کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کوئلے کی پیداوار اور خود انحصاری

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 4:26PM by PIB Delhi

ملک میں کوئلے کی پیداوار بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے درج ذیل اہم اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. وزارت کوئلہ کی جانب سے کوئلہ بلاکس کی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
  2. معدنیات و کانیں (ترقی اور ضابطہ کاری) ترمیمی قانون، 2021 نافذ کیا گیا، جس کے تحت کیپٹو کانوں کے مالکان (ایٹمی معدنیات کے علاوہ) اپنی سالانہ معدنی پیداوار (بشمول کوئلہ) کا 50 فیصد تک، متعلقہ اختتامی استعمال کے پلانٹ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد، آزاد منڈی میں فروخت کر سکتے ہیں۔
  • iii. کوئلے کے شعبے میں کانوں کو جلد فعال بنانے کے لیے سنگل ونڈو کلیئرنس پورٹل متعارف کرایا گیا ہے۔
  • iv. کوئلہ بلاکس کے الاٹیوں کو مختلف منظوریوں اور اجازت ناموں کے حصول میں معاونت فراہم کرنے اور کوئلہ کانوں کو جلد فعال بنانے کے لیے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) قائم کیا گیا ہے۔
  1. 2020 میں ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر تجارتی کوئلہ کان کنی کی نیلامی کا آغاز کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت اگر کوئلہ مقررہ پیداواری تاریخ سے پہلے نکالا جائے تو اس مقدار کے لیے آخری بولی پر 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ مزید برآں، کوئلہ گیسیفیکیشن یا مائع سازی کے منصوبوں کے لیے بھی آخری بولی پر 50 فیصد رعایت کی ترغیب فراہم کی گئی ہے۔
  • vi. تجارتی کوئلہ کان کنی کی شرائط و ضوابط کو نہایت آسان اور لچکدار بنایا گیا ہے۔ ان میں کوئلے کے استعمال پر کسی قسم کی پابندی نہیں، نئی کمپنیوں کو بولی کے عمل میں شرکت کی اجازت، پیشگی رقم میں کمی، پیشگی رقم کو ماہانہ ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے کی سہولت، کانوں کو جلد فعال بنانے کے لیے لچکدار کارکردگی کے معیارات، شفاف بولی کا نظام، خودکار راستے کے تحت 100 فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور نیشنل کول انڈیکس پر مبنی ریونیو شیئرنگ ماڈل شامل ہیں۔
  1. کانوں کو تیزی سے فعال بنانے کے لیے کول بلاک ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن ایگریمنٹ (سی بی ڈی پی اے) کے تحت مکمل طور پر دریافت شدہ کوئلہ بلاکس کے لیے مقررہ مدت 51 ماہ سے کم کر کے 40 ماہ کر دی گئی ہے۔ اسی طرح جزوی طور پر دریافت شدہ بلاکس کے لیے یہ مدت 66 ماہ سے کم کر کے 52 ماہ کر دی گئی ہے۔
  2. حکومت نے طریقۂ کار کو مزید آسان بنانے اور ملکی سطح پر کوئلے کی پیداوار میں اضافے کو فروغ دینے کے لیے متعدد ضابطہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات بھی کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
  • منظور شدہ امکانی جائزہ ایجنسیوں کے لیے امکانی لائسنس، کان اور کوئلے کی تہہ کھولنے کی اجازت، اور حکومت سے ارضیاتی رپورٹوں کی منظوری کی لازمی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
  • کوکنگ کول کو اہم معدنیات قرار دیا گیا ہے۔
  • زیرِ زمین کوئلہ کان کنی کے لیے ترغیبات متعارف کرائی گئی ہیں۔

 

مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ، کوئلہ کمپنیوں نے ملکی کوئلہ پیداوار بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات بھی کیے ہیں:

 

  1. کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) اپنی زیر زمین کانوں میں، جہاں ممکن ہو، مسلسل کان کن مشینوں، لانگ وال اور ہائی وال کی تعیناتی کے ذریعے بڑے پیمانے کی پیداواری ٹیکنالوجیز (ایم پی ٹی) سمیت جدید ٹیکنالوجیوں کو اختیار کر رہی ہے۔ اس کی کھلی کانوں (او سی) میں پہلے ہی زیادہ صلاحیت والے جدید ترین کھدائی کرنے والے آلات اور ڈمپر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کھلی کانوں میں ہیوی ارتھ موونگ مشینری (ایچ ای ایم ایم) کو معیاری بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مؤثر اور ماحول دوست کان کنی کے لیے کھلی کانوں میں سرفیس مائنر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
  2. سنگارینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل) نئے منصوبوں کو عملی شکل دینے اور موجودہ منصوبوں کی مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطہ کاری کر رہی ہے۔ ایس سی سی ایل نے کوئلے کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں کول ہینڈلنگ پلانٹس (سی ایچ پی)، کرشر، موبائل کرشر، پری وی بِنس وغیرہ شامل ہیں۔

 

ملک میں کوئلے کی زیادہ تر ضرورت مقامی پیداوار اور فراہمی کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ حکومت کی توجہ ملکی کوئلہ پیداوار میں اضافہ کرنے اور غیر ضروری کوئلہ درآمدات کو مکمل طور پر ختم کرنے پر مرکوز ہے۔

ملکی سطح پر پیدا ہونے والے کوئلے کے استعمال کو فروغ دینے اور کوئلہ درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

 

  1. سالانہ معاہدہ شدہ مقدار (اے سی کیو) کو ان تمام صورتوں میں معیاری ضرورت کے 100 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جہاں پہلے غیر ساحلی بجلی گھروں کے لیے 90 فیصد اور ساحلی بجلی گھروں کے لیے 70 فیصد تک محدود کر دیا گیا تھا۔ اے سی کیو میں اس اضافے سے ملکی کوئلے کی فراہمی بڑھے گی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔
  2. 2020 میں غیر ضابطہ بند شعبہ (این آر ایس) کی لنکیج نیلامی پالیسی میں ترمیم کے ذریعے کوکنگ کول کی لنکیج کی مدت بڑھا کر 30 سال تک کر دی گئی ہے۔ اس توسیع سے درآمدی کوئلے کے متبادل کے طور پر ملکی کوکنگ کول کے استعمال کو فروغ ملے گا۔
  • iii. حکومت نے 2022 میں فیصلہ کیا کہ بجلی کے شعبے کے تمام موجودہ لنکیج ہولڈر کو، ٹرگر لیول اور ACQ کی سطح سے قطع نظر، ان کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کی مکمل ضرورت کے مطابق کوئلہ کوئلہ کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے بجلی کے شعبے کی درآمدی کوئلے پر انحصار میں کمی آئے گی۔
  • iv. حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ملکی سطح پر کوئلے کی فراہمی میں مزید اضافہ کیا جائے، تاکہ درآمد کیے جانے والے تمام قابلِ متبادل کوئلے کی ضرورت ملک کے اندر ہی پوری ہو سکے اور انتہائی ضروری حالات کے علاوہ کوئلہ درآمد کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
  1. مارچ 2024 میں این آر ایس لنکیج نیلامی کے تحت ایک نیا ذیلی شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے ملک میں مقامی کوکنگ کول کے استعمال میں اضافہ ہوگا، دھوئے ہوئے کوکنگ کول کی دستیابی بہتر ہوگی، اور کوکنگ کول کی درآمدات میں کمی آئے گی۔
  • vi. کوکنگ کول مشن کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ فولاد کے شعبے کو کوکنگ کول کی فراہمی بڑھائی جا سکے اور درآمدات پر انحصار کم ہو۔ اس مقصد کے لیے کوکنگ کول کی پیداوار میں اضافے کے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
  1. درآمدی کوئلے پر مبنی بجلی گھر (آئی سی بی پلانٹ) کو نظرثانی شدہ شکتی پالیسی، 2025 کے تحت کوئلہ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت آئی سی بی بجلی گھروں کو ملکی کوئلہ دستیاب ہونے سے ان کا درآمدی کوئلے پر انحصار کم ہوگا۔
  2. موجودہ فیول سپلائی ایگریمنٹ (ایف ایس اے) رکھنے والوں کو بھی نظرثانی شدہ شکتی پالیسی، 2025 کے تحت، موجودہ ایف ایس اے کے مطابق اے سی کیو کا 100 فیصد کوئلہ حاصل کرنے کے بعد اضافی کوئلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اے سی کیو سے زائد کوئلے کی دستیابی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو اپنے بجلی گھروں کی مکمل ضرورت پوری کرنے میں مدد دے گی۔
  • ix. حال ہی میں قائم کیے گئے کول سیتو پلیٹ فارم کے تحت غیر ضابطہ بند شعبہ (این آر ایس) کی لنکیج نیلامیوں میں فراہم کی جانے والی کوئلہ لنکیج سے ملک میں دھوئے ہوئے کوئلے کی دستیابی میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کوئلہ درآمدات میں مزید کمی آئے گی۔

 

جون 2020 میں تجارتی کوئلہ کانوں کی نیلامی کے آغاز کے بعد سے اب تک تجارتی کوئلہ کان کنی کے تحت مجموعی طور پر 132 کوئلہ بلاکس الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 23 کوئلہ بلاکس کو کان کھولنے کی اجازت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ 15 کوئلہ بلاکس میں کوئلہ پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ باقی 109 الاٹ شدہ کوئلہ بلاکس کول مائن ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن ایگریمنٹ (سی ایم ڈی پی اے) کے تحت مقررہ ترقیاتی مدت کے مطابق پیش رفت کر رہے ہیں۔

ملک میں کوئلہ/ لگنائٹ کانوں میں ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے شجرکاری اور حیاتیاتی بحالی، کانوں کے پانی کو مقامی برادریوں کے استعمال کے لیے بروئے کار لانا، ایکو پارک کی ترقی، اور توانائی کی بچت سے متعلق اقدامات جیسے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ، تجارتی کوئلہ کان کنی کے لیے کامیاب بولی دہندہ اور نامزد اتھارٹی  کے درمیان طے پانے والے کول بلاک ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن ایگریمنٹ (سی ایم ڈی پی اے) میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ کان میں جدید اور رائج ٹیکنالوجیوں کے مطابق کوئلے کی میکانکی کان کنی، نقل و حمل اور نکاسی کو نافذ کرے گا۔ اسی کے مطابق، کامیاب بولی دہندہ کان کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے کاربن فٹ پرنٹ کو کم سے کم کرنے، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے اور اچھی صنعتی روایات کے مطابق پائیداری کو فروغ دینے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ، کوئلہ کمپنیوں نے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے کوئلہ کانوں کی پائیدار ترقی کے لیے درج ذیل اقدامات بھی کیے ہیں:

 

  1. سڑک کے ذریعے کوئلے کی نقل و حمل کو کم سے کم کرنا اور فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) منصوبوں سمیت کوئلے کی میکانکی لوڈنگ اور نقل و حمل کو فروغ دینا۔
  2. سرفیس مائنر اور ایکس-سنٹرک رِپرز کے ذریعے دھماکے کے بغیر کان کنی کی ٹیکنالوجی اختیار کرنا۔
  • iii. گردوغبار کی آلودگی میں کمی کے لیے مستقل پانی چھڑکنے والے آلات، دھند نما اسپرنکلر، موبائل واٹر اسپرنکلر، فوگ کینن، روبوٹک نوزل واٹر اسپرے، مکینیکل روڈ سویپرز، وہیل واشنگ سسٹم، ہوا روکنے والی رکاوٹیں وغیرہ کا استعمال۔
  • iv. گردوغبار پر قابو پانے، کاربن کے ذخیرے میں اضافہ کرنے اور متاثرہ زمین کی بحالی کے لیے کان کنی کے علاقوں اور ان کے اطراف وسیع پیمانے پر شجرکاری۔
  1. مناسب استحکام کے بعد کان کنی سے خالی ہو جانے والے علاقوں میں ایکو پارک کی ترقی۔
  • vi. ماحولیات کی موجودہ بنیادی صورتحال کا تعین کرنے اور اس کے مزید فروغ کے لیے لائحۂ عمل تیار کرنے کی غرض سے معروف اداروں کے ذریعے باقاعدہ ماحولیاتی جائزے اور مطالعات۔
  1. عارضی مٹی کے ڈھیروں پر گھاس اگانے، بانس کی شجرکاری اور دیگر سرسبز سرگرمیوں کے ذریعے ان کا استحکام اور ماحولیاتی نظام کی بحالی۔
  2. گردوغبار میں کمی کے لیے کوئلہ نقل و حمل کی سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ یا پختہ کاری اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال۔
  • ix. زیرِ زمین کوئلہ کان کنی کو فروغ دینا۔
  1. کانوں کی سائنسی بنیادوں پر بندش کو یقینی بنانا۔

 

مقامی افراد کی باز آبادکاری کے لیے حکومت نے درج ذیل اہم اقدامات کیے ہیں:

 

  1. زمین کے معاوضے کے فوائد منصفانہ معاوضہ اور زمین کے حصول میں شفافیت، بازآبادکاری و بازتسکین کے حق کا قانون، 2013 کے شیڈول-I کے مطابق، یا کوئلہ بردار علاقوں (حصول و ترقی) قانون، 1957 کی دفعہ 14(1) کے تحت باہمی رضامندی سے طے پانے والے معاہدے کے مطابق فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر زمین سی بی اے ایکٹ، 1957 کے تحت حاصل کی جائے، تو باز آبادکاری اور باز تسکین کے فوائد آر ایف سی ٹی ایل اے آر آر ایکٹ، 2013 کے شیڈول-II کے مطابق دیے جاتے ہیں۔
  2. معاوضے اور آر اینڈ آر سے متعلق تمام سرگرمیوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضلع کلکٹر یا ان کے نمائندے کی سربراہی میں باز آبادکاری و بازتسکین کمیٹی قائم کی جاتی ہے۔
  • iii. زمین کا قبضہ صرف اس وقت لیا جاتا ہے جب منصوبے سے متاثرہ اہل خاندانوں (پی اے ایف) کو ان کے واجب الادا تمام فوائد ادا کر دیے جائیں۔

مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی، جناب ستیش چندر دوبے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

20-07-2026

                                                                                                                                          U: 187

 


(रिलीज़ आईडी: 2286878) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil