صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پی جی آئی ایم ای آر، چنڈی گڑھ میں جدید ترین مدر اینڈ چائلڈ سینٹر اور ایڈوانسڈ نیورو سائنسز سینٹر کا افتتاح کیا
وزیر اعظم نے پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت پی جی آئی ایم ای آر میں 150 بستروں پر مشتمل جدید ترین کریٹیکل کیئر بلاک کا سنگِ بنیاد بھی رکھا
وزیر اعظم نے کہا کہ بارہ سال قبل ہم نے یہ عزم کیا تھا کہ کوئی بھی شہری صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار نہ ہو اور معیاری علاج مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔ گزشتہ بارہ برسوں کی کامیابیاں اسی عزم کا نتیجہ ہیں
انہوں نے کہا کہ 2014 سے اب تک 15 نئے ایمس منظور کیے گئے ہیں، ملک بھر میں سینکڑوں نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے ہیں اور کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی اسپتالوں کو مزید بہتر بنایا گیا ہے
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ٹی بی کے علاج کی کوریج اب 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی آئی ہے
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے کہا کہ قومی صحت پالیسی 2017 نے ایک جامع، ہمہ گیر اور سب کو شامل کرنے والے صحت نظام کی بنیاد رکھی، جس میں بیماریوں کی روک تھام، صحت کے فروغ، علاج، بحالی اور آخری مرحلے کی نگہداشت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندر ملک کے 140 کروڑ شہریوں کے لیے صحت خدمات کے پہلے رابطہ مرکز کے طور پر ابھرے ہیں، جو نچلی سطح پر معیاری بنیادی صحت خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارم کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جو ڈیجیٹل جدت کے ذریعے صحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں بہتری لا رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 5:48PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج یہاں پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی ایم ای آر)، چنڈی گڑھ میں جدید ترین ماں اور بچے کے مرکز اور جدید ترین اعصابی علوم مرکز (نیوروسائنس سینٹر) کا افتتاح کیا۔انہوں نے پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت پی جی آئی ایم ای آر، چنڈی گڑھ میں 150 بستروں پر مشتمل جدید ترین انتہائی نگہداشت مرکز کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اس موقع پر ان کے ساتھ پنجاب کے گورنر اور مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ کے منتظم جناب گلاب چند کٹاریہ، مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا، مرکزی وزیر ریلوے جناب اشونی ویشنو اور چنڈی گڑھ سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ جناب منیش تیواری بھی موجود تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی جی آئی ایم ای آر میں جدید صحت سہولیات کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھے جانے سے لاکھوں لوگوں کے لیے معیاری صحت خدمات تک رسائی مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے 2015 میں پی جی آئی ایم ای آر کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے گزشتہ دہائی کے دوران ادارے کی صلاحیتوں میں ہونے والی نمایاں توسیع کی ستائش کی۔ انہوں نے پی جی آئی ایم ای آر کی انتظامیہ، فیکلٹی اور نوجوان ڈاکٹروں کو ان کی وقف خدمات کے لیے مبارکباد بھی دی۔
صفائی اور عوامی صحت کے درمیان گہرے تعلق پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’حکومت نے صفائی کو عوامی تحریک بنانے کے وژن کے ساتھ سوچھ بھارت مشن کا آغاز کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کروڑوں بیت الخلاؤں کی تعمیر، کھلے میں رفع حاجت کا خاتمہ، ملک گیر صفائی مہمات اور صفائی کو طرزِ زندگی بنانے کی کوششوں نے عوامی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوچھ سرویکشن کی درجہ بندیوں نے چنڈی گڑھ جیسے شہروں کو اپنی صفائی کے معیار کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے حوصلہ دیا ہے۔
وزیر اعظم نے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر جناب اندر جیت سنگھ سدھو کی بھی تعریف کی، جنہوں نے اپنی ’’بروم واریئر‘‘ مہم کے ذریعے شہریوں کو صفائی کے لیے ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کے فروغ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے اس سال جناب سدھو کو پدم ایوارڈ سے نوازا ہے۔

عوامی شمولیت کی مسلسل اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’صفائی ایک دن کی سرگرمی نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘ انہوں نے ’’سوچھتا سے سواگت‘‘ مہم کے تحت منعقد کی گئی خصوصی صفائی مہم کی تعریف کی اور چنڈی گڑھ کے عوام کو بھرپور جوش و خروش سے شرکت کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہمات بیماریوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت کے صحت کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے کووڈ-19 وبا کے دوران دنیا بھر میں پیدا ہونے والی تشویش کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایسا ملک بن کر ابھرا جو مدد کا طلب گار نہیں بلکہ دنیا کے ممالک کو مدد فراہم کرنے والا ملک تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت طبی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’بارہ سال قبل ہم نے یہ عزم کیا تھا کہ کوئی بھی شہری صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث پریشان نہ ہو اور معیاری علاج مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔ گزشتہ بارہ برسوں کی کامیابیاں اسی عزم کا نتیجہ ہیں۔‘‘
صحت کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’2014 سے اب تک 15 نئے ایمس منظور کیے گئے ہیں، ملک بھر میں سینکڑوں نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے ہیں، اور کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی اسپتالوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے چنڈی گڑھ میں 2022 میں افتتاح کیے گئے ہومی بھابھا کینسر اسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اب ہزاروں مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کو بھی یکساں ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت ملک بھر میں کریٹیکل کیئر بلاکس، مربوط عوامی صحت لیبارٹریاں اور عوامی صحت یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی، شہری اور قبائلی علاقوں میں 1.75 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندر اب فعال ہیں، جہاں جامع بنیادی صحت خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں بارہ اقسام کی صحت خدمات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مراکز کے ذریعے کروڑوں شہریوں کی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے لیے جانچ کی جا چکی ہے۔

صحت کی خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ای سنجیونی ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم نے ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت تک رسائی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب تک اس پلیٹ فارم کے ذریعے 48 کروڑ سے زائد ٹیلی میڈیسن مشاورتیں فراہم کی جا چکی ہیں، جس سے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی معیاری طبی مشورے حاصل کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صحت خدمات کے پھیلاؤ نے ماں اور بچے کی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور ملک میں اب 90 فیصد سے زائد زچگیاں ادارہ جاتی مراکز میں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زچگی کے دوران اموات میں 86 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ بچوں کی اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پوشن ابھیان، مشن اندردھنش، یوگا، ایچ پی وی ویکسینیشن اور یو-وِن پلیٹ فارم جیسی مہمات بروقت احتیاطی اقدامات کے ذریعے کروڑوں شہریوں کی حفظان صحت کو یقینی بنا یا جارہا ہے۔
وزیر اعظم نے تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کو عوامی شراکت داری کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے، تاکہ آگاہی، بروقت اسکریننگ اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹی بی کے علاج کی کوریج اب 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے خاص طور پر غریب، متوسط طبقے اور خواتین کو فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ اکثر خواتین اپنے خاندان کی ترجیحات کو اپنی صحت پر فوقیت دیتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’بھارت میں صحت کی سہولت اب کوئی مراعات یافتہ حق نہیں رہی، بلکہ یہ ہر عام شہری کا حق بنتی جا رہی ہے۔‘‘
طبی تعلیم کے شعبے میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب محدود تعداد میں میڈیکل کالجوں اور نشستوں کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کا خواب دور کی بات محسوس ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے اور ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ طبی نشستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ پی جی آئی ایم ای آر چنڈی گڑھ میں ایم بی بی ایس کالج کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے، جہاں جلد داخلے شروع ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے باصلاحیت نوجوانوں کو ملک کے ممتاز طبی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور بھارت کی صحت افرادی قوت مزید مضبوط ہوگی۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں صحت کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ ’’قومی صحت پالیسی، 2017 نے ایک جامع، ہمہ گیر اور سب کو شامل کرنے والے صحت نظام کی بنیاد رکھی، جس میں احتیاطی صحت نگہداشت، صحت کے فروغ، علاج، بحالی اور آخری مرحلے کی نگہداشت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندر ملک کے 140 کروڑ شہریوں کے لیے صحت خدمات کے پہلے رابطہ مرکز کے طور پر ابھرے ہیں، جو نچلی سطح پر معیاری بنیادی صحت خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا رہے ہیں۔
مرکزی وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے بنیادی صحت خدمات کو ثانوی اور اعلیٰ درجے کی صحت خدمات سے مؤثر انداز میں جوڑتے ہوئے ایک مربوط طریقۂ کار اختیار کیا ہے، تاکہ ہر شہری کو مسلسل اور بہتر صحت سہولیات حاصل ہو سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 23 ایمس کو منظوری دی جا چکی ہے، جو مختلف مراحل میں ترقی کر رہے ہیں۔ اس سے معیاری اعلیٰ درجے کی صحت خدمات اور طبی تعلیم تک رسائی میں نمایاں توسیع ہو رہی ہے۔
طبی تعلیم کے شعبے میں توسیع پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد 2014 میں 387 سے بڑھ کر آج 818 ہو گئی ہے، جبکہ انڈر گریجویٹ طبی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 1.38 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 75,000 اضافی انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طبی نشستیں قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جن میں سے 25,000 نشستیں پہلے ہی شامل کی جا چکی ہیں۔
جناب نڈا نے کہا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن ( اے بی ڈی ایم) تیزی سے دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے، جو ڈیجیٹل جدت کے ذریعے صحت خدمات کی فراہمی کے نظام میں تبدیلی لا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 90 کروڑ آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ (آبھا) کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں، جس سے شہری اپنے ڈیجیٹل صحت ریکارڈ کو محفوظ طریقے سے برقرار رکھنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔
قوم کے نام وقف کی جانے والی نئی صحت سہولیات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ 300 بستروں پر مشتمل جدید ترین ایڈوانسڈ نیورو سائنسز سینٹر بھارت کے اعصابی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1967 سے تقریباً پانچ دہائیوں تک پی جی آئی ایم ای آر میں نیورولوجی اور نیورو سرجری کے لیے صرف 25 بستروں کی سہولت موجود تھی، اس لیے یہ نیا مرکز ادارے کی صحت خدمات کی صلاحیت میں ایک انقلابی اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 440 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ مرکز نیورولوجی، نیورو سرجری اور نیورو کریٹیکل کیئر کی جامع خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرے گا، جس سے جدید اعصابی علاج تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایڈوانسڈ مدر اینڈ چائلڈ سینٹر ملک کی خواتین اور بچوں کے لیے جدید ترین سہولیات میں سے ایک ہے، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے جامع اور خصوصی طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پس منظر:
ایڈوانسڈ مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کو زیادہ خطرے والی حاملہ خواتین، انتہائی نگہداشت کے محتاج نومولود بچوں اور خصوصی علاج کی ضرورت رکھنے والے بچوں کے لیے جامع اعلیٰ درجے کی صحت خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ 300 بستروں اور جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ یہ مرکز ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا اور خطے کے ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچائے گا۔
ایڈوانسڈ نیورو سائنسز سینٹر ایک ہی چھت کے نیچے نیورولوجی، نیورو سرجری، نیورو کریٹیکل کیئر اور جدید تشخیصی سہولیات فراہم کرے گا۔ یہ پیچیدہ اعصابی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو بروقت اور عالمی معیار کا علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعصابی علوم کے شعبے میں طبی تحقیق، تعلیم اور تربیت کو بھی بہتر بنائے گا۔
پی جی آئی ایم ای آر کا کریٹیکل کیئر بلاک ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، انتہائی نگہداشت کی خدمات اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا، جبکہ خطے کے مجموعی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بنائے گا۔
*************
ش ح ۔ ع و۔ م الف
U. No.92
(रिलीज़ आईडी: 2285861)
आगंतुक पटल : 15