ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
مہارت کی ترقی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:19PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت وزارت ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں، مثلاً پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) اور صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) کے ذریعے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت ملک بھر کے تمام طبقات، بشمول چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، کرناٹک اور اتر پردیش میں ہنر مندی، ازسر نو ہنر مندی اور اعلیٰ درجے کی ہنر مندی کی تربیت، ہنر مندی کی ترقی کے مراکز/ اداروں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کرتی ہے۔ اسکل انڈیا مشن کا مقصد ہندوستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا اور انہیں صنعت سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
حکومت ملک بھر میں، بشمول دیہی، قبائلی اور آسپیریشنل اضلاع میں، تربیت کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے مزید تربیتی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے، پسماندہ اور کم خدمات یافتہ علاقوں تک بہتر رسائی یقینی بنانے، اور ریاستی اسکل ڈیولپمنٹ مشنز کے ذریعے ہنر مندی کے اقدامات کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کے تحت ہنر مندی کی تربیت کے معیار، شفافیت اور صنعت سے مطابقت کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کو اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جو ہنر مندی، جانچ، سرٹیفکیشن اور روزگار سے متعلق خدمات کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ اس اسکیم میں صنعت کی قیادت اور طلب پر مبنی ہنر مندی پر زور دیا گیا ہے، جہاں تربیت کو سیکٹر اسکل کونسل (ایس ایس سی) اور صنعت سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے نشاندہی کی گئی شعبہ جاتی مہارتی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اعلیٰ درجے کی ہنر مندی اور ازسر نو ہنر مندی کو فروغ دیا جاتا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور گرین ٹیکنالوجیز جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی مہارتوں کی تربیت بھی شامل ہے۔ روزگار کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے معیاری جانچ اور سرٹیفکیشن کے عمل، مضبوط معیار کی یقین دہانی کے نظام، اور صنعت کی زیادہ شمولیت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ملک بھر میں، بشمول چھتیس گڑھ، اتر پردیش (بشمول بلند شہر)، مہاراشٹر (بشمول ضلع پال گھر) اور کرناٹک میں نافذ کیے جا رہے ہیں۔
پی ایم کے وی وائی 1.0 سے پی ایم کے وی وائی 3.0 تک، جو مالی سال 2015-16 سے 2021-23 کے دوران نافذ کی گئیں، مجموعی طور پر 1.11 کروڑ امیدواروں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جن میں سے 24.38 لاکھ امیدواروں کو اسکیم کے شارٹ ٹرم ٹریننگ (ایس ٹی ٹی) جزو کے تحت ملازمت ملنے کی اطلاع دی گئی۔ اس کے علاوہ، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تربیت یافتہ امیدواروں کو اپنے مختلف کیریئر کے راستوں کا انتخاب کرنے کے لیے بااختیار بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے انہیں مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔ اسی لیے پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت ملازمت میں تقرری کی نگرانی نہیں کی جاتی۔
پی ایم کے وی وائی کے تحت تربیت یافتہ اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کی ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی) وار اور سال وار تفصیلات، نیز چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور اتر پردیش کی ضلع وار معلومات، وزارت ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
پی ایم کے وی وائی کے تحت تربیت کی لاگت کے لیے مقررہ اصولوں کے مطابق فنڈز عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو جاری کیے جاتے ہیں۔ جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم کے تحت فنڈ براہِ راست غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) کے تحت اپرنٹس کو براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ماہانہ 1,500 روپے تک وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے، نہ کہ ان اداروں کو جہاں وہ تربیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ صنعتی تربیتی اداروں کے روزمرہ انتظامی امور اور مالیاتی کنٹرول کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی) کی انتظامیہ کے پاس ہوتی ہے۔ 30 جون 2026 تک وزارتِ ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) کی مختلف اسکیموں کے آغاز سے اب تک جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
اسکیم کا نام
|
ریلیز کیے گئے فنڈ
|
|
پی ایم کے وی وائی (2015-16 کے بعد سے)
|
10,591.32
|
|
جے ایس ایس (2018-19 کے بعد سے)
|
1,057.58
|
|
این اے پی ایس (2016-17 کے بعد سے)
|
2924.52
|
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کا ایک آزاد اور تیسرے فریق کے ذریعے اثراتی جائزہ ارون جیٹلی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مینجمنٹ, جو حکومت ہند کی وزارت خزانہ کا ایک خود مختار ادارہ ہے، نے انجام دیا۔ رپورٹ کے مطابق، پی ایم کے وی وائی کے تحت فراہم کی جانے والی تربیت نے شارٹ ٹرم ٹریننگ (ایس ٹی ٹی) کے امیدواروں کے روزگار کے نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری پیدا کی ہے۔ تربیت سے قبل ملازم اور خود روزگار سے وابستہ ایس ٹی ٹی امیدواروں کا مشترکہ تناسب 26.6 فیصد تھا، جو پی ایم کے وی وائی کی تربیت کے بعد بڑھ کر 45.4 فیصد ہو گیا، یعنی 18.8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ آمدنی سے متعلق نتائج بھی مثبت رہے، جہاں 41.4 فیصد ایس ٹی تی امیدواروں اور 48.9 فیصد ریکگنیشن آف پرائر لرننگ (آر پی ایل) امیدواروں نے تربیت اور سرٹیفکیشن کے بعد اپنی آمدنی میں اضافے کی اطلاع دی۔ مجموعی طور پر، پی ایم کے وی وائی 4.0 نے رسمی ہنر مندی کی تربیت اور سرٹیفکیشن تک رسائی کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے اور مستفیدین کی ایک بڑی تعداد میں مہارت پر اعتماد، روزگار میں شمولیت اور آمدنی کے نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری پیدا کی ہے۔
کرناٹک میں موجود 37 پردھان منتری کوشل کیندروں (پی ایم کے کے) میں سے ایک پی ایم کے کے ضلع دکشن کنڑ میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایم کے کے کے رہنما اصولوں کے مطابق، ان مراکز کو پی ایم کے وی وائی کے تحت تین سال کی مدت کے لیے اہداف کی بنیاد پر معاونت فراہم کی گئی، جس کے بعد ان سے توقع کی گئی کہ وہ خود کفیل بن جائیں گے۔ اس مدت کے دوران پی ایم کے کے کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت مالی معاونت سے چلنے والے تربیتی پروگراموں اور دیگر وزارتوں و اداروں کی جانب سے اسپانسر کردہ ہنر مندی کے پروگراموں کو بھی نافذ کرنے کی اجازت دی گئی۔
اسکل انڈیا مشن کے تحت صنعت کی شمولیت، اپرنٹس شپ کے مواقع، ملازمت میں تقرری اور روزگار کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10,209 اہلیتوں کی منظوری دی ہے، جن میں 2,975 اس وقت مؤثر اور فعال ہیں۔
- مختلف شعبوں کے صنعتی رہنماؤں کی قیادت میں 36 سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سی) قائم کی گئی ہیں، جنہیں متعلقہ شعبوں کی ہنر مندی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور مہارت کے معیار طے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) اپنے مارکیٹ پر مبنی پروگرام کے تحت ایسے تربیتی اداروں کی معاونت کرتی ہے جو صنعت کی طلب کے مطابق ہنر مندی کے کورسز تیار کرتے اور انہیں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔
- iii. پی ایم کے وی وائی کے تحت نئی نسل اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق ملازمتوں کو انڈسٹری 4.0 کی ضروریات کے مطابق خصوصی طور پر ہم آہنگ کیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ (ایم ایل)، روبوٹکس، میکاٹرونکس اور ڈرون ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں، تاکہ مستقبل کی مارکیٹ کی طلب اور صنعت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
- iv. نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) تعلیم سے روزگار تک آسان منتقلی کو فروغ دیتی ہے، تاکہ اپرنٹس عملی تجربے کے ذریعے صنعت سے متعلق مخصوص مہارتیں حاصل کر سکیں۔ این اے پی ایس کے تحت مستفیدین کو براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ماہانہ 1,500 روپے تک وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) فلیکسی مفاہمتی یادداشتاسکیم اور ڈوئل سسٹم آف ٹریننگ نافذ کر رہا ہے، جن کا مقصد آئی ٹی آئی کے طلبہ کو صنعت کی ضروریات کے مطابق صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کرنا ہے۔
- vi. حکومتِ ہند نے ہنر مندی کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں عالمی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے 14 ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشت اور یادداشتِ تعاون (ایم او سی) پر دستخط کیے ہیں۔
- وزارتِ ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت صنعتی تربیتی اداروں اور نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (این ایس ٹی آئی) میں نئی نسل اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق 32 نئے کورسز متعارف کرائے ہیں، تاکہ 5G نیٹ ورک ٹیکنیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سکیورٹی اسسٹنٹ، ڈرون ٹیکنیشن وغیرہ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
- ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، سسکو، فیوچر اسکل رائٹس نیٹ ورک، اے ڈبلیو ایس اور مائکرو سافٹ جیسی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) اقدامات کے تحت ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان شراکت داریوں کے ذریعے جدید ٹیکنالوجیوں میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
- ix. اس کے علاوہ، حکومت نے پی ایم-سیتو کے نام سے 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے مطابق جدید بنایا جائے گا، جس میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور 800 اسپوک آئی ٹی آئی شامل ہوں گے۔ پی ایم-سیتو صنعت کی قیادت میں نظام حکمرانی کے ذریعے روزگار کے بہتر نتائج حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور بالواسطہ طور پر خود روزگاری اور صنعت کاری کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے تحت سیکھنے والوں (بشمول ابتدائی مرحلے کے کاروباری اداروں اور پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرنے والے افراد) کو صنعت سے متعلق مہارتیں حاصل کرنے، حقیقی کام کے ماحول کا تجربہ حاصل کرنے، اور مضبوط ادارہ جاتی نظام اور صنعت سے روابط کے ذریعے کیریئر رہنمائی، ملازمت میں تقرری اور خود روزگاری سے متعلق معاونت تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس)، جو احمد آباد اور ممبئی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت قائم کیے گئے ہیں، کا مقصد انڈسٹری 4.0 کے لیے ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور عملی تربیت سے آراستہ ہو۔
- xi. وزارت ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کے تحت نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اے ڈبلیو ایس، مائکرو سافٹ، انٹیل، ریڈ ہیٹ، Pearson VUE، بی سی جی اور سسکو نیٹ ورکنگ اکیڈمی سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ڈیجیٹل کورسز کی فراہمی کے لیے شراکت داری قائم کی ہے۔
- وزارت ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کا آغاز کیا ہے، جو ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور صنعت کاری کے نظاموں کو یکجا کرنے والا ایک متحد پلیٹ فارم ہے اور مختلف فریقین کو زندگی بھر دستیاب رہنے والی متعدد خدمات فراہم کرتا ہے۔ تربیت یافتہ امیدواروں کی تفصیلات ایس آئی ڈی ایچ پورٹل پر دستیاب ہیں تاکہ انہیں ممکنہ آجرین سے جوڑا جا سکے۔ اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے امیدوار ملازمتوں اور اپرنٹس شپ کے مواقع تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں یہ معلومات۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
20-07-2026
U: 183
(रिलीज़ आईडी: 2286742)
आगंतुक पटल : 13