سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
کرگل کی پائیدار ترقی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق ضروریات کی نشاندہی
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 7:07PM by PIB Delhi
کرگل خطے کی پائیدار اور جامع ترقی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی) پر مبنی اقدامات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سی ایس آئی آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (این آئی ایس سی پی آر)، اُنّت بھارت ابھیان (قومی رابطہ ادارہ: آئی آئی ٹی دہلی)، علاقائی رابطہ ادارہ: آئی آئی ٹی جموں اور شریک ادارہ: گورنمنٹ ڈگری کالج، کرگل نے مشترکہ طور پر 15 جولائی 2026 کو گورنمنٹ ڈگری کالج، کرگل (لداخ) میں ’’کرگل کی پائیدار ترقی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق ضروریات کی نشاندہی‘‘ کے موضوع پر یک روزہ اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس سی ایس آئی آر۔این آئی ایس سی پی آر کے ’’دیہی ترقی کے لیے سی ایس آئی آر کی ٹیکنالوجیوں سے استفادہ: اقدامات کی توسیع اور مواقع کی نشاندہی‘‘ کے عنوان سے جاری پہل کے تحت منعقد کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی مقامی ٹیکنالوجیوں کو ملک بھر میں دیہی ترقی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے عام کرنا اور ان کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے علمی شراکت دار سی ایس آئی آر۔سینٹرل فوڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایف ٹی آر آئی)، میسورو اور سی ایس آئی آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرڈسپلنری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی آئی ایس ٹی)، ترواننت پورم تھے۔
کرگل میں زراعت، باغبانی، ادویاتی اور خوشبودار پودوں کی کاشت، غذائی اشیا کی پروسیسنگ، قابلِ تجدید توانائی، ماحول دوست سیاحت اور دیہی صنعت و کاروبار کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ تاہم جغرافیائی دوری، سخت موسمی حالات اور موزوں ٹیکنالوجی تک محدود رسائی اب بھی اس خطے کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اجلاس کا مقصد خطے کی مخصوص ضروریات کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضروریات کی نشاندہی کرنا اور ایسی موزوں تکنیکی مداخلتوں پر غور کرنا تھا، جو لوگوں کے ذرائع معاش کو مضبوط بنائیں، وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پائیدار ترقی کو ممکن بنائیں۔
اجلاس میں 100 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جن میں سائنس دان، ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، سرکاری افسران، تحقیقی اداروں کے نمائندے، صنعت کار، کسان، خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی) کے ارکان، طلبہ اور مقامی برادری کے نمائندے شامل تھے۔ تمام شرکاء نے مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو میں فعال کردار ادا کیا۔ یہ اجلاس سائنسی اداروں، سرکاری محکموں اور مقامی متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی تبادلۂ خیال کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم ثابت ہوا، جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلت کے متقاضی ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔
اجلاس کا آغاز افتتاحی نشست سے ہوا، جس کی صدارت سی ایس آئی آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (این آئی ایس سی پی آر)، اُنّت بھارت ابھیان–آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ٹی جموں اور گورنمنٹ ڈگری کالج، کرگل کے معزز نمائندوں نے کی۔ افتتاحی نشست کا آغاز گورنمنٹ ڈگری کالج، کرگل کی پرنسپل محترمہ ڈسکٹ انگمو کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ اس کے بعد سی ایس آئی آر۔این آئی ایس سی پی آر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گیتا وانی رائے سم نے خطاب کرتے ہوئے پائیدار ذرائع معاش کے فروغ اور خطے کی جامع ترقی کے لیے سائنس پر مبنی اقدامات اور متعلقہ فریقوں کے باہمی اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر دیگر مقررین پروفیسر رنجنا اگروال، ڈاکٹر یوگیش سمن، پروفیسر پی۔ کے۔ سنگھ اور پروفیسر میناکشی راجیو نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کرگل خطے کی پائیدار ترقی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ افتتاحی نشست کا اختتام سی ایس آئی آر۔این آئی ایس سی پی آر کے سائنس داں ڈاکٹر شیو نارائن نشاد کی جانب سے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔
پہلی تکنیکی نشست کی صدارت کرشی وگیان کیندر، کرگل کی سینئر سائنس داں اور سربراہ ڈاکٹر نسرین ایف۔ کاچو نے کی، جبکہ نشست کی نظامت گورنمنٹ ڈگری کالج، دراس کے پرنسپل محمد ناصر الاسلام مہدی شبانی نے انجام دی۔ اس نشست میں ملک کے ممتاز سائنسی اداروں کے ماہرین نے ہمالیائی خطے سے متعلق اپنے تجربات اور جدید تکنیکی اختراعات پیش کیں۔ سی ایس آئی آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرڈسپلنری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی آئی ایس ٹی) کے سائنس داں ڈاکٹر آر۔ ایس۔ پروین راج نے پہاڑی ماحولیاتی نظام کے لیے موزوں جدید زرعی ٹیکنالوجیوں، بالخصوص زرعی اجناس کو نمی سے پاک کرکے خشک کرنے کی جدید ٹیکنالوجی، پر روشنی ڈالی۔ سی ایس آئی آر۔سینٹرل فوڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایف ٹی آر آئی) کے سائنس داں ڈاکٹر آشیتوش انامدار نے کرگل خطے میں دیہی صنعت و کاروبار کو فروغ دینے کے لیے غذائی اشیا کی قدر افزائی اور فوڈ پراسیسنگ سے متعلق جدید ٹیکنالوجیوں پر اظہارِ خیال کیا۔ ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے پرنسپل سائنس داں ڈاکٹر اشوک یادو نے ملک میں ہینگ کی کاشت کے وسیع امکانات اور اس کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف جاری اقدامات کے تحت ہینگ کی کاشت میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرگل خطے میں روزگار اور ذرائع معاش کے مواقع کو مستحکم بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلتوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
دوسری نشست کی صدارت سی ایس آئی آر۔این آئی ایس سی پی آر کے سائنس داں ڈاکٹر مکل باجپئی نے کی، جس کا موضوع مالی معاونت کے مواقع اور مقامی ضروریات کی نشاندہی تھا۔ اس نشست میں نابارڈ کے ضلعی ترقیاتی مشیر جناب انوب سیٹن پلجور، یونیورسٹی آف لداخ کی ڈاکٹر جگمیت یانگچن، کرشی وگیان کیندر، کرگل کی سینئر سائنس داں اور سربراہ ڈاکٹر نسرین ایف۔ کاچو، آئی آئی ٹی جموں کے آؤٹ ریچ اور ہنرمندی کی ترقی کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر سمیر کمار شرما پچالا، گورنمنٹ ڈگری کالج، دراس کے پرنسپل محمد ناصر الاسلام مہدی شبانی، شعبۂ طبیعیات کے اسسٹنٹ پروفیسر جناب رضوان علی اور پروفیسر سجاد حسین نے اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین نے ادارہ جاتی معاونت کے نظام، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی حکمتِ عملی، مالی امداد کے امکانات اور پائیدار دیہی ترقی کے لیے باہمی اشتراک کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔
اجلاس کا اختتام سائنس دانوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان ایک باہمی مشاورتی نشست پر ہوا، جس میں شرکاء نے ایسے متعدد ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلت کی ضرورت ہے۔ اس دوران جن اہم موضوعات پر زور دیا گیا، ان میں پائیدار زراعت، محفوظ کاشتکاری، ادویاتی اور خوشبودار پودوں کی کاشت، غذائی اشیا کی پراسیسنگ اور قدر افزائی، قابلِ تجدید توانائی، آبی وسائل کا انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، دیہی صنعت و کاروبار، ماحول دوست سیاحت، ہنرمندی کی ترقی اور ذرائعِ معاش میں بہتری شامل تھے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادارہ جاتی اشتراک کو مزید مضبوط بنایا جائے اور خطے کی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، آزمائشی منصوبے اور استعداد سازی کے پروگرام وسیع پیمانے پر فروغ دیے جائیں۔
اجلاس میں ہونے والی تفصیلی گفتگو سے متعدد اہم سفارشات سامنے آئیں، جو مستقبل میں سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں، تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں اور مقامی برادریوں کے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس اجلاس کے ذریعے متعلقہ فریقوں میں سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی ٹیکنالوجیوں اور کرگل کو درپیش ترقیاتی مسائل کے حل میں ان کے ممکنہ استعمال کے بارے میں بھی آگہی میں اضافہ ہوا۔ اس تقریب کے کامیاب انعقاد میں ڈاکٹر یوگیش سمن، ڈاکٹر شیو نارائن نشاد، ڈاکٹر این۔ کے۔ پرسانّا، محترمہ میتالی بھارتی، ڈاکٹر مکل باجپئی، ڈاکٹر پی۔ کے۔ سنگھ، جناب آشیش چوہان، جناب گلزار حسین، جناب سید علی موسوی، جناب نادر الدین، محترمہ جیوتی کول اور دیگر ٹیم ارکان نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ اجلاس سی ایس آئی آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (این آئی ایس سی پی آر) اور اُنّت بھارت ابھیان (یو بی اے) کے درمیان تعاون کا ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور شواہد پر مبنی پالیسی تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترویج اور سائنس پر مبنی دیہی ترقی کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کو مزید تقویت ملی۔ اجلاس میں ہونے والی مشاورت نے تمام شریک اداروں کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ کرگل خطے کی پائیدار، جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے باہمی تعاون اور مضبوط شراکت داری کو مستقبل میں بھی فروغ دیتے رہیں گے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-103
(रिलीज़ आईडी: 2285951)
आगंतुक पटल : 9