری سبسڈی (ایف ایس) فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ اسے فاسفورس غذائی جزو کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ اسی طرح این بی ایس اسکیم کے تحت غذائی اجزا کی بنیاد پر سبسڈی کی شرحیں ہر چھ ماہ بعد جاری کی جاتی ہیں، تاکہ پی اینڈ کے کھادوں کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ معلومات آج کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

***

م ش ح-ظ الف-ج

UR-227


(रिलीज़ आईडी: 2287168) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil