کوئلے کی وزارت
فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی اور کوئلہ نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:25PM by PIB Delhi
وزارت کوئلہ نے مالی سال 2029-30 تک عمل درآمد کے لیے 139 فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) منصوبے شروع کیے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 1,319 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) ہے۔ ان میں سے 72 منصوبے، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 589 ایم ٹی پی اے ہے، مکمل ہو کر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 67 منصوبے عمل درآمد، ٹینڈرنگ اور منصوبہ بندی کے مختلف مراحل میں ہیں۔
کول لاجسٹکس پلان اینڈ پالیسی، 2030 کے تحت مقررہ اہداف مالی سال 2029-30 تک مرحلہ وار حاصل کیے جائیں گے۔ اب تک ہونے والی پیش رفت درج ذیل ہے:
- کوئلے کی نکاسی کے لیے ریلوے بنیادی ڈھانچے کی توسیع: 8 ریلوے منصوبوں میں سے 5 مکمل ہو کر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی 3 منصوبے مالی سال 2028 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، وزارت کوئلہ نے مستقبل میں کوئلے کی نکاسی کے لیے 33 اہم منصوبوں کی نشاندہی کی ہے، جن پر وزارت ریلوے کام کر رہی ہے۔
- میکانکی کوئلہ ہینڈلنگ اور کنویئر پر مبنی نقل و حمل: 139 ایف ایم سی منصوبوں میں سے 72 مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی منصوبے مالی سال 2030 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔
کوئلے کو کانوں کے دہانے سے استعمال کی جگہوں تک پہنچانے میں درپیش اہم رکاوٹیں درج ذیل ہیں:
(i) بعض انتہائی مصروف ریلوے راستوں پر ریلوے کی ناکافی گنجائش اور ٹریفک کا دباؤ۔
(ii) ریلوے منصوبوں کی منظوری، زمین کے حصول، جنگلات اور ماحولیاتی منظوریوں، اور منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر۔
(iii) ریلوے ریک کی دستیابی، ان کی بروقت فراہمی اور واپسی کے دورانیے سے متعلق عملی مسائل۔
(iv) ٹرکوں کے ذریعے کوئلہ نقل و حمل کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ اور ماحولیاتی خدشات۔
(v) ریل-سمندر-ریل، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں اور ساحلی جہاز رانی جیسے متبادل ذرائع کی ترقی میں حائل رکاوٹیں، جن میں موزوں ٹرمینلز اور آخری مرحلے کی رابطہ سہولیات کی کمی شامل ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے وزارت کوئلہ باقاعدگی سے وزارت ریلوے، کوئلہ کمپنیوں، ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ اہم ریلوے اور ایف ایم سی منصوبوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔
وزارت کوئلہ نے وزارت ریلوے، وزارت بجلی اور وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں و بندرگاہیں کے اشتراک سے ایک مربوط کوئلہ لاجسٹکس پلان شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی، کم لاگت اور مضبوط لاجسٹکس نظام تیار کرنا ہے تاکہ ملٹی ماڈل نقل و حمل کو فروغ دیا جا سکے اور صارفین تک پہنچنے والے کوئلے کی مجموعی لاگت کم کی جا سکے۔ اس منصوبے میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:
- کوئلے کی نکاسی کے لیے 33 اہم ریلوے منصوبوں کی نشاندہی اور میکانکی ہینڈلنگ کے بنیادی ڈھانچے، مثلاً فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) منصوبوں، کی ترقی۔
- مالی سال 2030 تک ریلوے کے ذریعے کوئلہ نقل و حمل کا حصہ بڑھا کر 75 فیصد کرنا، تاکہ نسبتاً زیادہ لاگت والی سڑک کے ذریعے نقل و حمل پر انحصار کم ہو۔
- ساحلی جہاز رانی اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کو فروغ دینا، تاکہ کوئلہ نقل و حمل کے متبادل راستے دستیاب ہوں، اور کثیر النوع نقل و حمل کو بہتر بنا کر مجموعی لاجسٹکس لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
- کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) نے ریل-سمندر-ریل (آر ایس آر) طریقۂ نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے سالانہ معاہدہ شدہ مقدار (اے سی کیو) سے زائد کوئلہ سپلائی پر پرفارمنس انسینٹو کو 40 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا ہے، تاکہ صارفین کم لاگت والے آر ایس آر طریقۂ نقل و حمل کو اختیار کریں اور مجموعی لاجسٹکس لاگت میں کمی آئے۔
ان اقدامات سے کوئلے کی نکاسی کی صلاحیت میں اضافہ، لوڈنگ کی کارکردگی میں بہتری اور کانوں سے صارفین تک کوئلے کی زیادہ قابلِ اعتماد ترسیل ممکن ہوئی ہے۔ سائلوز اور تیز رفتار لوڈنگ نظام کے ذریعے میکانکی لوڈنگ نے ریلوے ریک لوڈ کرنے کے وقت میں کمی کی ہے، ویگنوں کے استعمال کو بہتر بنایا ہے اور نقل و حمل و ہینڈلنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کو کم کیا ہے۔
ریلوے رابطوں کی توسیع اور وزارتِ کوئلہ، وزارتِ ریلوے، کوئلہ کمپنیوں اور بجلی کے شعبے کے متعلقہ فریقوں کے درمیان قریبی تعاون کے باعث کوئلے کی مسلسل ترسیل اور بجلی گھروں سمیت دیگر صارف شعبوں کو بروقت سپلائی ممکن ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے، ایف ایم سی اور کثیر النوع بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے توقع ہے کہ ریلوے ریک کی واپسی کا دورانیہ مزید بہتر ہوگا، سڑک کے ذریعے نقل و حمل پر انحصار کم ہوگا، لاجسٹکس لاگت میں کمی آئے گی، اور مالی سال 2029-30 تک ملکی کوئلہ پیداوار میں متوقع اضافے کی حمایت حاصل ہوگی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی، جناب ستیش چندر دوبے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
20-07-2026
U: 186
(रिलीज़ आईडी: 2286841)
आगंतुक पटल : 5