دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمہ زمینی وسائل نے گوا میں ’نقشہ‘ (NAKSHA) پائلٹ پروجیکٹ سے متعلق حقائق کی وضاحت کی؛ تصدیق کی کہ اصل زمینی ریکارڈ مکمل طور پر محفوظ رہیں گے

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 4:23PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارت دیہی ترقی کے محکمہ زمینی وسائل نے حکومت گوا کے ڈائریکٹوریٹ آف سیٹلمنٹ اینڈ لینڈ ریکارڈز (ڈی ایس ایل آر) کے اشتراک سے نیشنل جیو اسپیشل نالج بیسڈ لینڈ سروے آف اربن ہیبیٹیشن (این اے کے ایس ایچ اے) پائلٹ پروجیکٹ سے متعلق بے بنیاد افواہوں کی تردید کرتے ہوئے ایک سرکاری وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ حکومت نے واضح طور پر اعادہ کیا ہے کہ موجودہ تمام جائیدادوں کی ملکیت، حدود اور سرکاری زمینی ریکارڈ مکمل طور پر محفوظ ہیں اور جاری نقشہ سازی کی کارروائی سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام (ڈی آئی ایل آر ایم پی) کے تحت نافذ کیے جانے والے ’نقشہ‘ پروجیکٹ میں جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی شہری اراضی کے قطعات کی نقشہ سازی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، زمینی انتظامیہ کو جدید بنانا اور عوامی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو مؤثر بنانا ہے۔

محکمے نے واضح کیا ہے کہ غیر مقیم زمین مالکان اور بیرونِ ملک مقیم افراد کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ سروے کے دوران کسی مالک کی جسمانی عدم موجودگی سے نہ تو اس کی جائیداد کو کوئی خطرہ لاحق ہوگا اور نہ ہی اس کے قانونی حقوق ملکیت متاثر ہوں گے۔ اس پروگرام میں متعدد مراحل پر تصدیق اور عوامی مشاہدے کے لیے باضابطہ طور پر مطلع کردہ مدت شامل ہے تاکہ غیر حاضر مالکان کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ جائیداد کی ملکیت صرف رائج قانونی ضوابط اور موجودہ درست ملکیتی دستاویزات کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے، لہٰذا سروے کے وقت جسمانی موجودگی کی بنیاد پر کوئی ہمسایہ یا تیسرا فریق کسی زمین پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔

اس کے علاوہ، عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ’نقشہ‘ صرف اراضی کے اعداد و شمار کی نقشہ سازی کا منصوبہ ہے اور اس کا زمین کے حصول سے متعلق کسی بھی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت اس منصوبے کے ذریعے کسی نجی زمین پر قبضہ نہیں کر رہی اور نہ ہی اس سروے کا مقصد مقامی سطح پر جائیداد پر عائد ٹیکس میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سروے میں صرف زمین کے قطعات کی موجودہ زمینی حالت کو دستاویزی شکل دی جا رہی ہے، لہٰذا زمین سے متعلق جاری قانونی یا حد بندی کے تنازعات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ان کا فیصلہ حسب سابق متعلقہ عدالتی اور انتظامی فورمز پر ہی کیا جائے گا۔

زمینی حقائق کی تصدیق کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد باضابطہ جانچ کا عمل 16 جولائی سے 14 اگست 2026 تک جاری رہے گا۔ جائیداد کے مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ملکیت سے متعلق دستاویزات کے ساتھ انسپکٹر آف سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ (آئی ایس ایل آر) کے دفتر، اوسیا کمرشل آرکیڈ، ایس جی پی ڈی اے مارکیٹ، مارگاؤ میں متعلقہ انسپکٹر کے سامنے حاضر ہوں۔ اس عمل میں شرکت کے لیے شہریوں کو سروے سے متعلق کسی تکنیکی مہارت کی ضرورت نہیں، کیونکہ مقررہ افسران انہیں ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کریں گے۔ محکمہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور اس شفافیت پر مبنی مہم میں بھرپور تعاون کریں۔

                                               **************

                                                                                                   

 

ش ح۔ ف ش ع

20-07-2026

                                                                                                                                          U: 184

 


(रिलीज़ आईडी: 2286816) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil