دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمۂ زمینی وسائل نے آر بی آئی انوویشن ہب کے ساتھ اراضی اور قرض کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے یکجا استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا


اراضی اور قرض کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے باہمی انضمام کے امکانات پر غور و خوض

प्रविष्टि तिथि: 18 JUL 2026 1:17PM by PIB Delhi

وزارتِ دیہی ترقی کے محکمۂ زمینی وسائل (ڈی او ایل آر) نے حال ہی میں آر بی آئی انوویشن ہب (آر بی آئی ایچ) کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس میں اراضی کی انتظامیہ اور ڈیجیٹل قرض فراہمی کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے باہمی انضمام کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کی صدارت محکمۂ زمینی وسائل کے سکریٹری جناب نریندر بھوشن نے کی۔ اجلاس میں انہوں نے آر بی آئی انوویشن ہب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ساحل کنی، چیف پروڈکٹ آفیسر جناب ابھیشیک پودار، نائب صدر جناب ارون سیتھم راجو اور اسسٹنٹ جنرل منیجر (حل سازی و شراکت داری) محترمہ ادیتی دوبے سے تبادلۂ خیال کیا۔

اجلاس میں محکمۂ زمینی وسائل کے جوائنٹ سکریٹری جناب پریکی پانڈلا نراہری، ڈائریکٹر جناب شیام کمار اور ڈائریکٹر جناب امیت کمار سنگھ بھی شریک ہوئے۔

بات چیت کا محور محکمہ کی ڈیجیٹل اراضی انتظامیہ سے متعلق پہل کاریوں اور یونیفائیڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، تاکہ بالخصوص کسانوں اور دیہی شہریوں کے لیے ہموار، محفوظ اور رضامندی پر مبنی قرض کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔

شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ مستند اور باہمی طور پر مربوط ڈیجیٹل اراضی ریکارڈ ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں، جبکہ قرض فراہم کرنے کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔

زیرِ غور تعاون کے اہم شعبوں میں درج ذیل شامل تھے:

مستند ڈیجیٹل اراضی ریکارڈ تک محفوظ اور معیاری رسائی کو ممکن بنانا۔

کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اور دیگر زرعی قرضوں کی ڈیجیٹل فراہمی کو تیز تر بنانا۔

لین دین کی لاگت میں کمی لانا اور قرض کی منظوری کے عمل کا دورانیہ کم کرنا۔

رہن سے متعلق معلومات اور نشاندہی کے نظام کو مضبوط بنا کر ایک ہی اراضی کے ٹکڑے کے مقابل متعدد قرضوں کی فراہمی کو روکنا اور خطرات کے انتظام کو مؤثر بنانا۔

اراضی کو رسمی قرض تک رسائی کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل اثاثہ بنا کر مالی شمولیت کو فروغ دینا۔

اجلاس میں مشترکہ ڈیٹا معیارات اختیار کرنے، اے پی آئی کی باہمی مطابقت کو یقینی بنانے، یو ایل پی آئی این (بھو آدھار) کے استعمال کو وسعت دینے اور اراضی کی انتظامیہ سے متعلق اداروں اور مالیاتی شعبے کے فریقین کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

محکمۂ زمینی وسائل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آر بی آئی انوویشن ہب اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، تاکہ ایک محفوظ، باہم مربوط اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے، جو اراضی کی انتظامیہ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دیہی بھارت میں رسمی قرض تک رسائی کو بھی وسعت دے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/10011483552QRB.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1001148359SP63.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1001148354DMB8.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/10011483568WGD.jpg

*****

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-110­

 


(रिलीज़ आईडी: 2286060) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil