قانون اور انصاف کی وزارت
قانونی امور کے محکمے کے زیراہتمام برکس ہیڈ آف پراسیکیوشن سروسز کا آٹھواں اجلاس منعقد
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 2:28PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی وزارت قانون و انصاف کا قانونی امور کا محکمہ، بھارت کی باوقار برکس 2026 کی صدارت کے تحت 20 اور 21 جولائی 2026 کو برکس ہیڈ آف پراسیکیوشن سروسز کے آٹھویں ورچوئل اجلاس کا انعقاد کر رہا ہے۔ اس اہم سرکاری اجلاس کی صدارت اٹارنی جنرل برائے ہند، جناب آر. وینکٹارامنی کریں گے، جس میں رکن ممالک کے سربراہانِ استغاثہ شرکت کریں گے۔یہ تاریخی اجلاس بھارت کے جامع برکس وژن استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیرکو مؤثر انداز میں آگے بڑھاتا ہے۔ رکن ممالک کی استغاثہ قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے یہ اجلاس اس مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے کہ ایسے مستحکم، منصفانہ اور قابل اعتماد قانونی ڈھانچوں کو فروغ دیا جائے جو پورے برکس بلاک میں معاشی ترقی کی حمایت کریں۔
یہ ورچوئل اجلاس ایک نہایت بروقت اور اہم موضوع، ’’استغاثہ کے نقطۂ نظر سے فوجداری نظامِ انصاف میں تجربات اور بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ‘‘ پر مرکوز ہوگا۔ دو روزہ اجلاس کے دوران سینئر رہنما جدید ادارہ جاتی چیلنجوں ر تبادلۂ خیال کریں گے اور فوجداری نظامِ انصاف سے متعلق مؤثر طریقۂ کار اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے۔مذاکرات میں سابقہ اجلاسوں میں شروع کیے گئے ڈیجیٹل تعاون کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور انصاف سے متعلق تصورات کو عملی اور روزمرہ کے عدالتی طریقۂ کار کا حصہ بنانے پر غور کیا جائے گا۔ ٹیکنالوجی سے مدد یافتہ نظام انصاف کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں فوجداری کارروائیوں کی ڈیجیٹلائزیشن، الیکٹرانک شواہد کے مؤثر انتظام اور مقررہ مدت کے اندر مقدمات کے فیصلوں کے نفاذ جیسے اہم موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اس سال کے اجلاس کا مرکزی محور فوجداری نظام انصاف کو زیادہ حساس، شفاف اور متاثرہ فریق پر مرکوز بنانا ہے۔ رکن ممالک استغاثہ کے نظام کی مؤثریت میں بہتری اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے منفرد تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کریں گے۔اجلاس میں اس بات کو تسلیم کیا جائے گا کہ سرحد پار مالی جرائم، سائبر خطرات اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں جیسے جدید اور پیچیدہ چیلنجوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ قریبی باہمی مذاکرات کے ذریعے اجلاس کا مقصد باہمی قانونی معاونت، سرحد پار شواہد کے تبادلے کے مؤثر نظام کو فروغ دینا اور استغاثہ کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کو بھی فروغ دینا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جغرافیائی فاصلے کم کرتے ہوئے یہ اجلاس برکس ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ قانونی امور کا محکمہ، وزارتِ قانون و انصاف، حکومت ہند، باہمی تعاون کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کے لیے عملی اور اشتراکی نظام وضع کرنے اور صلاحیت سازی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے قیام کے عزم پر قائم ہے۔بالآخر یہ سرکاری اجلاس ایک جدید، ڈیجیٹل طور پر بااختیار نظام کی تشکیل میں بھارت کے فعال قائدانہ کردار کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کے لیے زیادہ منصفانہ، مؤثر اور باہمی تعاون پر مبنی مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
***
)ش ح۔ش آ۔ع د)
UN No: 167
(रिलीज़ आईडी: 2286559)
आगंतुक पटल : 21