کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی جانب سے قبولیت کی دستاویز جمع کروا کر ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سبسڈیز معاہدے کی توثیق


ایکوا کلچر اور اندرونِ ملک ماہی گیری ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سبسڈیز معاہدے کے دائرہ کار سے باہر رہیں گے

ڈبلیو ٹی او کا ماہی گیری سبسڈیز معاہدہ ایک ذمہ دارانہ سی فوڈ ایکسپورٹر کے طور پر ہندوستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 7:13PM by PIB Delhi

 ہندوستان نے 20 جولائی 2026 کو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ماہی گیری سبسڈی معاہدے (ایگریمنٹ آن فشریز سبسڈیز- اے ایف ایس) کی منظوری کی دستاویز (انسٹرومنٹ آف ایکسیپٹنس) جمع کرا دی، جس کے ساتھ ہی وہ اس معاہدے کا باضابطہ فریق بن گیا۔ یہ دستاویز حکومت ہند کے کامرس سکریٹری نے عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل کے حوالے کی۔ ہندوستان کے اس فیصلے سے پائیدار ماہی گیری کے انتظام کے تئیں اس کے عزم کی توثیق ہوتی ہے، ساتھ ہی ساحلی آبادی کے لیے خوراک کے تحفظ، روزگار اور ذریعہ معاش کے اہم وسیلے کے طور پر سمندری وسائل کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

عالمی تجارتی تنظیم کا ماہی گیری سبسڈی معاہدہ جون 2022 میں جنیوا میں منعقدہ 12ویں وزارتی کانفرنس میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ یہ ماحولیاتی پائیداری کے مقصد پر مبنی عالمی تجارتی تنظیم کا پہلا کثیر فریقی معاہدہ ہے، جس کے تحت غیر قانونی ماہی گیری اور مچھلیوں کے ذخائر کے بے جا استحصال کے لیے سرکاری مالی معاونت پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ سمندری طرز زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ دو تہائی رکن ممالک کی منظوری کے بعد یہ معاہدہ 15 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوا۔

ہندوستان اس معاہدے کی منظوری کی دستاویز جمع کرانے والا عالمی تجارتی تنظیم کا 123واں رکن بن گیا ہے۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر سمندری جنگلی مچھلیوں کے شکار اور سمندر میں ماہی گیری سے متعلق سرگرمیوں کے لیے دی جانے والی سبسڈی پر لاگو ہوتا ہے، جبکہ آبی زراعت (ایکوا کلچر) اور اندرونِ ملک ماہی گیری اس کے دائرۂ کار سے باہر ہیں۔

یہ معاہدہ پائیدار ماہی گیری کو فروغ دے کر روایتی اور چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والوں کے روزگار کا تحفظ کرتا ہے۔ اس کے تحت غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (آئی یو یو) ماہی گیری اور ضرورت سے زیادہ شکار کیے گئے مچھلیوں کے ذخائر سے متعلق سبسڈی پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے سمندری وسائل کے غیر پائیدار استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی اور روایتی و چھوٹے ماہی گیروں کے طویل مدتی مفادات محفوظ رہیں گے۔

اس معاہدے سے عالمی سطح پر ماہی گیری کے شعبے میں زیادہ منصفانہ نظام کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ یہ دور دراز سمندری علاقوں میں کام کرنے والے بڑے صنعتی ماہی گیری بیڑوں کو دی جانے والی نقصان دہ سبسڈی کو محدود کرتا ہے۔ اس سے ہندوستان جیسے ممالک کو فائدہ ہوگا، جہاں ماہی گیری کا شعبہ زیادہ تر چھوٹے پیمانے پر مشتمل ہے اور جو بڑے صنعتی ماہی گیری کے شعبے میں نمایاں کردار ادا نہیں کرتے۔

یہ معاہدہ ذمہ دار سمندری غذائی مصنوعات برآمد کرنے والے ملک کے طور پر ہندوستان کی ساکھ کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے ایسے عالمی بازاروں تک رسائی بہتر ہوگی جہاں پائیداری اور مصنوعات کی مکمل سراغ رسانی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں ایکوا کلچر پر مبنی جھینگے کا غلبہ، جو اس معاہدے کے دائرے سے باہر ہیں، اس شعبے کی مسابقت اور مضبوطی کو برقرار رکھے گا۔

ہندوستان نے ماہی گیری کے مؤثر انتظام کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کر رکھا ہے، جسے خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) میں پائیدار ماہی گیری قواعد، 2025 اور ہندوستانی پرچم بردار ماہی گیری جہازوں کے لیے پانی زیادہ دباؤ والے علاقوں میں پائیدار ماہی گیری سے متعلق رہنما خطوط، 2025 کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات کے ساتھ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت استعداد کار بڑھانے، نگرانی اور تحفظ کے پروگرام اس معاہدے کے مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جبکہ روایتی اور چھوٹے ماہی گیروں کے مفادات کا بھی تحفظ کرتے ہیں۔

عالمی تجارتی تنظیم کا ماہی گیری سبسڈی معاہدہ سمندری ماہی گیری کے وسائل کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ رکن ممالک کو مناسب رعایتیں بھی فراہم کرتا ہے۔

حکومت نے کہا کہ اس معاہدے کی منظوری پائیدار ماہی گیری کے انتظام اور سمندری وسائل کے ذمہ دارانہ نظم و نسق کے لیے ہندوستان کے عزم کی عکاس ہے۔ ہندوستان کا داخلی ماہی گیری انتظامی نظام اس معاہدے سے ہم آہنگ ہے اور روایتی و چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پائیدار ماہی گیری کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اس معاہدے کا فریق بن کر ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی تجارتی تنظیم پر مبنی قواعد پر استوار عالمی تجارتی نظام سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔

 

************

ش ح۔ک ح ۔ م ا

 U. No.  206


(रिलीज़ आईडी: 2286812) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Malayalam