کارپوریٹ امور کی وزارتت
ذمہ دار کاروباری طرز عمل پر قومی کانفرنس (این سی آر بی سی) 2026 کا چوتھا ایڈیشن نئی دہلی میں اختتام پذیر
اختتامی اجلاس سے اپنے کلیدی خطاب میں معزز جسٹس جناب ابھے ایس اوکا نے وکست بھارت کے ہدف کی جانب بھارت کے سفر میں ماحولیاتی قوانین کے سخت نفاذ پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
18 JUL 2026 7:39PM by PIB Delhi
کارپوریٹ امور کی وزارت، حکومت ہند کے تحت ایک خود مختار ادارے، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ (ایس بی ای) کے زیر اہتمام ذمہ دار کاروباری طرز عمل پر قومی کانفرنس (این سی آر بی سی) 2026 کا چوتھا ایڈیشن حال ہی میں نئی دہلی میں اختتام پذیر ہوا۔
اختتامی اجلاس میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج معزز جسٹس جناب ابھے ایس اوکا نے کلیدی خطاب کیا، جبکہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما دادھیچ نے اظہار تشکر پیش کیا۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج معزز جسٹس جناب ابھے ایس اوکا نے اپنے خطاب کا آغاز اس بات پر زور دیتے ہوئے کیا کہ آلودگی سے پاک ماحول میں زندگی گزارنے کا حق، آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت ضمانت یافتہ حق زندگی کا ایک لازمی اور بنیادی جزو ہے۔ معزز جسٹس اوکا نے کہا کہ وکست بھارت کے مفہوم کو بھی آئین ہند کے وژن، بالخصوص بنیادی حقوق، ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں اور بنیادی فرائض کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی اسی وقت حقیقی معنوں میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے جب وہ انسانی وقار کا تحفظ کرے، سماجی انصاف کو فروغ دے اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے ماحول کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ معزز جسٹس اوکا نے اس قانونی نظریے کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات (تحفظ) ایکٹ، 1986 کا نفاذ بھوبال گیس سانحہ کے بعد عمل میں آیا، جو ملک کی تاریخ کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے بھارت میں ماحولیاتی قانون کے ارتقا میں ایک اہم موڑ پیدا کیا اور ریاست کو ماحولیات کے تحفظ کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ وضع کرنے پر آمادہ کیا۔
معزز جسٹس اوکا نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف معاشی اشاریے نہیں ہو سکتے، بلکہ ماحولیاتی بہبود کو بھی قومی ترقی کا اتنا ہی اہم معیار سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کارپوریٹ اداروں، ضابطہ ساز اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ، سماجی مساوات اور انصاف کے حوالے سے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری کو محض اختیاری یا ثانوی معاملہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی ذمہ داری کا بنیادی حصہ بنائیں۔ انہوں نے ذمہ دار کاروباری طرز عمل کی اہمیت پر غور و خوض کے لیے، جو سماجی مساوات اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق آئینی اقدار سے ہم آہنگ ہے، اس کانفرنس کے انعقاد پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کو مبارک باد بھی پیش کی۔
اختتامی خطاب کرتے ہوئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے این سی آر بی سی 2026 کے دوران دو روزہ مباحثے کا جائزہ لیتے ہوئے کانفرنس کو وکست بھارت کے لیے ای ایس جی پر مبنی تبدیلی کے سفر میں بھارت کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی، سماجی اور گورننس سے متعلق اصول محض ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل تک محدود نہیں رہے، بلکہ اب وہ کاروباری مضبوطی، مؤثر خطرات کے انتظام، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اختراع کی بنیاد بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کاروبار کا حقیقی محرک صرف قوانین نہیں بلکہ ذمہ دار افراد اور جرات مند قیادت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس نے ضابطہ ساز اداروں، پالیسی سازوں، صنعتی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ بھارت میں ذمہ دار کاروباری طرز عمل کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دو روز کے دوران بورڈ سطح کے انکشافات، موسمیاتی مالیات، شعبہ جاتی رہنما خطوط، ذمہ دار ویلیو چین، ایم ایس ایم ای کی مسابقتی صلاحیت اور ماحولیاتی رپورٹنگ کے اشاریوں سمیت متعدد موضوعات پر ہونے والی جامع گفتگو نے اس حقیقت کی توثیق کی ہے کہ بھارت کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے میں ضابطہ ساز اداروں، صنعت اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی ربط اور اشتراک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز اپنے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ کے ذریعے بھارت کے کارپوریٹ نظام میں ذمہ دار کاروباری طرز عمل کے فروغ کے لیے ایک قومی علمی اور صلاحیت سازی کے مرکز کے طور پر اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے اعلیٰ سطحی پینل سے حاصل ہونے والی آرا اور سفارشات آئندہ برسوں میں ادارے کی پالیسی تحقیق اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کریں گی۔ انہوں نے بھارت کے کاروباری اداروں، ضابطہ ساز اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ ای ایس جی انکشافات کی ساکھ، تقابلیت اور قابل اعتمادیت کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی اشتراک کے ساتھ کام جاری رکھیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کا ذمہ دار کاروباری طرز عمل کا فریم ورک، جو ملک کی اپنی فلسفیانہ اور قانون سازی کی روایات پر مبنی ہے، عالمی بہترین طریقوں کے مطابق مسلسل ارتقا پذیر رہنا چاہیے، تاہم اس کی بنیاد بھارت کی مخصوص ترقیاتی ترجیحات ہی رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای ایس جی نظام میں بھارت کے بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای) کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس امر کے لیے نہایت اہم ہوگی کہ ذمہ دار کاروباری طرز عمل کے فوائد سب تک پہنچیں اور ان سے وسیع پیمانے پر استفادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے آخر میں دو روزہ کانفرنس میں تمام مندوبین، مقررین اور شراکت دار اداروں کی فعال شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل دن کے دوران کانفرنس میں پانچ اعلیٰ سطحی پینل منعقد ہوئے جن میں شعبہ جاتی رپورٹنگ، ذمہ دار ویلیو چین، ایم ایس ایم ای کے انضمام اور ماحولیاتی اشاریوں جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پہلے اعلیٰ سطحی پینل، "ای ایس جی انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے شعبہ جاتی رہنما خطوط" کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں سری متی سوربھی گپتا، چیف جنرل منیجر، سیبی نے کہا کہ بزنس ریسپانسبلٹی اینڈ سسٹین ایبلٹی رپورٹ کا فریم ورک ابتدا میں ایک سادہ اور تمام شعبوں کے لیے یکساں بنیادی نظام کے طور پر تیار کیا گیا تھا، تاہم جیسے جیسے مختلف شعبوں میں اہمیت کے حامل موضوعات اور اعداد و شمار کی مخصوص ضروریات سامنے آ رہی ہیں، اسے بھی مسلسل ترقی دینا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیبی زیادہ تفصیلی اعداد و شمار اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے ای ایس جی ریٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ گلوبل رپورٹنگ انیشی ایٹو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ رابن ہوڈیس نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے شعبہ جاتی اشاریوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تاکہ مختلف ممالک میں کام کرنے والی کمپنیوں پر ضابطہ جاتی تعمیل کا بوجھ کم ہو سکے۔
دوسرا پینل، "عالمی اور ملکی سپلائی نیٹ ورکس میں ذمہ دار ویلیو چین" کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر میں لازمی ڈیو ڈیلیجنس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور انسانی حقوق و محنت کے معیارات کے حوالے سے کارپوریٹ وعدوں اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کا جائزہ لیا گیا۔ پینل نے ایم ایس ایم ای سپلائرز کی صلاحیت سازی، شراکت داری پر مبنی تعمیل، اور سپلائی چین میں شفافیت اور سراغ رسانی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا۔
دن کے تیسرے اعلیٰ سطحی پینل، "مسابقتی اور جامع ترقی کے لیے ایم ایس ایم ای میں ای ایس جی کو مرکزی دھارے میں لانا" کا آغاز پی ایف آر ڈی اے کے چیئرمین جناب شیوا سبرامنین رامن کے کلیدی خطاب سے ہوا۔ کوآپریٹو الیکشن اتھارٹی کے چیئرمین جناب دیویندر کمار سنگھ نے ادیم (Udyam) سے منسلک اعداد و شمار کی مدد سے ہدفی پالیسی اقدامات کی صلاحیت کو اجاگر کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پالیسی سازی میں خرد کاروباری اداروں کی غالب تعداد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ وزارت ایم ایس ایم ای کے نمائندے نے اس بات پر زور دیا کہ ضابطہ جاتی تعمیل کو واضح کاروباری فوائد کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے، جس کے لیے توانائی، پانی اور فضلہ کے انتظام سے متعلق ترغیبات بھی فراہم کی جائیں۔

اس کے بعد چوتھا اعلیٰ سطحی پینل "بی آر ایس آر سے آگے: شعبہ جاتی سطح پر ای ایس جی کو اپنانے اور اس کے انضمام کو مضبوط بنانا" کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں سیبی کے سابق چیئرمین جناب اجے تیاگی نے مشترکہ رپورٹنگ کے بنیادی ڈھانچے سے بتدریج ایسے شعبہ جاتی فریم ورکس کی جانب پیش رفت پر زور دیا، جو مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے تیار کیے جائیں۔ پینل نے عالمی معیارات کے درمیان بہتر باہمی مطابقت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ماضی پر مبنی ضابطہ جاتی تعمیل کی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر، قابل اعتماد تصدیق کے ساتھ مستقبل پر مبنی پائیداری کی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ آخری اعلیٰ سطحی پینل "ای ایس جی رپورٹنگ فریم ورکس میں ماحولیاتی اشاریوں کا ازسر نو تصور" کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں انٹرنیشنل سولر الائنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اجے ماتھر، کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ کے رکن (تکنیکی) ڈاکٹر وریندر شرما اور وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے سابق خصوصی سکریٹری جناب آر آر رشمی نے شرکت کی۔ اس پینل میں بھارت کے پائیداری رپورٹنگ کے نظام میں ماحولیاتی اشاریوں کی مضبوطی، قابل اعتمادیت اور تقابلیت کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اعلیٰ سطحی پینل کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کے اسکول آف بزنس انوائرمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما دادھیچ نے اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، ممتاز مقررین، مندوبین، کانفرنس کے شراکت دار اداروں اور اسکول آف بزنس انوائرمنٹ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا، جن کی گراں قدر خدمات نے این سی آر بی سی 2026 کو بھارت میں ذمہ دار کاروباری طرز عمل کے فروغ کے لیے ایک نمایاں پلیٹ فارم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانفرنس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف دو روزہ مباحثے نہیں ہوں گے، بلکہ وہ اجتماعی اقدامات اور شراکت داریاں ہوں گی جو ای ایس جی پر مبنی تبدیلی کی رفتار کو تیز کریں اور 2047 تک ایک پائیدار، عالمی سطح پر مسابقتی اور وکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں۔
اختتامی اجلاس کا اختتام مختلف صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کے عالمی شہرت یافتہ رقص گروپ "وی آر ون (We Are One)" کی ثقافتی پیشکش سے ہوا، جس کے بعد کانفرنس کے ہیکاتھون کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔
افتتاحی اجلاس اور آٹھ اعلیٰ سطحی پینل پر مشتمل دو روزہ جامع مباحث کے ذریعے این سی آر بی سی 2026 نے پالیسی سازوں، ضابطہ ساز اداروں، صنعتی رہنماؤں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا اور اس امر کی توثیق کی کہ ذمہ دار کاروباری طرز عمل بھارت کے 2047 تک ایک ترقی یافتہ، جامع اور اخلاقی اقدار پر مبنی ملک بننے کے سفر کا ایک لازمی جزو ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 127
(रिलीज़ आईडी: 2286226)
आगंतुक पटल : 12