بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
نیشنل لاجسٹکس پالیسی، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی ترقی اور ملٹی ماڈل کنیکٹویٹی
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 2:31PM by PIB Delhi
جل مارگ وکاس پروجیکٹ اور قومی آبی گزرگاہوں کے دیگر پروجیکٹس کے تحت 2022-23 سے سال بہ سال بجٹ کی تخصیص، اخراجات اور حاصل کردہ پیش رفت ضمیمہ-I میں دی گئی ہے۔ ریاست وار فعال قومی آبی گزرگاہیں ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔ گوا میں تین فعال قومی آبی گزرگاہیں ہیں، یعنی قومی آبی گزرگاہ-27 (کمبرجوا نہر)، قومی آبی گزرگاہ-111 (زواری ندی) اور قومی آبی گزرگاہ-68 (مانڈوی ندی) اور ان پر جاری مخصوص پروجیکٹس درج ذیل ہیں:
|
قومی آبی گزرگاہیں
|
پروجیکٹ
|
کیفیت
|
|
این ڈبلیو-68 (مندووی ندی)
|
4 کشتیوں کی تعمیر
|
تعمیر مکمل
|
|
این ڈبلیو-27کمبرجوا ندی، این ڈبلیو-111(دریائے زواری) اور این ڈبلیو-68(مندووی ندی)
|
10 کشتیوں کی تعمیر
|
کشتیوں کی تعمیر
|
اندرونِ ملک آبی نقل و حمل(آئی ڈبلیو ٹی)،ساحلی جہاز رانی اور ملٹی ماڈل لوجسٹکس کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات ضمیمہ-III میں دیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت، قومی آبی گزرگاہوں پر کارگو کی نقل و حمل 2013-14 کے 18 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2025-26 میں 218 ملین میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔
اندرونِ ملک آبی نقل و حمل، ریل اور سڑک نقل و حمل کا ایک متبادل ذریعہ ہے اور یہ ان علاقوں میں بھیڑ بھاڑکو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جہاں قابلِ جہاز رانی آبی گزرگاہیں دستیاب ہیں۔ کم لاگت اور کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے سڑک اور ریل کے مقابلے میں اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے ذریعے فی ٹن کارگو کی نقل و حمل کے فوائد ذیل میں تفصیل کے ساتھ دیے گئے ہیں:
نقل و حمل کا اقتصادی ذریعہ (2014 کی قیمتوں کی سطح پر):
:
|
موڈ
|
فریٹ(روپے/ٹی کے ایم)
|
|
ریلوے
|
1.36
|
|
ہائی ویز
|
2.50
|
|
آئی ڈبلیو ٹی
|
1.06
|
ماخذ: ریلوے- وزارت ریلوے، روڈ-ٹی ٹی ایس ایس، آئی ڈبلیو ٹی- آئی ڈبلیو اے آئی
ماحولیات کے لیے زیادہ سازگار نقل و حمل کاموڈ
|
زیر غور عوامل
|
زیر غور شرحیں (روپے / ٹی کے ایم)
|
|
آبی گزرگاہ
|
سڑک
|
ریل
|
|
جی ایچ جی کا اخراج
|
0.0006
|
0.0031
|
0.0006
|
ماخذ: 12 واں پانچ سالہ منصوبہ
نقل و حمل کا کم آلودگی والا ذریعہ
موڈ
|
زیر غور عوامل
|
زیر غور شرحیں (روپے/ ٹی کے ایم)
|
ماخذ
|
|
آبی گزرگاہ
|
سڑک
|
ریل
|
|
فضائی آلودگی
|
0.03
|
0.202
|
0.0366
|
پلاننگ کمیشن: ٹی ٹی ایس اسٹڈی
|
|
شور کی آلودگی
|
نہ ہونے کے برابر
|
0.0032
|
0.0012
|
مستقل بین الاقوامی ایسوسی ایشن آف نیویگیشن کانگریس (پی آئی اے این سی)
|
|
مٹی اور پانی کی آلودگی
|
نہ ہونے کے برابر
|
0.005
|
نہ ہونے کے برابر
|
پی آئی اے این سی
|
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ملٹی ماڈل لوجسٹکس مربوط کاری کو مضبوط بنانے کے لیے، حکومت نے سمندری شعبے کے لیے پیغام کے تبادلے کے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر ’میری ٹائم سنگل ونڈو (ایم ایس ڈبلیو) ساگر سیتو‘ تیار کیا ہے، جو جہاز، کارگو اور سمندری لوجسٹکس سے متعلق معلومات کے بروقت تبادلے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے نظام سے منسلک ہے۔ یہ پلیٹ فارم ریلوے کے کارگو کی نقل و حمل کے لیے فریٹ آپریشنز انفارمیشن سسٹم، سڑک نقل و حمل کے لیے یونیفائیڈ لوجسٹکس انٹرفیس پلیٹ فارم، کارگو کلیئرنس کے لیے انڈین کسٹمز الیکٹرانک گیٹ وے اور دیگر لوجسٹکس اسٹیک ہولڈر پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط ہے تاکہ کارگو کی نمائش کو بہتر بنایا جا سکے، اعداد و شمار کی منتقلی میں سہولت پیدا کی جا سکے، دستی مداخلت کو کم کیا جا سکے اور نقل و حمل کے مختلف ذرائع میں لوجسٹکس کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت ایک خود مختار ادارے، انلینڈ واٹرویز اتھارٹی آف انڈیا نے ’کارڈ-ڈی (کارگو ڈیٹا) پورٹل‘ نامی ایک ڈیجیٹل پورٹل بھی تیار کیا ہے، جو قومی آبی گزرگاہوں پر تمام کارگو اور کروز کی نقل و حمل کے اعداد و شمار جمع کرنے، مرتب کرنے، تجزئیے اور نشر کرنے کے لیے ایک ویب پر مبنی پورٹل ہے۔
یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ ک ح۔ا ک م
U. No. 232
(रिलीज़ आईडी: 2287069)
आगंतुक पटल : 12