صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 این ایچ اے کی قومی جائزہ میٹنگ (چنتن شیوِر) میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے اگلے مرحلے کے لیے مرکز اور ریاستوں نے لائحۂ عمل طے کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت جدید طب اور آیوش دونوں کو مضبوط بنا کر ایک مربوط صحتی نظام تشکیل دے رہی ہے: جناب پرتاپراؤ جادھو

"آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت 1.91 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کا کیشلیس علاج فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت 94 کروڑ سے زیادہ آبھا نمبرز بنائے جا چکے ہیں اور 100 کروڑ سے زائد صحتی ریکارڈز آپس میں منسلک کیے جا چکے ہیں "

قومی صحتی اتھارٹی نے معیاری نظام اور پروگرام کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے سالانہ رپورٹ اور رہنما خطوط کے مجموعے جاری کیے

کلینیکل گورننس، کلیمز(دعووں) مینجمنٹ اور پروگرام کی شفافیت و دیانت داری کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، تاکہ کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ ہو

آروگیہ سیتو 2.0، آیوشمان ایپ اور نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج  سمیت نئی ڈیجیٹل صحتی پہلوں کے ذریعے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن سے منسلک خدمات کو پورے صحتی نظام میں تیزی سے فروغ دیا جائے گا

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اعداد و شمار پر مبنی گورننس کے ذریعے شواہد پر مبنی صحتی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 17 JUL 2026 5:33PM by PIB Delhi

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومتِ ہند کے تحت قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) نے آج مدھیہ پردیش بھون، نئی دہلی میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ قومی جائزہ میٹنگ (چنتن شیوِر) کا آغاز کیا۔اس قومی جائزہ میٹنگ کا افتتاح آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت، جناب پرتاپراؤ جادھو نے کیا۔

 

افتتاحی اجلاس کے دوران جناب پرتاپراؤ جادھو نے قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ اس موقع پر انہوں نے پروگرام کے مؤثر نفاذ، عملی کارکردگی میں بہتری اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں زیادہ یکسانیت کو فروغ دینے کے مقصد سے ضلع نفاذی یونٹ (ڈی آئی یو)، مستفیدین کو بااختیار بنانے (بی ای) اور اسپتال ایمپینلمنٹ ماڈیول (ایچ ای ایم) سے متعلق رہنما خطوط کے جامع مجموعے (کمپینڈیم) کا بھی اجرا کیا۔

 

اس اجلاس میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے)، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد حکومت کی اہم صحتی اسکیموں کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا، نفاذ سے متعلق ترجیحات کا تعین کرنا اور اختراع، ڈیجیٹل تبدیلی اور مرکز و ریاستوں کے درمیان مضبوط اشتراک کے ذریعے صحتی اصلاحات کے اگلے مرحلے کے لیے لائحۂ عمل تیار کرنا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب پرتاپراؤ جادھو نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ اس جائزہ اجلاس کے انعقاد پر قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کی ستائش کی۔ انہوں نے ملک بھر سے آئے ہوئے صحت شعبے کی قیادت کے نمائندوں سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس اجتماعی طور پر پیش رفت کا جائزہ لینے، بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کرنے اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

 

جناب پرتاپراؤ جادھو نے کہا کہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کا تصور انتیودیہ کے جذبے کے تحت کیا گیا، تاکہ ملک کے ہر فرد کو معیاری صحت خدمات تک ترجیحی بنیاد پر رسائی حاصل ہو، اور اس اسکیم کے تحت فراہم کیا جانے والا ہر کیشلیس علاج اسی عزم کی توثیق کرتا ہے۔

انہوں نے گزشتہ سات برسوں میں اس اسکیم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے بی پی ایم-جے اے وائی کے تحت ملک بھر میں 37 ہزار سے زائد منظور شدہ (ایمپینلڈ) اسپتالوں کے ذریعے 1.91 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا کیشلیس علاج فراہم کیا جا چکا ہے، جس کے باعث یہ دنیا کی سب سے بڑی صحت تحفظ کی اسکیم بن گئی ہے۔

ڈیجیٹل صحت کے میدان میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے جناب جادھو نے کہا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) نے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صحتی نظام کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیاد فراہم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 94 کروڑ سے زائد آبھا   نمبرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 100 کروڑ سے زیادہ صحتی ریکارڈز آپس میں منسلک کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اے بی ڈی ایم 2.0 کی کامیابی کا پیمانہ صرف ڈیجیٹل ریکارڈز کی تعداد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ یہ عوام کی روزمرہ زندگی میں کتنا مثبت فرق پیدا کرتا ہے، جیسے مختلف ریاستوں میں صحتی ریکارڈز تک بلا رکاوٹ رسائی، قریبی صحتی مراکز کی آسان تلاش اور اے بی پی ایم-جے اے وائی کے ساتھ مزید مؤثر انضمام، جو صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل انڈیا کی انقلابی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔

جناب جادھو نے اے بی پی ایم-جے اے وائی اور اے بی ڈی ایم کے درمیان مزید بہتر ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ نفاذ کے عمل میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں اور صحت سے متعلق تمام اقدامات میں غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور طبقات کو ترجیح دیتے رہیں۔

انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مشترکہ کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب مل کر ایسا مستقبل سے ہم آہنگ، شہری مرکزیت پر مبنی اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار صحتی نظام تشکیل دیں گے، جس کی بنیاد رسائی، جوابدہی اور ہمدردی پر ہوگی، اور جو وکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے کہا کہ اکتوبر 2025 سے منعقد کی جا رہی قومی جائزہ میٹنگ اور چنتن شیوِر کی سلسلہ وار نشستیں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہیں، جہاں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے، بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور نفاذ سے متعلق چیلنجوں پر غور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے متنوع جغرافیائی، آبادیاتی اور سماجی و ثقافتی حالات کے باوجود ان دونوں اہم قومی اسکیموں کے مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچے نے پورے ہندوستان میں ان کے مؤثر اور ہموار نفاذ کو ممکن بنایا ہے۔

 

ڈاکٹر سنیل کمار برنوال نے صحت کے شعبے میں ہندوستان کے ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کی انقلابی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی صحت کی اسکیم آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کا کھلا، باہم مربوط (انٹرآپریبل) اور توسیع پذیر ڈیجیٹل ڈھانچہ ایک ایسے صحتی نظام کی مضبوط بنیاد رکھ رہا ہے جو زیادہ قابلِ رسائی، مؤثر اور شہری مرکزیت پر مبنی ہو۔

انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے ریاستی سطح پر ڈیٹا تجزیے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ صحتی خدمات اور پروگراموں کے مؤثر نفاذ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے جدید آیوشمان ایپ، آروگیہ سیتو 2.0، آیوشمان سارتھی اور نیشنل ڈرگ رجسٹری جیسی شہری مرکزیت پر مبنی ڈیجیٹل پہلوں کا بھی ذکر کیا، جو عوام کی ڈیجیٹل صحتی خدمات تک رسائی کو مزید آسان بنا رہی ہیں۔

ڈاکٹر برنوال نے مزید کہا کہ پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت جمع ہونے والا وسیع ڈیٹا مستقبل میں ایک اہم قومی صحتی اشاریہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مختلف ریاستوں، جغرافیائی علاقوں اور آبادی کے مختلف طبقات میں بیماریوں کے رجحانات کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں، جو زیادہ مؤثر عوامی صحت مداخلتوں اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوں گی۔

اجلاس میں گزشتہ چنتن شیوِر کے بعد آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران نفاذ کی ترجیحات، پروگرام کی کارکردگی، مستفیدین کی کوریج، خدمات کی فراہمی، کلیمز مینجمنٹ اور اسپتالوں کے ایمپینلمنٹ سمیت مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں گزشتہ جائزہ میٹنگ میں طے کیے گئے قابلِ عمل نکات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور عملی کارکردگی، ادارہ جاتی نظام اور مستفیدین تک خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جائزے کے دوران ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن میں اہل مستفیدین کی مکمل شمولیت، آیوشمان کارڈ کی تیاری، آشا کارکنان، آنگن واڑی کارکنان اور آنگن واڑی معاونین کا اندراج، آیوشمان وے وندنا یوجنا کے تیز رفتار نفاذ اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینا شامل ہے۔

اجلاس میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران اہم اقدامات کی پیش رفت، ڈیجیٹل صحت خدمات کو اپنانے اور ڈیجیٹل صحتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ جائزے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاستوں کے ساتھ قریبی تعاون اور باہم مربوط (انٹرآپریبل) ڈیجیٹل صحتی حلوں کے فروغ کے ذریعے اے بی ڈی ایم کے نفاذ میں مزید تیزی لائی جائے۔

غور و خوض کے دوران آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد پالیسی اور عملی اصلاحات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں منتخب طبی طریقۂ علاج کے لیے پیشگی منظوری (پری آتھرائزیشن) کے مجوزہ نظام کا جائزہ لیا گیا، تاکہ کلینیکل گورننس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور بروقت فیصلے ممکن ہوں۔

اجلاس میں اے بی پی ایم-جے اے وائی کے ٹیکنالوجی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ آٹو ایڈجوڈیکیشن(خود جانچ) انجن میں حالیہ پیش رفت پر غور کیا گیا، جس کا مقصد کلیمز کی جانچ اور منظوری کے عمل میں یکسانیت، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اجلاس میں دھوکہ دہی کی روک تھام کی قومی یونٹ (این اے ایف یو) کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جو خطرے پر مبنی نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی دھوکہ کی نشاندہی کے نظام کے ذریعے پروگرام کی شفافیت اور دیانت داری کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

 

عملی کارکردگی اور نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اجلاس میں مستفیدین کی شناخت، اسپتالوں کے ایمپینلمنٹ، لین دین (ٹرانزیکشن) کے انتظام، صارفین کے انتظامی نظام اور پروگرام سے متعلق تجزیاتی آئی ٹی ایپلی کیشنز کو مزید بہتر بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) اور ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کے پائلٹ منصوبے کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد اسپتالوں اور ادائیگی کرنے والے اداروں کے درمیان صحتی کلیمز کے معیاری اور باہم مربوط ڈیجیٹل تبادلے کو ممکن بنانا ہے۔

جائزہ اجلاس میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کیے جا رہے مختلف اشتراکی اقدامات، جن میں پی ایم-راحت اور حکومت کی دیگر صحتی اسکیمیں شامل ہیں، کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مشترکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے مختلف اسکیموں میں معیاری نظام، باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) اور صحتی خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو فروغ دیا جائے۔

اجلاس میں 29 جون 2026 کو قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے شروع کی گئی ڈیجیٹل صحتی پہلوں کے نفاذ کے لائحۂ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات میں آروگیہ سیتو 2.0، آیوشمان ایپ، آیوشمان سارتھی واٹس ایپ چیٹ بوٹ، ای-سشروت کلینک، بھارت ہیلتھ ٹرمینالوجی سروس (بی ایچ ٹی ایس)، کامن لوئنک کوڈز فار انڈیا (سی ایل سی آئی)، ڈرگ رجسٹری، یونیفائیڈ ہیلتھ انٹرفیس (یو ایچ آئی) اور نیشنل ہیلتھ کلیمز ایکسچینج (این ایچ سی ایکس) شامل ہیں۔ تبادلۂ خیال کے دوران ان خدمات کے زیادہ سے زیادہ استعمال، باہمی مطابقت کو مضبوط بنانے اور شہری مرکزیت پر مبنی ڈیجیٹل صحتی سہولیات کی دستیابی میں توسیع پر زور دیا گیا۔

چنتن شیوِر کے پہلے دن کا اختتام آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی کی جانب سے کلینیکل ڈسیژن سپورٹ سسٹم (سی ڈی ایس ایس) کے نفاذ پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن کے ساتھ ہوا، جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) شواہد پر مبنی طبی فیصلوں میں معاونت اور صحتی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں کس طرح اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

چنتن شیوِر کا دوسرا دن 18 جولائی 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں صحتی مالیات، پروگرام کے نفاذ، ڈیجیٹل صحتی خدمات کے فروغ، ڈیٹا تجزیے، اختراع اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) اور آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت بہترین طریقۂ کار سے متعلق مزید تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔

************
 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :94  )


(रिलीज़ आईडी: 2285916) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil