مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
ہندوستانی شہروں میں اربن ہیٹ آئی لینڈ کے اثرات میں کمی کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 7:24PM by PIB Delhi
ہندوستان کے آئین کے بارہویں شیڈول کے مطابق شہری منصوبہ بندی ریاستی حکومتوں اور شہری سطح پر قائم شہری مقامی اداروں(یو ایل بیز) اور اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔ حکومتِ ہند مختلف اسکیموں، مشاورتی ہدایات، رہنما خطوط، مالی معاونت اور تکنیکی تعاون کے ذریعے ریاستوں کی شہری منصوبہ بندی کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں تعاون فراہم کرتی ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 2019 میں شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) سے بچاؤ اور اس کے انتظام کے لیے ایکشن پلان کی تیاری سے متعلق قومی رہنما خطوط جاری کیے تھے۔ ان رہنما خطوط کے مطابق شہروں کو چاہیے کہ وہ اربن ہیٹ آئی لینڈ کے اثرات میں اضافے کا باعث بننے والے عوامل کی نشاندہی کے لیے خطرات کا جائزہ لیں اور اپنے ہیٹ ایکشن پلانز (ایچ اے پیز) میں ان کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات شامل کریں۔ اب تک 23 ریاستوں، 195 اضلاع اور 64 شہروں نے ہیٹ ایکشن پلانز تیار کر لیے ہیں۔
اس کے علاوہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے "ہندوستانی شہروں میں ہیٹ ویو کے دوران غیر منضبط شعبے کے کارکنوں کے تحفظ" کے موضوع پر ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے، جس میں صحت، تحفظ اور صنفی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے موافقتی اقدامات کی تفصیل دی گئی ہے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہیٹ ایکشن پلانز میں اسٹریٹ وینڈرز اور دیگر کھلے مقامات پر کام کرنے والے کارکنوں کی ضروریات کو شامل کریں۔ اس مقصد کے لیے سائے دار وینڈنگ زونز، پینے کے صاف پانی کی سہولت، کولنگ سینٹرز، کام کے لچکدار اوقات اور ہیٹ ویو سے متعلق بروقت انتباہی اطلاعات فراہم کرنے جیسے اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
قومی راجدھانی خطہ دہلی (این سی ٹی) کی حکومت کے مطابق، دہلی اسٹیٹ ایکشن پلان برائے موسمیاتی تبدیلی (ایس اے پی سی سی 2.0) پر نظرثانی کے تحت محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے 1991 تا 2020 کے اعداد و شمار اور بین حکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی اے آر-6 موسمیاتی منظرناموں کی بنیاد پر موسمیاتی حساسیت کا ایک جامع جائزہ لیا گیا ہے۔
اس جائزے میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہروں اور درجہ حرارت میں اضافے کو دہلی کے لیے موسمیاتی خطرات کے دو بڑے مراکز میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق صدی کے وسط تک سوشیو اکنامک پاتھ ویز (ایس ایس پی) 2-4.5 کے تحت موسم گرما کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس جبکہ ایس ایس پی 5-8.5 کے تحت 2.1 ڈگری سیلسیس تک اضافے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتہائی گرم دنوں کی تعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
اس تحقیق میں جنوبی دہلی کو موسمیاتی اعتبار سے سب سے زیادہ حساس ضلع قرار دیا گیا ہے، جبکہ نئی دہلی سب سے کم حساس ضلع ہے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں گرمی کا بڑھتا ہوا دباؤ عوامی صحت، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے ذرائع کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
نظرثانی شدہ دہلی اسٹیٹ ایکشن پلان برائے موسمیاتی تبدیلی میں اربن ہیٹ آئی لینڈ (یو ایچ آئی) کے اثرات کو کم کرنے اور شہری علاقوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں عمارتوں پر کول روف (ٹھنڈی چھتوں) کی تنصیب، کولنگ کوریڈورز کی ترقی، شہری سبز بنیادی ڈھانچے میں توسیع، شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اربن ہیٹ آئی لینڈ کے انتظام کو شامل کرنا، عوامی بنیادی ڈھانچے کی ماحول دوست ازسرِنو تعمیر، بارش کے پانی کی نکاسی کے نظام کو مضبوط بنانا، ویٹ لینڈز اور شہری آبی ذخائر کی بحالی، اور سیلاب سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اقدامات شامل ہیں تاکہ موسمیاتی لچک کو فروغ دیا جا سکے۔
اس منصوبے میں دہلی ہیٹ ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ کے ذریعے شہر کی گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ابتدائی گرمی انتباہی نظام، موسمیاتی خطرات کا جائزہ اور نقشہ سازی، عوامی بیداری، استعداد کار میں اضافہ، حساس طبقات کا تحفظ، کول روف اور شہری سبز مقامات کو فروغ دینا، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور گرمی سے متعلق بیماریوں کی نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کے مطابق، وزارت کی جانب سے جاری کردہ انڈیا کولنگ ایکشن پلان (آئی سی اے پی) مختلف شعبوں میں پائیدار کولنگ کے لیے ایک جامع وژن فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کو پائیدار ٹھنڈک اور حرارتی آسائش فراہم کرنا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی فوائد کو بھی یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے میں کولنگ کی طلب کم کرنے، توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے اور بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔
رہائش اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے بھی جامع اور سرسبز شہری ترقی، گرین انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے ریاستوں اور شہروں کو مختلف مشاورتی ہدایات اور رہنما خطوط جاری کیے ہیں، جن میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:
- شہری سبز رہنما خطوط، 2014
https://www.mohua.gov.in/static/uploads/2025/11/689e6289b1b686d234805891a3c82ace.pdf
- شہری اور علاقائی ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور نفاذ کے رہنما خطوط، 2014
https://www.mohua.gov.in/static/uploads/2025/10/1813403503fbec280e7648c0ae692512.pdf
اربن اینڈ ریجنل ڈیولپمنٹ پلانز کی تیاری اور نفاذ سے متعلق رہنما خطوط میں گرین سٹی منصوبہ بندی اور مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سڑکوں اور عمارتوں کی مناسب سمت بندی، آبی ذخائر کی تخلیق اور تحفظ، کھلی جگہوں اور سبزے کی فراہمی، نیم نفوذ پذیر زمینی سطح، گرین عمارتوں کی تعمیر، شمسی توانائی سے ہم آہنگ ڈیزائن اور گرین روفز (سبز چھتوں) کو فروغ دینا شامل ہے۔
امرت اور امر ت 2.0 کے تحت شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت 4,171 پارکوں کے منصوبوں کو منظوری دی گئی، جو 18,168 ایکڑ پر محیط ہیں، جن میں سے 3,458 پارک، جن کا رقبہ 11,119 ایکڑ ہے، تیار کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح 2,960 آبی ذخائر کے منصوبوں کو منظوری دی گئی، جو تقریباً 1.21 لاکھ ایکڑ رقبے پر محیط ہیں، جن میں سے 1,104 منصوبے، جن کا رقبہ 18,535 ایکڑ ہے، مکمل کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ 346 گرین موبلٹی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جن کے تحت 473 کلومیٹر طویل پیدل راستے، واک ویز اور سائیکل ٹریکس تعمیر کیے گئے، جبکہ 99 لاکھ ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں سالانہ 665 کروڑ کلو واٹ گھنٹے بجلی کی بچت اور 46 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی ہے۔
مزید برآں، 2025-26 کے دوران امرت متر "ویمن فار ٹریز" مہم کے تحت 7.65 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے، مقامی موسمی حالات کو بہتر بنانے اور گرمی کے دباؤ میں کمی لانے میں مدد مل رہی ہے۔
امر ت 2.0 کے تحت "ہیٹ ریزیلینٹ شہروں کی تعمیر: شہری ہندوستان کے لیے ایک اسٹریٹجک پائلٹ" پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت 12 شہروں میں شہری گرمی سے نمٹنے کے اقدامات کا سائنسی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان شہروں میں بنگلورو، بھوپال، دہرادون، غازی آباد، گوالیار، گروگرام، گوہاٹی، جودھپور، لدھیانہ، ناسک، وڈودرا اور وشاکھاپٹنم شامل ہیں۔
اس جائزے کے ذریعے شہری گرمی کے بنیادی اسباب کی نشاندہی، زیادہ متاثرہ علاقوں کی نقشہ سازی، اور ہر شہر کے لیے شہری شجرکاری، پانی سے ہم آہنگ منصوبہ بندی، قدرتی ٹھنڈک کے طریقوں اور گرمی سے بچاؤ و موافقت سے متعلق مخصوص سفارشات تیار کی جا رہی ہیں۔
ریاستوں کو "سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو خصوصی امداد کی اسکیم" (ایس ایس اے ایس سی آئی) کے تحت 2022 سے 2025 کے دوران شہری منصوبہ بندی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے موسمیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے ترغیبات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان اقدامات میں شہری علاقوں کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، اسپنج سٹی منصوبہ بندی، آبی ذخائر کا تحفظ، شہری جنگلات کی ترقی اور گرین اور بلیو انفراسٹرکچر کو فروغ دینا شامل ہے، تاکہ شہری علاقوں میں گرمی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
یہ معلومات مکانات اور شہری امور کے وزیر جناب منوہر لال نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
************
ش ح۔ک ح ۔ م ا
U. No. 207
(रिलीज़ आईडी: 2286814)
आगंतुक पटल : 11