سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

باندھ تحفظ سے متعلق قومی کمیٹی  (این سی ڈی ایس)کی 12ویں میٹنگ نئی دہلی میں منعقد ہوئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 JUL 2026 7:33PM by PIB Delhi

باندھ تحفظ سے متعلق قومی کمیٹی (این سی ڈی ایس) کی 12ویں میٹنگ  سینٹرل واٹر کمیشن کے چیئرمین کی صدارت میں 17 جولائی 2026 نئی دہلی  کے جن پتھ میں ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں دس مرکزی وزارتوں/ محکموں، سات ریاستوں، باندھ تحفظ سے متعلق دو ماہرین  کے علاوہ ریاست کی باندھ تحفظ سے متعلق تنظیموں کے سربراہان اور خصوصی مدعوئین نے بھی شرکت کی۔

افتتاحی کلمات میں، چیئرمین، این سی ڈی ایس نے قواعد و ضوابط کے نوٹیفکیشن، تکنیکی رہنما خطوط کے اجراء، اور باندھ کی حفاظت سے متعلق اہم دستاویزات کی تیاری کے ذریعے 'ڈیم سیفٹی ایکٹ، 2021' کے نفاذ میں ہونے والی نمایاں پیش رفت پر روشنی ڈالی، جبکہ ہنگامی ایکشن پلان، ڈیموں کی جامع حفاظتی تشخیص، آپریشن اور رکھ رکھاؤ کے ہدایاتی کتابچے، اور خطرات کی تشخیص کے مطالعے جیسی اہم سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین نے آبی ذخائر میں مٹی جمع ہونے اور ڈیم کی نگرانی و حفاظت سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے، ریاستی ڈیم حفاظتی تنظیموں کو مضبوط بنانے، اور ایجنڈے کے نکات پر تعمیری بات چیت کے ذریعے ایکٹ کے بروقت نفاذ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور کمیٹی نے بالآخر پانی کے اس بنیادی ڈھانچے کو لاحق نئے خطرات کے پیشِ نظر، مخصوص ڈیموں کی نگرانی اور سیکورٹی سے متعلق نئے ضابطے  پر کام کرنے؛ مخصوص ڈیموں کے لیے حفاظتی معائنے کی چیک لسٹ سے متعلق ضابطے میں ترمیم کرنے؛ ڈیموں کی تعمیر یا تبدیلی سے متعلق ایکٹ کے سیکشن کے تحت 'تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ' کی تیاری کے رہنما خطوط میں شامل کیے جانے والے ڈیم سیفٹی کے باب کو حتمی شکل دینے؛ تحقیقات، ڈیزائن، تعمیر اور کوالٹی کنٹرول سے وابستہ ایجنسیوں کی منظوری؛ ڈیم کے ناکام ہونے کی رپورٹ کی تیاری کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے اور ماہر پینلز کی تشکیل؛ ڈیموں کی خطرات کے لحاظ سے درجہ بندی ڈیموں کی خطرے کی تشخیص، مخصوص باندھوں اور ان کے کیچمنٹ کے آلات، ہنگامی ایکشن پلان، اور آبی ذخائر کی ضابطہ کاریوں کو حتمی شکل دینے سمیت آپریشن اور رکھاؤ کے ہدایات کتابچوں پر تکنیکی رہنما خطوط تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ حکومت ہند کی جل شکتی کی وزارت کی اس پہل قدمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے، باندھ مالکان کی جانب سے آئی آئی ٹی روڑکی اور آئی آئی ایس سی بنگلورو کے ڈیم سیفٹی سے متعلق جاری پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگراموں کے لیے ورکنگ انجینئرز کی باقاعدہ نامزدگی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ باندھ مالکان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ایک حصے کے طور پر این آئی ٹی شیلانگ کے ساتھ ساتھ علاقائی اداروں جیسے این آئی ٹی سورت، این آئی ٹی کالی کٹ، این آئی ٹی ناگپور اور آئی آئی ٹی گوہاٹی کی شمولیت کے امکانات تلاش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے ڈیم مالکان سے یہ بھی کہا کہ وہ تکنیکی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ آزادانہ تعاون کے امکانات تلاش کریں، خاص طور پر اپنی ضرورت کے مطابق تربیت اور ڈیم سیفٹی سپورٹ سروسز کے لیے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی غور کیا کہ آیا ریزروائر میں مٹی جمع ہونے کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوئی نیا ضابطہ لانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

کمیٹی کے سامنے متعلقہ ڈیم مالکان کی جانب سے حال ہی میں ناکام ہونے والے باندھوں پر تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشنز بھی پیش کی گئیں، جن میں چھتیس گڑھ محکمۂ آبی وسائل کی جانب سے لوتی ٹینک اور راجا ڈیرا ڈیم کا ٹوٹنا، سکم اورجا لمیٹڈ کی طرف سے تیستا اسٹیج-III ڈیم کا ناکام ہونا، پنجاب محکمۂ آبی وسائل کی طرف سے مادھو پور بیراج  کا ٹوٹنا، اور راجستھان واٹر گریڈ کارپوریشن کی طرف سے بیسل پور ڈیم پر مٹی نکالنے کی جاری سرگرمیاں شامل ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر، چیئرمین نے تمام ریاستوں سے درخواست کی کہ وہ لازمی تعمیل کے عمل کو تیز کریں، خاص طور پر مقررہ قانونی ڈیڈ لائن (یعنی دسمبر 2026 تک) کے اندر ہر مخصوص باندھ کی جامع حفاظتی تشخیص، ہنگامی ایکشن پلان کی تیاری، اور خطرات کی تشخیص کے مطالعے کو مکمل کریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001GBVG.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002YGBJ.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003JRZZ.jpg


**********

 (ش ح –م ف)

U.No:105


(ریلیز آئی ڈی: 2285955) وزیٹر کاؤنٹر : 37
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil